اورہم پکڑے گئے

Print Friendly, PDF & Email

asad imran naqviکافی دن ہو چلے تھے کچھ لکھے ہوئے اور ہر دن یہی سوچتا اور عہد کرتا تھا کہ کچھ ضرور لکھوں گا۔ اب یہ نہیں تھا پتہ کہ آپ بیتی ہی لکھنی پڑ جائے گی۔
ہوا کچھ یوں کہ بابائے فیس بُک بابا ابو علیحہ سرکار نے رمضان شریف کے دوران شوہر حضرات کو شرم دلانے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔۔۔ تازہ تازہ فرمان یہ جاری ہوا کہ افطار سے پہلے وقت گزاری کے لئے ٹی وی دیکھتے ہوئے صوفے توڑنے کی بجائے بیوی کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹا دیا کریں۔ ایموشنل بلیک میلنگ کے لیئے وہی ہتھیار استعمال کیا جو ہمارے ڈرم کے پیٹ والے مُلاں استعمال کرتے ہیں کہ "جن حضرات کے آگے مردانہ انا آئے وہ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کر لیں”
میں نے بھی بابا ابو علیحہ کے فرمان پر لبیک کہنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔
آفس سے گھر جاتے ہی سب سے پہلے اپنے بچوں سے ملا، (میرا بیٹا اب 5 سال سے کچھ ماہ اوپر ہے، اب وہ اتنا ہوشیار ہو گیا ہے کہ میرے فون کو اَن لاک کر کے پلے سٹور سے خود ہی گیمز ڈاون لوڈ کر لیتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری اپلیکیشنزکو استعمال کرنا جانتا ہے۔) انہیں پیار کیا اور فون کھیلنے کے لیئے دیا، لباس چینج کیا اور سیدھا کچن میں بیگم کی مدد کرنے کی غرض سے داخل ہوا گیا،فروٹ چاٹ کے لیئے کہا گیا تو سب سے پہلے تمام پھلوں کو دھویا، پھر چھیلا اور کاٹ کے مکس کیا،دہی بھلوں کو ہمارے گھر میں عالم آن لائن جتنی عزت ملتی ہے لہذا پکوڑیاں پانی سے نکال کر خشک کیں، وہ اگر شربت بنانے کا ارادہ کرتی تو میں دوڑ کر فریج سے برف نکال لاتا، وہ چینی مِکس کرتی تو میں لیموں نچوڑ دیتا، وہ سموسے کی پٹیاں نکالتی تو میں پہلے سے تیار شدہ مصالحہ ان میں بھر دیتا، پکوڑوں کا ارادہ ظاہر کیا تو جلدی سے پالک کو باریک باریک کاٹ کر اور آلو کو چپس کے انداز میں کاٹ کر بیگم کے حوالے کیا، ان کا زرا دھیان سالن کی طرف ہوا تو میں نے جلدی سے پکوڑوں اور سموسوں کو تلنا شروع کر دیا۔۔۔ اُدھر بیگم، میرے سُگھڑ پنے سے بہت خوش تھیں تو میرا فرزندِ ارجمند بھی ڈائننگ چیئر پہ بیٹھا موبائل میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ مجھ سے باتیں بھی کر رہا تھا۔ چونکہ سالن ابھی تیاری کے مراحل میں تھا اور افطار کا وقت قریب آ چکا تھا، لہذا بیگم صاحبہ کی مشکلات اور مصروفیات کا اندازہ کرتے ہوئے، میں نے جلدی سے دستر خوان لگایا اور تیار آئٹمز سجانا شروع کر دیں، خالی گلاس، پلیٹیں، چمچ اور پھر پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ، دہی بھلے ، شربت اور کھجور کو دستر خوان کی زینت بنایا تو اپنے فرزند کو بڑے خوشگوار موڈ میں پایا۔۔ زوجہ اور میں افطار میں مصروف ہو گئے اور بچے حسبِ عادت کھانے سے دور ہو کر بیٹھ گئے، ابھی چند نوالے باقی تھے کہ بیٹے نے فون میری طرف بڑھایا کہ بابا پھوپھو کی کال ہے، میرے ہاتھ سے نوالہ گرتے گرتے بچا اورہم میاں بیوی کی زبان سے بے ساختہ نکلا یا اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر میں نے ڈرتے ڈرتے فون کان سے لگایا تو جو پہلی آواز میرے کانو میں پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینہ رن مُرید۔ ہم نے تجھے پڑھا لکھا کر اچھی نوکری لگوا کر پھر تیری شادی کی ، مگر تونکلا رن مرید کا رن مرید (ابا جی کو بھی ساتھ ہی رگڑا لگا دیا)۔۔۔ یہ سارا کچھ سن کر میں نے باہر آتی اُلٹی کو زبردستی واپس اندر بھیجا اور پوچھا ۔۔۔۔۔ باجی ہوا کیا ہے۔۔ تو وہ اپنے روائتی انداز میں دھاڑتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیوی کے آرام کا اتنا ہی ارمان ہے تو موئے اسے کوئی کام والی رکھ دے، خود کیوں ماسی بنا پھرتا ہے، میں نے مصنوعی رُعب سے کہا کہ وہ ہی کرتی ہے سارا کام، میں تو ٹانگ پہ ٹانگ دھرے بیٹھا رہتا ہوں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بکواس کرتے ہو ، میرے سامنے جھوٹ بولتے ہو،کلموہے جسطرح پکوڑیاں تو نے خشک کی ہیں، اس طرح تو جمال دہی بھلے والا نہیں کر سکتا ہوگا، جیسے پالک تم نے کاٹی ہے، مجھے نہیں کاٹنی آتی، جیسے سموسوں میں تم نے مصالحہ ڈالا ہے شیف ذاکر کو نہیں آتا ہو گا، اور کس سلیقے سے دستر خوان پہ برتن جوڑے ہیں ،لگتا ہے شادی کے بعد کہیں ویٹر لگے رہے ہو۔۔۔ میں نے کہا باجی یہ غلط ہے، یہ بہتان ہے (یہ کہتے ہوئے میں دائیں بائیں دیکھ بھی رہا تھا کہ کہیں وہ اچانک کراچی سے لاہور تو نہیں آ گئیں)، تو وہ ایک بار پھر تقریباِِ چلاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ چلو بہن تو تمہیں بیوی کی محبت میں جھوٹی لگتی ہی ہے ، کیا یہ ویڈیو بھی جھوٹ کہہ رہی ہے۔۔ میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بات کی تہہ تک پہنچ گیا ، کہ کیسے میرے فرزندِ ارجمند نے اپنے ابے کو رنگِ ہاتھوں ویڈیو میں قید کیا اور وہ ویڈیو کسی اور کو نہیں بلکہ اپنی سگی پوپھی کو بھیج دی۔۔۔ تب سے اب تک نہ تو کوئی اصلاحی بات اچھی لگ رہی ہےاور نا ہی ابو علیحہ.

Views All Time
Views All Time
1512
Views Today
Views Today
1
mm

ذیشان حیدر نقوی

ذیشان حیدر نقوی کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ لیکن کمیسٹری جیسے مضمون پڑھنے کے باوجود انتہائی اچھا مزاح لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: