ہم پاکستانی

Print Friendly, PDF & Email

Aamna Ahsanہر قوم کا ایک طرز زندگی ہوتا ہے ،زندگی گزارنے کا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے ، مختلف معاملات میں مختلف رد عمل ہوتا ہے ۔
پاکستانی قوم کا بھی اسے ہی ایک خاص طرز عمل ہے جس پر وہ زندگی گزارنے پر مصر ہیں ۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم عقیدے کے اتنے پکے ہیں ، کہ اگر کوئی ہمارے عقیدے کے بارے میں ایک لفظ بھی کہے تو ہم اسکا منہ نوچ لیں ، اسکے عقیدے کے بارے میں کم از کم چار، پانچ نازیبا جملے تو ضرور کہیں ۔
لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب اس عقیدے کے طرز سے زندگی گزارنے کی بات آتی ہے ، تو وہ کوئی نہیں کرتا ۔
اشفاق احمد صاحب نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ ہم اللّه کو تو مانتے ہیں ، مگر اللّه کی نہیں مانتے ۔
ہم پاکستانی بحث کرنے میں ماہر ۔ اتنے ماہر کہ ہمیں اس پر آسکر ملنا چاہیے ، آپ نہ دیں تو آپ کی مرضی ۔
تنقید ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ ہم جو کام سب سے اچھا کر لیتے ہیں وہ ہے دوسروں پر تنقید۔اور اس بارے میں اہم اور اچھی بات یہ بھی ہے کہ ہم تنقید اور تذلیل میں جو چھوٹا سا ایک فرق ہوتا ہے اسکا پاس رکھنا بھی بھول جاتے ہیں۔
ہم کمال کے بے ہنر لوگ ہیں ۔ ہم کام کو سیکھنا اپنی توھین سمجھتے ہیں ۔ آپ کو پورے پاکستان میں اچھا ڈاکٹر تو کیا ،اچھا پلمبر بھی نہیں ملے گا ۔
ہم جھوٹ بولنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ، یہ سب سے افسوس ناک بات ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوے بھی اپنےنبی محمّد ؐ کی طرح صادق نہیں۔
پاکستان اسلئے بنا تھا کہ ہم ایک الگ قوم کے طور پر ابھر کر دنیا کے سامنے آے،مگر ہم نےہر معاملے میں ہندوازم کو کاپی کیا ،جس کی بہترین مثال ہمارے گھر میں کام کرنے والے ملازمین کے برتن الگ رکھنا ہے۔
ہمیں کوئی بیوقوف نہیں بنا سکتا، کیونکہ ہم تو پیدائشی بیوقوف ہیں،
بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟
ہم ہر 5 سال کے بعد ایک نمائندہ چنتے ہیں اور اگلے ہی لمحے اس سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور 5 سال اسکی حکومت ختم ہونے کی دعا میں لگ جاتے ہیں ۔
اسکے علاوہ ہم جس پارٹی کی حمایت کرتے ہیں، اگر کوئی اسکے بارے میں کچھ کہیں تو اپنی تہذیب ، ثقافت اور تمیز کو بھول جاتے ہیں ۔ ہماری پسندیدہ پارٹی اگر کچھ غلط بھی کرے تو اسے غلط نہیں مانتے ۔
ہم نے پاکستان اسلئے بنایا تاکہ انڈیا کی رسم و رواج کو اچھے سے کاپی کر سکے ۔
شادی بیاہ سے لے کر بسنت تک ، ہم نے ہر موقعہ پر انڈیا کو بہترین طرح سے کاپی کیا ہے ۔
ہم دلیل سے بات کرنے کو زیادتی سمجھتے ہیں ، بحث کرو خوب کرو لیکن دلیل نا دینا، کیونکہ میں دلیل نہیں دے پاؤں گا اور تم سے لڑ پڑوں گا ۔
شاعر نے شائد یہ شعر پاکستانیوں کے لئے ہی کہا تھا
دلیل تھی نا کوئی حوالہ تھا ،ان کے پاس
عجیب لوگ تھے،بس اختلاف رکھتے تھے
کسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہم جرم سمجھتے ہیں،ظاہر ہے ذرا تعریف کردوں لوگ تو سر پر ہی چڑھ جاتے ہیں ۔
ہم کیوں کرے کسی کا حوصلہ بلند ؟
ہم شائد تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن جہاں تک علم حاصل کرنے کی بات ہے ، ہمیں ایسی کوئی جستجو نہیں ہے ۔
امتحان لو ، ڈگری دو کا یہ نظام 1947ء سے چلتا آرہا ہے ۔
ہم تعلیم صرف اور صرف ڈگری کے حصول کے لئے کرتے ہیں ، اور ڈگری صرف جاب حاصل کرنے کے لئے ۔
ہم کسی کی عزت نہیں کرتے ، نہ امیر کی نہ غریب کی ۔
ہماری 90% کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے ، ہم بنا مقصد کے جیتے ہیں اور مر جاتے ہیں ۔
ہماری 99% نوجوان نسل کسی نا کسی کے حقیقی عشق میں مبتلا ہے
اور اگلے 5 سال میں اپنے آپکو کوئی کامیاب بزنس مین یا کسی شعبہ کا ہنر مند تصور کرنے کے بجاے دو عدد بچوں کا والد تصور کرتا ہے ۔
جاری ہے ۔۔۔۔
(اس آرٹیکل کو لکھنا کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ، بلکہ ان خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے ، تاکہ ان کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے ۔)

Views All Time
Views All Time
517
Views Today
Views Today
2
mm

آمنہ احسن

آمنہ احسن کو کتابیں پڑھنے کا بہت شغف ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: