ہم کیا چاہتے ہیں؟ 

Print Friendly, PDF & Email

ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں عورت کے ساتھ ناانصافی ، ظلم وستم کی ایک لمبی داستان ہے۔  تعلیم یافتہ عورت ہو یا جاہل،  محنت کش ہو یا گھریلو کچھ نہ کچھ ضرور سہنا پڑتا ہے۔  جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ایک محدود تعداد ہے عورتوں کی جو  مطمئین ہے لیکن ایک بڑی تعداد ہے جو ان دیکھے جال میں جکڑی اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے،  اکثر کو میری اس تاویل سے اختلاف  ہوگا لیکن کیا ہم نے بنیادی طور پر عورت کے وہ حقوق  ہی مان لیے ہیں جو اسلام نے اسے عطاکیے ہیں۔  جہاں عورت کو وراثت میں حصہ دینے کی بات آتی ہے وہاں اچھے اچھے گھرانوں  میں جھگڑے ہوجاتے ہیں۔  بھائی بہنوں کے دشمن بن جاتے ہیں،  بیٹی کو باپ کی وراثت میں حصہ دینا مشکل نظر آتا ہے جبکہ وراثت کا حق تو قرآن سے ثابت ہے ۔ بیٹی،  بہن کو غیروں میں نہیں بیاہتے کہ دولت غیروں میں چلی جائے گی،  زمین بٹ جائے گی  چاہے لڑکی گھر کی چوکھٹ پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی  ہو جائے،  اسی وجہ سے کچھ جگہوں پہ یہ قبیح  رسم بھی ہے کہ لڑکی کی شادی قرآن  سے کرکے لڑکی کو ہمیشہ کے لیے قیدی بنالیا جاتا ہے،  اچھی بھلی پڑھی لکھی لڑکی کی شادی جائیداد  کا بٹوراہ نہ ہو  خاندان کے جاہل لڑکے یا  کم عمر لڑکے سے کر دی جاتی ہے تاکہ جائیداد  باہر نہ جائے۔  اس چکر میں بے جوڑ شادیاں ہوتیں ہیں اور لڑکی شوہر اور سسرال کا ہر تشدد برداشت  کرتی ہے۔

پچھلے دنوں وراثتی جائیداد کے تنازعے پہ خانیوال میں بھائیوں  نے بہن کو تشدد کا نشانہ بناکر اس کی ٹانگیں کاٹ دیں۔  تھانہ،  کچہری سب ہورہا ہے مجرموں کو پکڑنے کی بھی کوشش ہے لیکن بہنوں کو وراثت سے محروم رکھنے کا سلسلہ کب تک چلے گا۔  حقوق نسواں بل پاس ہوچکا اس کی قانون سازی بھی ہو چکی ہے لیکن عمل درآمد ہنوزندارد۔

آئے دن سنتے رہتے ہیں کہ جائیداد کے لیے بہنوں بیٹیوں کو اس طرح کے ظلم وستم  سہنے پڑ رہے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔  برابری کا حصہ نہ دو لیکن جتنا حق ہے چوتھائی حصہ باپ کی وراثت میں وہ تو دو،  کوئی اس کے لیے نہیں بولتا کہ یہ جائز بات ہے،  جب عورتیں اس حق کے لیے لڑتی ہیں تو بے حیا بے شرم کہلاتی ہیں۔ شوہر زرا زرا سی بات پر  جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں،  شک کرتے ہیں اور ظلم عورت سہتی ہے۔ عورت کو بولنے کی سزا ناک اور زبان کاٹ کر دی جاتی ہے اور الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ بد کردار تھی۔  یہ بھی سچا واقعہ ہے لودھراں کا شوہر نے بیوی کی ناک اور ہونٹ کاٹ دیے  الزام لگا کر،  کبھی گرم روٹی نہ ملنے پر ہاتھ توڑ دیے جاتے ہیں۔  اس معصوم بچی کو تو کوئی نہ بھولا ہوگا جس کے باپ نے گول روٹی نہ بنانے پر تشدد کرکے اسے جان سے مار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر!

 اس قدر گھریلو تشدد ایسے معاشرے کو جنم دے رہا ہے جو انتہا  پسندی،  بے رحمی اور ظلم وستم کا پروردہ ہے۔ سوچیں اس طرح کے ماحول میں پروردہ بچے بچیاں کس طرح نارمل ہوسکتے  ہیں،  جو بچے گھر میں باپ کو دہاڑتے غصّہ  میں جوتم پیزار کرتے دیکھیں گے وہ کیسے ایک نارمل انسان بن سکتے ہیں،  ان کی شخصیت میں ایک کجی تو رہ جائے گی۔  جب ہم اس طرح کے مظالم کی بات کرتے ہیں تواس میں اس محدود تعداد کا ذکر نہیں ہوتا جو آرام وسکون  سے ہیں بلکہ اس بڑی تعداد کا ذکر ہوتا ہے جو یہ سب سہہ رہی ہے۔  اکثریت گاؤں دیہاتوں  کی ہے جہاں یہ واقعات جنم لیتے ہیں لیکن شہروں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب ہمیں معاشرے کے سدھار کے لیے کام کرنا چاہیے۔  یہاں میں ایک بہت بڑے مصنف شاعر مرحوم کا ذکر کرنا چاہوں گی،  جب ان سے ابتدائی  زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ”  میں تین سال کا تھا کہ ایک تھپڑ کی گونج نے مجھے گنگ بنا دیا،  میرے باپ نے میری ماں کو جو تھپڑ مارا اس تھپڑ کا مجھ پر شدید اثر ہوا کہ میری زبان بند ہوگئی اور ایک سال میں بول نہ سکا،  آہستہ آہستہ  بولنا شروع کیا تو میری زبان میں لکنت تھی ” ۔ اس کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ کاش ماں باپ سمجھ جائیں کہ اولاد کی خاطر ایسا کچھ نہ کریں جس کے اثرات ان پر پڑیں۔  دولت جائیداد سب یہیں رہ جاتا ہے آپ دو گز زمین میں دفن ہوتے ہیں اگر قبر نصیب ہو اس لیے حق نہ ماریں۔

یہ بھی پڑھئے:   خواتین کا عالمی دن

 معاشرے کے سدھار کے لیے سب سے پہلے قانون پر عمل درآمد  لازمی ہے جب دو چار کو کڑی سزا ملے گی تو اس طرح کے واقعات  جنم ہی نہیں لیں گے۔  دوسرے نمبر پر تعلیم عام کرنا اور لوگوں میں شعور بیدار کرنا،  اسکول  کالج کی تعلیم تو نمبر اور ڈگری دلاتی ہے لیکن شعور بیدار کرنا ہوگا تاکہ صنف مخالف  میں احساس پیدا ہو کہ عورتیں ان کی طرح انسان ہیں انھیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔  ہمیں رویوں کے بدلنے کے لیے کام کرنا ہوگا،  اپنے پیارے نبیۖ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا انھوں نے بیٹی کے مقام ومرتبہ کو سمجھا دیا ہم ان کی سنت کی پیروی کریں۔  قرآن کے بتائے ہوئے قانون پر عمل کریں۔  صنف نازک کا مسلہ کھانا خود گرم کرلو سے زیادہ ہے ہمیں عزت دو!   ، ہمارا حق مانو!،  ہم پر ظلم بند کرو!  ہے شاید۔

Views All Time
Views All Time
156
Views Today
Views Today
1
mm

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

mm

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: