پاکستان سے محبت کون کرتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

usman afridiپاکستان سے محبت کون کرتا ہے؟ کوئی ایک آدھ ہے ؟پاکستان جب سے بنا ہے 69 سال ہو گئے ہیں اور محبت کرنے والے کون ہیں اور کدھر ہیں؟ ان 69 سالوں میں ایسے لوگ بہت کم دیکھنے کو ملے جنہوں نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا ہو یا پاکستان کے جھنڈے کو آگ لگائی ہو یا نفرت آمیز لہجے میں بولا ہو یا پھر پاکستان کو گالی دی ہو ۔ جب بھی 14 اگست آتا ہے 23 مارچ آتا ہے تو سب چاہے سندھی ہوں ،بلوچی ہوں، پنجابی ہوں یا پختون سب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔سیاسی لوگ بھی سب کے سب پاکستان سے محبت کے دعوے کرتے ہیں وہ سب سیاسی جماعتیں جن کو تھوڑی بہت ناراضگی ہے وہ بھی پاکستان سے محبت کی باتیں کرتی ہیں وہ نظام سے تو نفرت کرتی ہیں لیکن پاکستان سے نہیں ۔ فرقوں کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو سب خود کو مسلمان کہتے ہیں اور پاکستان کو ایک مقدس ترین ملک قرار دیتے ہیں مدینہ ثانیہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اس کا رمضان المبارک میں وجود میں آنا ایک معجزہ سمجھتے ہیں اور پاکستان قیامت تک رہے گا انشاءاللہ کی دعا مانگتے ہیں ۔ اس طرح سکھ ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی۔ لیکن پھر بھی مجھے کیوں کوئی نظر نہیں آتا کہ پاکستان سے محبت کرتا ہو تو پھر کیا ہو سکتا ہے شاید کہ میں اندھا ہوں ۔ وہ سب پاکستانی عوام جو اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے لیے پھرتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں وہ سب پاکستان سے محبت نہیں کرتے کیا؟ ؟ میں کبھی ایسا نہیں کہوں گا مجھے کسی پہ کوئی شک نہیں نہ میں کسی کو غدار کہو ں گا۔ میں کون ہوں کہ کسی پہ شک کروں؟ لیکن ایک چیز جو پچھلے کافی عرصہ سے میں محسوس کرتا ہو ںوہ یہ کہ جب میں سوچتا ہوں تو پھر مجھے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ایک یتیم ملک ہے ایک لاوارث ملک ہے ایک ضعیف ملک ہے۔ ضعیف پتہ ہے کیسے ؟؟ کبھی ضعیف بڈھے کو دیکھا ہے جس کو اس کے گھر والے کسی بھی مشکل وقت میں چھوڑ سکتے ہیں جہاں پہ وہ کام کرتا ہو ادھر سے فارغ کر سکتے ہیں اس کو سب بوجھ سمجھتے ہیں ۔ تو کیا کوئی پاکستان کے ساتھ ایسا کرے گا ؟۔پاکستان سے محبت کرنے والے زیادہ ہیں اور پاکستان کی خاطر دوسروں کو غدار کہنے والے اور جان لینے والے زیادہ ہیں ۔ پاکستان ہماری جان ہے لیکن پھر بھی وہ بات جو میرے ذہن میں آتی ہے کافی عرصہ سے اللہ کرے وہ غلط ہو وہ جھوٹ ہو۔ لیکن پھر بھی میرے بھائی مجھے معاف کرنا میں وہ بات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ناراض نہ ہونا اور ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ کیا یہ بات جھوٹ ہے تو پھر سمجھیں کہ انشاءاللہ پاکستان کو کچھ نہیں ہونے والا۔
بات یہ ہے کہ ہم پاکستان سے محبت نہیں کرتے باقی سب سے کرتے ہیں ،صرف پاکستانیوں سے محبت نہیں کرتے باقی سب سے ہمیں محبت ہے ہمارے ملک میں بہت سے لوگ اگرچہ پاکستانی ہیں پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جانوں کی قربانی دی اور دے رہے ہیں لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہمیں پاکستان سے محبت زیادہ ہے یا افغانستان سے ۔ افغانستان سے محبت اور ہمدردی اپنی جگہ وہ ایک مسلمان ملک ہے اور ہمارے پختون قوم نسلاًافغانی ہے لیکن پھر بھی دیکھا جائے تو ہم پاکستانی ہیں۔ ہمارا جینا مرنا ادھر ہی ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ دو محبتوں میں گرفتار ہیں پاکستان سے بھی اور افغانستان سے بھی۔ اس طرح ایران سےمحبت کرنے والے کم نہیں ادھر حکومت تھوڑی غلطی کرتی ہے تو پھر ہمارے کچھ لوگ ایران کی محبت میں پاگل ہو جاتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور ان کے سامنے ایران کی تعریف کرو تو ان کو پاکستان کی تعریف سے زیادہ ایران کی تعریف سے خوشی ہوتی ہے ۔ ایران سے ہمدردی ضرور رکھیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں احتیاط سے کام لیا کریں۔ اس طرح مہاجر 69 سالوں کے بعد بھی خود کو مہاجر تصور کرتے ہیں انہوں نے قربانی دی ہے گھربار سب کچھ چھوڑ کر چلے آئے ہیں لیکن کیا ان کے بڑے بزرگوں نے اس لئے قربانیاں دی ہیں کہ پھر اگلی نسل ہر دوسری بات پہ پاکستان سے آزادی کی باتیں کرنے لگے کہ پاکستان میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ بلوچستان کے بھائی اپنی جگہ ناراض ہیں اس طرح ہمارے کچھ لوگوں کو پاکستان سے زیادہ سعودی عرب سے محبت ہے۔ پاکستان سے زیادہ ان کو سعودی عرب کا خیال ہوتا ہے۔سعودی عرب میں مقدس مقامات سے محبت اگرچہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن آل سعود سے نہیں ۔
اس طرح ہمارے کچھ لوگ ہمیشہ پاکستان میں مارشل لاء لانے والوں کی مدد کرتے ہیں ان کا ساتھ دیتے ہیں لیکن ترکی میں جب عوام فوج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ اس پر پھولے نہیں سماتے۔ پاکستان میں جو دہشتگردی ہوتی ہے اس میں بھارت کے ساتھ ساتھ بظاہر ہمارے مسلمان بھائی کہنے والے پڑوسی فرشتوں کا بھی ہاتھ ہے۔ اس فرقہ پرستی اور جنگ و جدل میں ان کا بھی کسی نہ کسی طرح سے ہاتھ ہے لیکن ادھر سنتا کون ہے اور ان کے بارے میں بولنا اتنا آسان نہیں۔ یہ لوگ پاکستان آرمی کو پاکستان کی حفاظت سے زیادہ ان کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ ہم اس معاشرے میں موجود ہیں کہ جہاں عوام تو ہندوستان سے دشمنی کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہمارا ایک سیاسی جماعت کا وزیراعلیٰ امرتسر میں پاکستانی پنجاب اور ہندوستانی پنجاب کے صدیوں سے روایت اور رشتوں کی محبتوں کی بات کرتا ہے ۔اگر یہی بات ہے تو پھر آزادی کیوں لی؟ ایک انسان ہونے کے ناطے ہمیں سب کے دکھ میں برابر کا شریک ہونا چاہیے ۔ چاہے فلسطین ہو یا کوئی بھی اور ملک مسلمان ہو یا غیر مسلم دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی سے کوئی زیادتی ہوتی ہے ہمیں ہر طرح سے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ لیکن جو لوگ دنیا کے دوسرے ملکوں میں لوگوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی اور ان کے قتل پہ روتے ہیں، جلسے کرتے ہیں سڑکیں بند کرتے ہیں اگر یہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے تو پھر اسلامک یونیورسٹی میں بم دھماکہ ہو یا لاہور میں بچوں کے پارک پہ حملہ ہو، کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی ہلاکت یا دھماکے میں لوگوں کی شہادت ہو یا پھر پشاور میں کتنے لوگ شہید ہوئے ہیں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں روز لوگ قتل ہو رہے ہیں ۔ میرے بھائی کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ یہ لوگ بھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں، مسلمان ہیں، انسان ہیں، ہمارے اپنے ہیں ان کے قاتلوں کے خلاف کوئی تقریر کی یا کوئی جلسہ کیا ہو کبھی؟
اللہ کرے یہ میری ذاتی رائے غلط ثابت ہو جائے میرا اندازہ غلط ہو جائے ۔ آپ سب محب وطن پاکستانی عوام ہیں میں کسی کو غدار نہیں کہ رہا ہوں ۔ بس صرف اتنا کچھ جب محسوس ہوتا ہے تو لگتا ہے کہ پاکستان سے اور پاکستانیوں سے زیادہ دوسروں سے محبت ہے اور اللہ نہ کرے کہ ہم افغانستان، ایران، سعودی عرب ،ترکی امریکہ وغیرہ کی محبت میں اس حد تک جائیں کہ پاکستان پہ کوئی مشکل وقت آئےاور ضعیف بڈھے کی طرح اس کو چھوڑ دیں ۔ باقی دنیا سے ہمدردی ضرور رکھیں لیکن ہمدردی اور محبت میں فرق کیا کریں ۔ حکومت سے گلہ کیا کریں لیکن پاکستان ہماری ماں ہے اور اپنی ماں کو گالیاں دیتے ہوئے ذرا سوچا کریں اور جو لوگ دوسروں کے قبضے میں ہیں جیسے کشمیری عوام ان سے کبھی آزادی کی قیمت کے بارے میں پوچھ لیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایٹمی ملک میں تعلیمی صورتحال

Views All Time
Views All Time
906
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: