Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمیں ایک نئی جمالیات کی ضرورت ہے- ارن دھتی رائے ( حصّہ اول )

by جولائی 3, 2016 انٹرویو
ہمیں ایک نئی جمالیات کی ضرورت ہے- ارن دھتی رائے ( حصّہ اول )
Print Friendly, PDF & Email

aron dhati rae 1

ہمیں ایک نئی جمالیات کی ضرورت ہے جس ميں ہندوستانی عورتوں کے صرف سفید چمڑی اور سیدھے بالوں والی ہونے کی متھ ٹوٹے –ارون دھتی رائے( حصّہ اول )
انٹرویو : ایشورائے سبرامنیم
تلخیص : عامر حسینی

نوٹ: ٹائمز آف انڈیا پبلیکشنز ” ای ایل ایل ای ” کے نام سے انگریزی ميں ایک فیشن میگ شایع کرتا ہے-اس کے تازہ شمارے کے سرورق کی کوئین اس مرتبہ کوئی اور نہیں بلکہ گاڈ آف سمال تھنگز کی شہرہ آفاق ادیبہ ارون دھتی رائے ہیں-اس میگ ميں ان کا ایک تفصیلی انٹرویو بھی شامل ہے جو اس میگ کی ایڈیٹر ایشورائے سبرامنیم نے کیا ہے –اس کی تہمید یا ابتدائیہ اتنا خوبصورت مگر بہت ہی ادق انگلش میں لکھا گیا ہے کہ مجھ جیسا آدمی جو انگریزی سے اردو میں چیزوں کو ڈھالنا کوئی بڑی بات نہيں گردانتا گڑبڑاگیا-تھوڑی سی رہنمائی محترم وجاہت مسعود سے ، کچھ رضوان عطاء سے ، کہيں جمیل خان سے ، عباس زیدی سے ، اسماء ملک سے لی –اس سے مری مشکل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے-پھر بھی میں مطمئن نہیں ہوں-لیکن چاہتا ہوں کہ کم از کم قلمکار کا اردو خواں قاری اس کمال کے انٹرویو سے مستفید ہو اس لئے اپنی تسلی نہ ہونے کے باوجود اسے شایع کررہا ہوں-( عامر حسینی –انچارج ادراتی بورڈ )
کبھی کبھی میں حیران ہوکر سوچنے لگتی ہوں کہ آیا ہمیں ان ادیبوں سے کبھی نہیں ملنا چاہئیے جن کو ہم پسند کرتے ہیں – نہ تو ان کو کبھی لیکچر دیتے دیکھنا چاہئیے اور نہ ان کو پڑھتے ہوئے سننے کی خواہش کرنی چاہئیےاور کبھی ان سے بات نہیں کرنی چاہئیے سوائے ایک خاص قسم کنٹرول فضاء جہاں اکتشافی مکالمہ جاری نہیں رہ سکتا ہو اپنے نام کے ہجے بتائے جائیں تاکہ آٹو گراف لیا جاسکے-اگر ہم اپنے ہیروز کو ایک خاص فاصلے پہ رکھتے ہیں تو ہمیں وہ اپنے عام سے آدمی جیسے معاملات کرکے مایوس نہیں کرسکتے –
لیکن بلوغت کا حصّہ یہ مان لینا بھی ہے کہ ہر شخص عام آدمی کی طرح بھی ہوتا ہے –اور آدمی ہونے کو یہ بھی لازم ہے کہ وہ اکتادینے والا ، خود آگاہ ، غیر محفوظ اور شکستہ بھی ہوسکتا ہے اور اپنے غیر متحرک راستوں پہ وہ گڑبرا بھی سکتا ہے-ارون دھتی رائے ان سب باتوں سے جڑی ہوئی ہیں لیکن وہ حس مزاح بھی رکھتی ہیں اور مہربان بھی ہیں – نرم خو بھی ہیں اور گرم جوش بھی –اگرچہ ان کا دماغ بہت سے ہیجان بھی رکھتا ہے لیکن ایسی مسکراہٹ کی مالک بھی ہیں جس سے ان کی آنکھیں ہمیشہ چمکتی رہتی ہیں –وہ مجھے ” نفیس چھچھوندر ” کہتی ہیں-یہ لقب مجھے کھلکھلاہٹ پہ مجبور کردیتا ہے-

چوّن سال کی ہوگئی ارون دھتی رائے کے اندر کوئی چھوٹی سی بچی بھی چھپی ہے: سریلی گاتی ہوئی آواز کی مالک جس کے گھنگھریالے بال ایک خوبصورت لڑکی کی طرح ہیں اور جس طرح سے اس کے چھوٹے چھوٹے خوبصورت ہاتھ اپنے چہرے کی طرف اٹھتے ہیں اور وہ اپنے بالوں سے جیسے کھیلتی ہے ، ایک لٹ کھینچتی ہے اور پھر دوسری اور ان کو دوسروں سے ملاتی ہے تو بہت اچھی لگتی ہے-میں اس ٹک کو جانتی ہوں کیونکہ خود میں بھی ایسے ہی کرتی رہتی ہوں ،جیسے کوئی طوفان مرے پیشانی کے اوپر بالوں نے برپا کیا ہو اور وہ مری توقعات کو بہت زیادہ حساسیت کے ساتھ دبانے کی کوشش کررہے ہوں-اس کی آنکھوں میں سرمہ کی گہری لکیریں ہوتی ہیں اور وہ مجھے بغور دیکھتی ہیں

اس مہینے تک رائے مجھے سے ٹھیک بیس سال بڑی ہیں اور جہاں تک دماغ کا تعلق ہے تو مجھ سے چند نوری سال آگے ہیں –جب وہ مری عمر کی تھیں تو انہوں نے بکر پرائز جیت لیا تھا-اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مجھے بہت تکلیف دیتی ہے-میں نے ابتک کی زندگی میں کون سا تیر مارا ہے ؟ ( اس قسم کی سوچ ہمیں کہیں لیکر نہیں جاتی لیکن کیا کروں میں اس معاملے میں معذور ہوں ) میں نے ” گاڈ آف سمال تھنگز ” اس وقت پڑھا جب میں ٹین ایجر تھی-اور اس نے مجھے ویسے ہی انسپائر کیا جیسے مری نسل کے اور لوگوں کو کیا تھا-خاص طور پہ اس نے ہمیں شدید جذباتی انداز میں لکھنے کی ترغیب دی جس کے بارے میں ميں نہیں جانتی تھی کہ آیا اس کی اجازت ہے بھی کہ نہیں-اور اسی نے مجھے کئی فقروں مين لفظ ” وومٹی –استعمال کرنے کی اجازت دی-

اگر آپ مجھے کبھی یہ کہتے کہ میں نے ایک دن ارون دھتی رائے کے ساتھ گزارانا ہے تو تو مری حالت کچھ ایسی ہوتی کہ مرے منہ سے بے ربط جملے نکلتے، اوہ مرے خدا / شٹ اپ / بکواس مت کرو -میں ان سے اتنا نہین ڈری جتنا مجھے اندیشہ تھا ، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ان کے گھر میں ہوں ، جو کہ آپ پہ ایک رعب سا طاری کردیتا ہے کیونکہ اس مین ہر جگہ ہيں –رائے اپنے گھر مين اکیلی رہتی ہیں-اور عام طور پہ وہ اپنے سارے کام خود ہی کرتی ہیں-ان کا فلیٹ روشنی ، ہوا ، کتابوں کا ڈھیر جو زمین سے چھت تک کو چھوتا ہے اور فرینچرز کے ایسے نمونے جو اپنے اندر کئی کہانیاں رکھتے ہیں سے بھرا ہوا ہے-ورزش ان کی زندگی کا ایک حصّہ ہے اور ساکت سائیکل پہ بغیر توازن کھوئے ہلتے جانا بذات خود ایک معجزے سے کم نہیں ہے-
aron dhati rae 2اس کے دو آواراہ کتّے – کتیاں – وہ مری درستی کرتی ہے – بیگم فلتھی جان اور مٹی کے لال مرے اوپر اچھل کود کررہے ہين اور اپنے پیٹ مجھے پیش کررہے ہین اور سب سے زیادہ مضحکہ خیز ان کے کان ہیں

یہ بھی پڑھئے:   جب کوئی لڑکی کہے... رائے (تیسرا حصہ)

رائے نے چکن بریانی کا آڈر دیا ہے جبکہ مين وینگرز سے ” بن کباب ” لیکر آئی ہوں-ہم اس کی بھدی سی پرانی کھانے کی میز پہ بیٹھ جاتے ہیں-اور وہ اچار سے اپنے بے پناہ شغف کا اعتراف کرتی ہے-میں ہلکے پھلکے انداز میں کھاتی ہوں-ہم بس یونہی احمقانہ سی باتیں کرتیں جیسے اس کی نہ نظر آنے والی کمر-یہ اس کے دوستوں مين اس کے بارے میں چلنے والا ایک مذاق ہے کہ وہ منحنی سی ہے مگر خم دار ہے – ایک ایسا سخی ” بن ” جو کہ اپنے ہلکے سے فریم سے پھسلتا چلا آتا ہے-یہ ڈی فارمڈ ہونے کے ںزدیک ہے مگر یہ بہت حد تک پرکشش بھی ہے-

وہ اپنے پرکشش ہونے اور دل ربائی کو مانتی ہے-اپنے جسم کے بارے میں پوری طرح سے آگاہ ہے-اور کپڑے کیسے اسے جکڑتے ہيں ، جن کو دیکھنے سے مسرت ملتی ہے اسے سب پتہ ہے-لیکن رائے شرمیلی بھی ہے-اور فوٹو شوٹ کے دوران وہ بیٹل سانگ گنگنا کر اپنے آپ کو سنبھالتی ہے-اور کوشش کرتی ہے کہ کیمرے کے سامنے اپنی گبھراہٹ کو طاہر نہ ہونے دے-مجھے حیرانی نہیں ہے-کیونکہ میں اسے جانتی ہوں اس سے زیادہ شناسائی نہ ہونے کے باوجود-کیونکہ میں نے اسے پڑھ رکھا اے-یہ ہے وہ پہلو ان لوگوں سے ملاقات کا جن کے کام سے آپ پیار کرتے ہیں-کیا ایسا نہیں ہے ؟ وہ اپنے آپ کا ایک گوشہ آپ کو دکھاتے ہیں-اور تب تک واپسی آنے مين بہت دیری ہوچکی ہوتی ہے-

میں رائے کی سیاست کو بھی جانتی ہوں ، بہرحال ہم سب کیا اس سے واقف نہیں ہیں ؟مین نے اس کے اکثر مضامین پڑھ رکھے ہیں-اور میں نے اس غصّے ، برہمی کو صفحات سے نکل کر اپنے خون کے اندر منتقل ہوتے اور گرم ردعمل مین بدلتے ہوئے محسوس کیا ہے-میں نے کئی مرتبہ چاہا کہ وہ وہ زیادہ معقول ہوجائے اور کم شدت اور جذباتی ہو –لیکن یہ اس سے ملنے کے بعد میں سمجھ سکی کہ وہ واقعی کوئی دوسرا راستہ نہین جانتی اور نہ ہی جاننا چاہتی ہے-اسے اس بات کی چاہ نہیں ہے کہ آپ اس کو پسند کریں-بات کرنے کو کسی کے لئے لڑنے کو اور کسی کے خلاف لڑنے کو وہاں اسے سے بھی بڑی چیزیں ہیں-

نہیں ، آپ اسے پسند کرکے اس کی مدد نہیں کرسکتے-نہ ہی اس وقت جب آپ کو وہ بتاتی ہے کہ وہ تو واقعی ایک ” کامن مین ( عام سی عورت ) ہے –نہ ہی اس وقت جب وہ آپ کو وہ بتاتی ہے جسے وہ جم میں بہت زیادہ ڈیل ڈول والے بندے کہتی ہے-نہ ہی تب جب ول بڑے صبر سکون کے ساتھ آپ کو ہر اس ؤئے کے بارے مين وضاحت کرتی ہے جو دنیا کے ساتھ غلط ہورہی ہے جسے آپ بھی جانتے ہو –
ان سب باتوں کے آخر مين اپنے منہ ميں اچار کے زبردست ٹیسٹ کے ساتھ میں اس بات کی تصدیق کرسکتی ہوں کہ ارون دھتی رائے ایک بشر ہی ہے لیکن مجھے شک ہے کہ وہ انسانوں کی سب سے بہترین قسم ہے

آپ اس (ایلی )فیشن میگزین کے سرورق پہ جلوہ نما کیوں ہیں ؟

رائے : گرے پرائڈ مین ! یہ وقت عورتوں کے سرورق پہ آنے کا ہے-سینڈریلا کی دکھی اولڈ سسٹرز کا وقت ہے کہ وہ بھی گلاس سلپیرز پہن کر پھریں اور سورج کے نیچے اپنا مقام پالیں-
ایلی ہی کیوں ؟
رائے: کیونکہ میں نے ایلی جیسے فیشن میگزین کے سرورق پہ کالی جلد والی عورتوں کو دیکھا تھا-میں اسے پسند کرتی ہوں-یہ آبسیشن – آسیب کہ عورتیں انڈیا میں وہی ہیں جن کی چمڑی سفید ہے اور بال ان کے سیدھے ہیں مجھے بیمار کردیتا ہے-ہمين ایک نئی جمالیات کی ضرورت ہے-اور ميں دیکھ چکی ہوں کہ ایلی ایسی جمالیات کو سامنے لانے کی کوشش کررہا ہے-یہ بہت ہی زبردست ہے-ونڈر فل ہے –اور میں یہاں اسی کو بڑھاوا دینے کے لئے ہوں-

اس بات نے مجھے بہت خوشی دی ہے-لیکن کیا آپ اس بات سے پریشان نہیں ہیں کہ لوگ آپ کو یہآن کیسے دیکھیں گے؟کیا آپ کو بہت درشتی سے نہیں دیکھا جائے گا ، آپ کی ساکھ وغیرہ کو ؟

رائے: آہ! مری ساکھ وغیرہ وغیرہ – ہاں نا ، ہاں نا – لیکن میں نے ڈائس کو لیپٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے-میں دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ اس جمی جمائی ، گرے بالوں والی بوڑھی عورت میں سے دلکش ، خوب گھنے دل للچانے والے بالوں والی 22 سالہ خواہش کی پوٹلی باہر آنے کی جدوجہد کررہی ہے-

میں اسے جانتی ہوں ! آپ کی ايک کتاب بھی اگلے ماہ آنے والی ہے-” تھنگز دیٹ کین اینڈ کین ناٹ بی سیڈ ( جگرناٹ ) جو سنوڈن سے آپ کی ملاقات کے احوال پہ ہے-

یہ بھی پڑھئے:   علی عباس تاج کے ساتھ گفتگو

رائے: یہ ایک کتابچہ ہے جو میں جان کیوزیک کے ساتھ ملکر لکھی ہے جو کہ ایکٹر ہین پیشے کے لحاظ سے-یہ وہی تھا جس نے مجھ سے کہا کہ ہمین روس مين جاکر سنوڈن سے ملنا چاہئیے-سنوڈن کئی پہلوؤں سے غیر معمولی شخص ہے-مین سوائے سنوڈن کے کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتی جو جو بغیر رکے مکمل فقروں کے ساتھ بول سکے-بش کے حامی ہونے سے لیکر یعنی ایک دائیں بازو کے ایسے جنگ کے حامی ہونے کے جس نے عراق پہ امریکی حملے کی حمایت کی دستخطی مہم مين حصّہ لیا ہو سنوڈن کا سفر حیران کردینے والا ہے-ہم نے دو دن اکٹھے گزارے-جان کیوزیک ۔ ڈینئل ایلس برگ جس نے پینٹاگان پیپرز لیک کئے جس”60ء کا سنوڈن ” کے طور پہ جانا جاتا ہے اور میں-یہ بہت ہی زبردست ، اچھوتی ، آزاد گفتگو تھی-
کیا آپ نے کوئی چیز ریکارڑ بھی کی ؟

رائے: سنوڈن ہماری باہمی بات چیت کی ریکارڈنگ اوکے کردی تھی-لیکن بعد میں جب اس کو اس گفتگو کا لکھا متن ارسال کیا اور اس کو ایڈٹ کیا تو اس نے چاہا کہ اسے شایع نہ کیا جائے-کیونکہ اس ميں بہت پھکڑ پن اور مذاق تھے-وہ بہت مشکل مقام پہ ہے اور اسے احتیاط کرنا بنتی ہے-لیکن یہ اصل میں گفتگو کی نوعیت کا تقاضا تھا-اور یہ ساری کی ساری بہت ہی ہتک آمیز اور گستاخانہ تھی-
تو بدقسمتی سے اس کتاب مين سنوڈن سے براہ راست ہونے والی بات چیت میں سے چیزین بہت کم ہيں-کیونکہ جب جن چیزوں سے وہ واقف ہے بات کرتا ہے – انٹرنیٹ ، نگرانی اور یہ کیسے کی جاتی ہے-تو ایک ایسا جبڑا ہے جو شاندار طریقے سے چیزوں کو جکڑتا ہے-مذاق اور ہلکی پھلکی چیزوں کے پس پردہ کتاب میں کئی سنجیدہ معاملات کو بھی دیکھا گیا ہے: نیشنل ازم ، امپریلزم ، جنگ ، سرمایہ داری،کارپوریٹ سخاوت ، کمیونزم کی شکست۔۔۔۔۔۔۔ آخر میں ایک ہلادینے والا حصّہ ہے جہاں ایلس بگ بتاتا ہے کہ کیسے امریکی حکومت جانتی تھی کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کی بنیاد غلط معلومات پہ استوار ہے-

کیا آپ ایک ڈسپلن کے تحت لکھنے والی ادیبہ ہیں؟

رائے: مین بہت ڈسپلن سے کام کرتی ہوں-یہ اب تو بہت ہی درست ہے کہ میں ایک نئی کتاب پہ کام کررہی ہوں ،تو ہر روز گھر پہ اپنے ڈیسک پہ لکھتی ہوں-بعض اوقات پورا دن گزرجاتا ہے-اور میں توجہ نہیں کرتی-اچانگ جب اپنے اردگرد نظر دالتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اندھیرا پھیل چکا ہے-اور روشنی بس وہ ہوتی ہے جو کمپوٹر سکرین سے آرہی ہوتی ہے-پچھلے ہفتے مين نے ایک انڈا جلا ڈالا اور پورے کچن میں دھواں بھر گیا-تب اس ہفتے ہبڑ دھبڑ میں انڈوں کی اگ بجھانے کو جب مین بھاگی تو مجھے پتہ چلا کہ انڈوں کو آگ تو لگی ہی نہیں تھی-یہ سب کسی حد تک پاگل پن ہے-

نیا ناول ! ہم سب اس کا انتظار کررہے ہين-کب یہ شایع ہوگا ؟
رائے: اگلے سال،مجھے امید ہے-

گاڈ آف سمال تھنگز کے 20 سال بعد –ہمیں کیا توقع کرنی چاہئیے ؟
رائے: کوئی بھی بلکہ گاڈ آف سمال تھنگز حصّہ دوم
آپ نے اسے اب کیوں لکھنے کا فیصلہ کیا ؟
رائے: میں نہيں کیا-یہ ہوگیا-اس کے گرد میں کافی سالوں سے گھوم رہی تھی-جب فکشن کی بات ہو تو مجھے کبھی جلدی نہیں ہوتی ہے-پچھلے 20 سالوں مين میں نے بہت زیادہ سفر کیا-بہت لکھا –اتنا کہ میں خود کو ایک سیڈیمنٹری راک خیال کرتی ہوں-تم جانتی ہو ، تفہیم اور سمجھنے کی بہت سی تہیں ہوتی ہیں چیزوں کی جن کو سوائے فکشن کے کسی اور طریقے سے بیان کرنا ممکن نہیں ہے-آپ بس یہاں بیٹھ جاتے ہیں اور تجربے کی ان ساری پرتوں اور تہہ کو آپ کو گرفت ميں لانا ہوتا ہے اور اسے اپنے ڈی این اے کا جزو بنانا پڑتا ہے-اور پھر آپ اسے نثر کے طور پہ سامنے لیکر آسکتے ہو
کیا آپ کا فکشن سوانحی ہے ؟

سوانحی کسے کہا جاتا ہے؟ حقیقت کسے کہا جاتا ہے ؟ کیا کوئی چیز ایسی ہے جسے آپ سوانحی تصور کرتے ہو ؟آخرکار ، آپ اپنے تخیل ميں اس کا تجربہ کرتے ہو-۔۔۔۔ اور تب وہ حقیقت سے زیادہ حقیقی ہوجاتا ہے کیا ؟ اگر آپ ایسا تخیل رکھتے ہو جو دوسروں کے دکھ یا مسرت کو محسوس کرتا ہو ، کیا وہ سوانحی ہے ؟ مین نہیں جانتی-شناخت اور نمائندگی کے عظیم مباحث میں یہ بہت بڑا سوال ہے ؟ اور اس کے فکشن کے ایک لکھاری کے لئے بڑے ہی نتائج و عواقب ہوتے ہیں –

جاری ہے۔۔۔

Views All Time
Views All Time
873
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: