Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ذمہ دار کون؟؟؟

ذمہ دار کون؟؟؟
Print Friendly, PDF & Email

sohail-ishaq-langahموبائل فون آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت سمجھا جاتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ موبائل فون ایک نعمت سے کم نہیں ہاں اگر اس کا استعمال ٹھیک کیا جائے تب۔اگر اسی نعمت کو اگر غلط طریقے سے استعمال کیاجائے تو اس سے بڑی کوئی مصیبت ذہن میں نہیں آتی ۔
موبائل فون نے جہاں اپنو ں کو آپس میں ملایا وہیں اس نے اپنوں کو کوسوں دور بھی کیا ۔ ایک ایسا ہی واقعہ قارئین کے نذر کرنے جارہا ہوں ،جس کی وجہ سے تین ہنستے بستے گھر برباد ہوگئے ۔
یہ ایک حقیقی المناک واقعہ ہے جو کہ چارسدہ کے علاقے عمر زئی میں پیش آیا ۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک گھر کے نمبر پر رانگ کال آئی ۔ گھر میں موجو د عورت نے کال ریسیو کی تو آگے سے انجانی آواز سنائی دی۔ خاتون نے  رانگ نمبر کہہ کر کال ڈراپ کرکے موبائل رکھ دیا ۔ لیکن آگے سے رانگ کال کرنے والے نے عورت کی آواز سن کرخود کو قابومیں  نارکھ سکا اور کمینگی کی انتہا پر اتر آیا۔  بار بار اس نمبر پر کال کرنا شروع کردی ،کال کے ساتھ ساتھ اس نے نمبر پر میسجز کی بھرمار بھی کردی ۔جس میں جانو ! پلیز بات تو کرو وغیرہ وغیر ہ۔ عورت نے کوئی جواب نہ دیا اور ایسے ہی گھر کے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوگئی ۔ پھر اس نے اس چیز کو معمول کی طرح سمجھا ۔
گھر میں اس کی شکی اور جھگڑیلو ساس موجود تھی جوکہ روز اس کی بے عزتی کرانے یا جھگڑا کرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی ۔ اگلے دن اس رانگ نمبر کی کال آئی اور اس کی ساس نے کال ریسیو کی تو آگے سے مرد کی آواز سن کر خاموش ہوگئی۔، آگے سے اس اجنبی نے کہا ! جانو تم بات کیوں نہیں کرتی ،پلیز میری بات تو سن لو ۔ساس نے خاموشی سے سن کر کال ڈراپ کردی ۔
رات کو جب اس کا بیٹا گھر آیا تو اس نے اپنے بیٹے کو الگ بلا کر خوب کان بھرے اور کہا کہ تمہاری بیوی کے ناجائزتعلقات ہیں کسی اجنبی سے ۔ یہ سب سننے کے بعد عورت کا شوہر آگ بگولا ہوگیا اور اپنی جہالت کا بھرپور ثبوت دیتے ہوئے اپنی بیوی کو مارنا پیٹنا شروع کردیا ۔
تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد عورت کے بھائی کوکال کرکے بلوالیا اور اسے ماجرا بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور وہ تمام میسج دکھائے ،جس میں لکھا تھا جان! پلیز میری بات تو سن لو وغیرہ وغیرہ ۔ رہی سہی کسر ساس نے طعنے دے کر پوری کردی کہ ہم نے بات کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ۔اس نے تمھاری اور ہماری عزت خاک میں ملادی ۔
ان سب باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ، بھائی نے بھی بہن کی ایک نہ سنی اور 4 گولیاں اس کے سر میں داغ دیں جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی ۔اس طرح 6 بچوں کوماں کی جدائی برداشت کرنی پڑی اور6 بچے یتیم ہوگئے ۔
یہ سب خبرجب عورت کے بڑے بھائی کو معلوم ہوئی تو اس نے اپنی مدعیت میں اپنے بھائی ، عورت کے شوہر ،عورت کی ساس اور رانگ نمبر کے خلاف ایف۔آئی۔آر درج کروا دی ۔جب نمبر ٹریس کیا گیا اور ہسٹری نکلوائی گئی تو معلوم ہوا دو دن پہلے ہی بس اس کی کال آئی جوکہ چند سیکنڈز کی تھی ۔
ساری کہانی منظر عام پر آئی تو قاتل بھائی سر پٹختا رہا اور جیل میں ہی خود کشی کرلی ۔اس طرح اس کے 4 بچے بھی یتیم ہوگئے اور رانگ نمبر والا شخص بھی گرفتار ہوگیا ۔ اس طرح تین دن کے اندر 10 بچے یتیم ہوگئے اور 3 گھر اجڑ گئے ۔
میرا سوال اب آپ قارئین سے ہے کہ اس سب کی ذمہ داری کس پر جاتی ہے ؟
1 ۔ شکی ساس پر ؟
2 ۔شوہر پر ؟
3 ۔ غیرت مند بھائی پر ؟؟(جس نے بنا کچھ سوچے سمجھے اپنی ہی بہن کو موت کے گھاٹ اتا ردیا )۔
4 ۔ عدم برداشت کا  رویہ اس کا ذمہ دار ہے؟
5 ۔ ہمارےمعاشرے کا قصور ؟
یا وہ والدین جو اپنے بچوں کو موبائل لے کر تو دے دیتے ہیں پر ان سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گوچھ نہیں ہوتی اور نہ ہی اپنے بچوں کو ٹھیک سے ٹائم دیتے ہیں تاکہ ان کے اندر کسی اور سے بات کرنے کا من نہ کرے۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   انسانیت کا زوال فطری نہیں جبری ہے | شہسوار حسین

 

Views All Time
Views All Time
739
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: