Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کمانڈرکون؟؟شارق کمال یا مشتاق سکھیرا۔۔۔؟

by مئی 20, 2016 کالم
کمانڈرکون؟؟شارق کمال یا مشتاق سکھیرا۔۔۔؟
Print Friendly, PDF & Email

malik salmanجنوبی پنجاب کے ضلع بہاولنگر سے حکومتی جماعت کے ایم این اے کے ’’گن مین‘‘ اور دیگر زرخرید غلاموں کا ٹولہ رات کے اندھیرے میں شراب کے ساتھ ساتھ طاقتور ایم این اے کی ’’بیک پاور‘‘ کے نشے میں دھت جا رہا تھا کہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کی حفاظت کیلئے معمور پولیس ناکے پر تعینا ت اہلکاروں نے گاڑی روک کر چیک کرنا چاہا تو پروٹول کے عادی گن مین کو یہ بات اپنی شان کے خلاف گزری کہ وہ ایم این اے کاکار خاص ہو کر چیکنگ کروائے ، سیاسی کارندوں نے پولیس اہلکاروں کو غلیظ گالیوں کے ساتھ ساتھ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ایم این اے کی شفقت پر تعینات ایس ایچ او اور ڈی ایس پی نے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔لیکن جیسے ہی فرض شناس اور اصول پرست ڈی پی او کے علم میں یہ واقع آیاتو غیرت مند کمانڈر نے فوری پرچہ درج کرواکہ ایم این اے کے ڈیرے پر پناہ لیے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تو حکومتی ایم این اے کے طبع نازک پر یہ بات گراں گزری کہ حاکم وقت کے ڈیرے پر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ کیوں مارا ۔ایم این اے عالم داد لالیکانے اپنے کمانڈر(وزیراعظم)سے رابطہ کیا اور ڈی پی او کی اس گستاخی پر سبق سکھانے کی استداء کی تو سیاسی کمانڈر نے فوری طورآئی جی کو لالیکا کو خوش کرنے کا آرڈر دے دیا۔حکومتی آئی جی نے حکم کی بجاآوری لاتے ہوئے ڈی پی او کو ایم این اے سے معافی یا صوبہ بدری کا آپشن دے دیا۔پولیس کے صوبائی کمانڈر کے آرڈر سن کہ ڈی پی او حیران تھا کہ یہ کیسا کمانڈر ہے جو اپنے ہی سپاہی کو ہرانے کی بات کر رہا ہے۔ایک لمحے کی توقف کے بعد شارق کمال نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ غلامی کی بجائے صوبہ بدری کو ترجیح دے گا۔مشتاق سکھیرا کے کریڈٹ میں ابھی تک پولیس کیلئے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں ہے۔صوبائی کمانڈر کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے چھوٹو گینگ نے پولیس کو تگنی ناچ نچایا اور قیمتی جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ پولیس کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ڈسٹرکٹ کمانڈر شارق کمال نے اپنے سپاہی کے ساتھ زیادتی پر ایکشن لیکر کمانڈر ہونے کا حق ادا کردیا۔اسی طرح ایم این اے کے کمانڈر نے اپنے سیاسی ورکر کی قانون شکنی کے باوجود اسکی ناجائز خواہش کو پورا کیا جبکہ پولیس کے صوبائی کمانڈرکی شکست خوردہ اور غلامی پسندی کا یہ عالم ہے کہ اپنے ہی ڈی پی اور کو فرض شناسی پر شاباش دینے کی بجائے صوبہ بدر کردیا۔
حکومتی بے رخی اور انتقامی کاروائی اپنی جگہ مگر اہلیان بہاولنگر نے جس فقید المثال پروٹوکول اور محبت کے ساتھ اپنے ہر دل عزیز ڈی پی او کو الوداع کیاوہ قابل رشک تھا۔سنئیراینکرراؤف کلاسراء اور معید پیرزادہ سے لیکر سنیئر کرائم رپورٹر فرحان علی خان ،حسنین چوہدری اور فیاض ملک سمیت صحافیوں کی اکثریت گورنمنٹ کی اس انتقامی کاروائی پر سراپا احتجاج کرتے ہوئے مظلوم شارق کمال کی آوازبن گئے۔آج ایک اصول پرست پولیس آفیسر کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر عوام اور میڈیا تو کھل کہ احتجاج کررہاہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی زبان گنگ ہے ۔پولیس افسران و اہلکاراس زیادتی پر احتجاج تو درکنارمذمت کرنے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ بھی نہ کر سکے۔
میڈیا جسے پولیس والے ہمیشہ اپنا دشمن گردانتے ہیں آج وہی میڈیا ایک پولیس آفیسر کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر حکمران جماعت کے انتقامی رویے کی شدید مخالفت کر کے بتا رہا ہے کہ میڈیا ہر مظلوم کی آوازہے ہم پولیس کے خلاف نہیں صرف حق اور سچ کے ساتھ ہیں۔
غریب عوام جسے اپنے جائز کام کیلئے بھی تھانے جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے ۔عوام جسے اعلیٰ پولیس آفیسر حقیر سمجھتے ہیں ۔ناکوں اور تھانوں پر تعینا ت اہلکاروں کی نظر ہمیشہ ان کی جیب پر ہوتی ہے۔وہ مظلوم عوام جسے لالیکا جیسے وڈیروں کی ایماء پر پولیس ظلم و زیادتی کا نشانہ بناتے نہیں تھکتے۔آج وہی عوام بہاولنگر سے ہارون آباد سڑکیں بلاک کر کے اور کراچی سے خیبر تک پاکستان کا ہر باشور شہری گلی چوراہوں اور سوشل میڈیا پر شارق کمال صدیقی کی آوازبن کہ حکومتی کی انتقامی حرکت پر سراپا احتجاج ہیں۔
محکمہ پولیس کو اپنے رویے میں اصلاح کی ضرورت ہے ۔پولیس کے ہر جوان کیلئے پیغام ہے کہ وہ شارق کمال کو رول ماڈل بناتے ہوئے وڈیروں کے تلوے چاٹنے کی بجائے عوام کی خدمت کریں تو پھر عوام آپ کو سرآنکھوں پر بٹھائے گی جیسے انھوں نے شارق کمال کو الوداع کرتے ہوئے محبتوں کے پھول نچھاور کیے۔ورنہ آپ ان سیاستدانوں کی جتنی مرضی جی حضوری کرلیں ذرا سے حرف انکار پر آپ کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔
پولیس سیاسی مداخلت کی ذمہ دار خود ہے۔جب بڑے عہدوں کیلئے وزراء، ڈی پی او اورڈی ایس پی کیلئے ایم این اے اور ایم پی اے ، ایس ایچ اوا ورچوکی انچارج کیلئے ناظم کے ڈیروں کا طواف اور جی حضوری کریں گے تو پھر اس سسٹم میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔اگر پولیس نے ساستدانوں کے ہر جائز ناجائز کام کی بجاآوری نہ چھوڑی تو پھرمحمد علی نیکوکیرہ اور شارق کمال صدیقی جیسے اصول پرست افسران کو حکم عدولی کی سزا ایسے ہی ملتی رہے گی۔ آج اگر ایک اایم این اے ایک ڈی پی او کو صوبہ بدر کروا رہا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ایک ایم اپی اے ڈی ایس پی کو ،ایک چئیرمین ایس ایچ او کواور کونسلر چوکی انچارج کو علاقہ بدر کرسکے گا۔

Views All Time
Views All Time
227
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شہرِ مادرِ مہربان ملتان میں دو دن | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: