عورت کے لیے راہ نجات کون سی؟

Print Friendly, PDF & Email

women rightsوجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
اقبال نے تو عورت کو "سوز دروں”قرار دیا تها اور زمانہ قدیم سے عصر حاضر تک عورت کے تصور کے ساتھ ایسے ہی القابات و تصورات منسلک رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے قطعا برعکس ہے کہ زندگی کے تلخ حقائق اکثر تصورات سے متصادم ہی رہتے ہیں۔تاریخ انسانی میں عزت وتکریم،وقار و عظمت عورت کے لیے دو متضاد تصورات رہے ہیں قدیم یونانی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم و دائم نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روایات و ادب میں عورت کی کردار نگاری اکثر برائی یا برائی کی ترغیب دینے والی علامت کے طور پر ہوتی رہی ہے قدیم یونانی روایات کے مطابق پنڈورا(Pandora) ایک عورت تهی جس نے ایک ممنوعہ صندوق کو کهول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا تها۔ابتدائی رومی قانون میں بهی عورت کو مرد سے کمتر و حقیر قرار دیا گیا تها۔ابتدائی عیسائی روایات بهی اسی طرح کے افکار کی حامل تهں۔سینٹ جیروم(St. Jerome) نے کہا تها۔
"Woman is the gate of the devil, the path of wickedness, the sting of the serpentine a word a perilous object”
مشرق ہو یا مغرب حقوق نسواں کی حالت دگرگوں نظر آتی ہے۔
مشرق کا حال یہ ہے کہ یہاں عورت کو آج تک وہ عزت و وقار حاصل نہ ہوسکا جو معاشرے کے کسی بهی فرد کا بنیادی حق ہوتا ہےکہا جاتا ہے کہ کسی بهی معاشرے کی اخلاقی اقدار کو ناپنا ہو تو اس کا اندازہ وہاں کی عورت کے سماجی رتبے سے لگایا جاسکتا ہے تو اس حوالے سے ہمارا معاشرہ اس وقت شرمناک صورتحال کا شکار ہے یہاں پر کبهی تو عورتوں کو گاجر مولی کی طرح عزت و غیرت کے نام پر کاٹا جاتا ہے کبهی ونی،سوارا،وٹا سٹا اور قبائلی روایات کے نام پر قربان کیا جاتا ہے کبهی پسند کی شادی کرنے پر آگ میں جهونک دیا جاتا ہے اور جرگے کے اندهے فیصلوں کے حوالے تو عورت یوں کی جاتی ہے جیسے کہ کسی انسان کی تقدیر کا فیصلہ نہ کرنا ہو بلکہ کسی جانور کو ذبح کرنا ہو ۔اسمبلی میں عورت کی عزت مختلف القابات سے نواز کر پامال کی جاتی ہے تو کبهی ٹاک شوز میں ناقابل نشر انداز میں مخاطب کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف مغرب میں عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک طویل اور جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔عورتوں کو ووٹ کا حق اٹهارویں صدی میں دیا گیا۔ان کے حقوق کا کمیشن 1961ء میں صدر جان ایف کینیڈی نے قائم کیا جس کی سفارشات پر عورتوں کو سماجی حقوق تو دے دیے گئے لیکن سماجی حیثیت میں آج بهی زیادہ فرق نہیں آیا آج وہاں اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہےرشتوں کی پہچان ختم ہو چکی ہے وہاں کی عورت صرف عورت ہے وہ نہ ماں ہے نہ بہن،بیٹی اور نہ ہی بیوی وہاں کا مرد بهی صرف مرد ہے باپ،بهائی،بیٹا اور شوہر نہیں۔وہاں کی عورت سیکس ورکر ہے اور مرد اس کا سودا کرنے والا ان حالات کو مدنظر رکهتے ہوئے اگر پاکستان کا سیکولر و لبرل طبقہ جب عورت کے لیے مغربی طرز کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو اس میں ثقافتی تفاوت کا مسئلہ آڑے آتا ہے اور اس کے ساتھ مذہبی مکتبہ فکر اسلامی نظریاتی کونسل کے ہلکے پهلکے تشدد کے طرز عمل کو بهی حق بجانب تسلیم کرنا قطعی طور پر زیادتی ہوگی کیونکہ پاکستان میں رائج ملا کا اسلام اور اصل اسلام ایک دوسرے سے کلتیا متصادم ہیں۔
اب توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا عورت پر ڈهائے جانے مظالم کا بیان کرتے رہنے سے مسائل راتوں رات حل ہو جائیں گے۔تا دم تحریر کسی نے اس کے لیے کوئی موزوں حل نہیں دیا لہذا ان مسائل کے حل کے لیے واضع لائحہ عمل وضح کرنا ہوگا خواتین کے لیے بہترین طرز معاشرت کے ضمن میں اسلامی قوانین رائج کرنا بہترین حل ہےکیونکہ اسلام کا بنیادی وصف میانہ روی ہے۔اسلام نہ تو عورت کو بے لاگ آزادی دیتا ہے نہ ہی ان کے حقوق سلب کرتا ہے۔اسلام کی حقوق نسواں کی تاریخ درخشاں روایات کی امین ہے۔روز اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی،،معاشرتی،
قانونی،آئینی،سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بهی فراہم کی ہے۔اسلام نے عورت کی غلامی،ذلت اور ظلم و استحصال کی ان تمام قبیح رسومات کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے وقار کے منافی تهیں۔
اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چوده سو سال قبل اس وقت ودیعت کیے جب عورت کے حقوق کا تصور کسی بهی معاشرے میں پیدا نہیں ہوا تها۔”قوام” کی حیثیت سے اگر مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے تو وہ صرف اس آفاقی حقیقت کے تناظر میں ہے کہ معاشرتی زندگی میں ہر فرد کسی نہ کسی طرح معاشرے کے دوسرے فرد پر انحصار کرتا ہے اور دوسروں کا محتاج ہوتا ہی ہے۔عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی اس غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تهی ۔اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کر
"تم (مرد) ان کے(عورت) کے لیے لباس ہو اور وہ تمہارے لیے لباس ہیں”
اس طرح گویا اسلام نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر قرار دیا اور دونوں کو تمدن کی بنیاد گردانا۔
گیارویں صدی میں انسانی حقوق کے چارٹر کے منظر عام پر آنے سے بہت پہلے نبی کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر عورتوں کے حقوق متعین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
"عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔تمہارا عورتوں پرحق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے”
اگر آج پاکستان میں عورت کے حقوق کے لیے اسلام حتمی آئین کے طور پر نافذ کر دیا جائے تو عورتوں کے لیے کسی دوسری تحریک ،چارٹر کی ضرورت پڑے نہ ہی کسی طبقے کو ان کے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنی پڑےاس ضمن میں ایک توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ کوئی قانون کسی بهی معاشرے میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ بہتر معاشرتی رویے نہ تشکیل پائیں۔ عورت پر ہونے والے مظالم اختیارات کے ناجائز استعمال کی بهی علامت ہیں عورت پر اگر مرد ظلم کرتا ہے تو خاندان کی دوسری خواتین کو بهی جب خاتون خانہ پر ساس،نند یا دوسرے رشتوں کی شکل میں بالادستی اور اختیار حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے عورت پر مرد سے زیادہ جبر ڈهاتی
ہے لہذا یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ عورت مرد کی ملکیت نہیں بلکہ بحثیت انسان اس کا اپنا کردار بهی ہے جو وہ معاشرے میں ادا کرتی ہے سو عورت کے اس کردار کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہےجب عورت کی حیثیت مرد کی طرح ایک انسان کے طور پر تسلیم کر لی جائے گی تو تمام مسائل ازخود حل ہو جائیں گئے۔اس حوالے سے میری اپنی لکهی ہوئی آزاد نظم عورت کے مکرم سماجی حیثیت کی خواہش لیے ہوئے
تخلیقِ حوا تا دور حاضر
صدیوں سے
بنتِ حوا ہے
مدارِ جنس کے حصار میں
قرنوں سے ہے
دستِ سوال دراز کیے ہوئے
کہ ہوگی کب جاکہ
شناختِ نسواں
بحثیتِ باشعورانسان؟

Views All Time
Views All Time
1063
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دھرتی کی بیٹی عاصمہ جہانگیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: