Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہم سا ہو تو سامنے آئے

by مئی 16, 2016 مزاح
ہم سا ہو تو سامنے آئے
Print Friendly, PDF & Email

zahid shuja buttمجھے کیا بہت سوں کو حسرت ہی رہی ہو گی کہ ان کی بھی تعریفیں کی جائے ،ان کے ہرکا م کو سراہا جائے اور ان کی غلطیوں کو بھی خوبیوں کا لبادہ اوڑھار کر واہ واہ کے ڈونگرے برسائے جائیں ۔ بچپن سے لے کر جوانی تک ، اور جوانی سے لے کر پاپا ہونے تک یہی تمنارہی کہ میری بھی مدح سرائی ہو، لوگ قصیدے پڑھیں اور میرے ہر ارشاد پر حتیٰ کہ بونگیوں پر بھی ایمان لے آئیں۔ میں ، میرالباس ، جوتے حتیٰ کہ بنیان جُرابیں بھی عرصہ د راز سے تعریف و توصیف کی بھوک میں مبتلا ہیں اسی لئے ہر محفل میں گھما پھرا کر بات اپنی ذات پر لے آتا ہوں۔ ہر ملنے والے سے مجھے یہی اُمید رہتی ہے کہ وہ میرے لکھے یا کہے ہوئے کی مدّحت کریں بلکہ اُس بات کی بھی تعریف کریں جو میں نے ابھی سوچی بھی نہ ہو۔ مگر کیا کریں؟ اس افراتفری کے دور میں لوگوں کوفرصتِ نظر ہی نہیں کہ مجھ جیسے نابغہ روزگار انسان کے اندر جھانک کراُس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگائیں ۔ اسی رنج سے میں بھی کسی کی تعریف کرنے سے ہر ممکن گریز ہی کرتا ہوں۔ تعریف تو دور کی بات، میں کسی سے ملتا بھی ہوں تو یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی برائیاں اور خامیاں اچھی طرح سے دیکھ بھال کر سمجھ لوں تاکہ ڈھنڈورا پیٹنے میں آسانی ہو ۔ موقع ملے توان لوگوں کی ایسی جڑ کاٹتا ہوں کہ وہ بھی کیا یاد کرتے ہوں گے ۔
لوگوں کی تِل جتنی خامی تک مجھے ایک بڑے پتھر کی مانندنظرآتی ہے لیکن کسی کی بڑی سے بڑی خوبی میں بالکل نہیں دیکھ پاتا۔ حالانکہ میری اپنی خوبیاں اس قدر زیادہ اور بڑی بڑی ہیں کہ اندھے بھی دیکھ لیں اور خامیاں.؟اگرکچھ ہیں بھی تو بالکل چھوٹی چھوٹی ،معمولی سی۔اب زیادہ کیا کہوں ،میری بڑی خوبی سچ بولنا ہے ،اسی لئے لوگ مجھ سے اکثرناراض رہتے ہیں کیونکہ میں ان کے عیب بلا جھجھک بیان کردیتا ہوں ۔آپ خود انصاف کریں، کیامجھ سے ناراض ہونے کی بجائے انہیں میری سچائی کی قدر نہیں کرنا چاہئیے؟۔ سچ وہ ہے جو دوسروں کے بارے میں بولا جائے اور چغلی اسے کہتے ہیں جو ہمارے بارے کی جائے ۔
میں جھوٹی تعریف کا کبھی قائل نہیں رہا اسی لئے کسی کی سچی تعریف بھی نہیں کرتا ۔ پھر بھی مجھے کئی دفعہ تحریک ہوئی کہ میں کسی کی تعریف کروں بلکہ کرتا بھی رہا ہوں کیوں کہ تعریف خواتین کا حق ہے اور تعارف کا ذریعہ بھی ۔ مگر میری تعریف کبھی بھی تعارف کا سبب نہ بن سکی، اُلٹا بے توقیری ہاتھ آئی ۔ ایک خاتون کو ٹی وی شو کرنے کا بہت شوق تھا مگراس کام کی باریکیاں سیکھنے کا وقت نہیں نکال سکتیں تھیں۔ بعد از اندرونی و بیرونی سفارشات میرے ایک دوست نے، جو ایک ٹی وی چینل پر اسسٹنٹ پروڈیوسر تھے، ان سے ایک چھوٹا سا segmentکروایا ۔ اتفاق سے میں بھی موقع پر موجود تھا۔ خاتون کا کام مکمل ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر بلکہ بڑھ چڑھ کر ان کے بولنے کے انداز اور اعتماد کی اندھا دھند تعریف کی۔ وہ پھولے نہ سمائیں اور پھولتے پچکتے ہوئے باربار مجھ سے یہی پوچھتیں رہیں کہ کیا واقعی انھوں نے اتنا اچھا پر فارم کیا تھا۔ میں آموختہ دھرا دیتا۔ قسمت کی خوبی دیکھئیے،ریکارڈنگ کے بعدجب اسSegmentکو پروڈیوسرنے دیکھا تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا،کیونکہ اتنی غیر معیاری پرفارمنس سر توڑ کوشش کے بعد بھی ممکن نہ تھی مگر خاتون نے کمال کر دکھایا تھا۔ مجبوراََاس نادر و نادار حصّے کو پروگرام سے نکال دیا گیا کیونکہ آن ائیر ہونے کی صورت میں پروڈیوسر کی نوکری پکّی ختم تھی۔اب جب بھی ان خاتون سے سامنا ہوتا ہے وہ منہ پھیر کر نکل جاتی ہیں۔ بے وثوق و بے اعتبارذرائع سے یہ بھی معلوم ہواکہ وہ مجھے بہت یاد کرتی ہیں …….جھوٹا ، خوشامدی، چاپلوس اورنہ جانے کس کس نام سے۔
کنجوسی صرف دولت کے معاملے ہی میں کام نہیںآتی،ایسے لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو اپنے علاوہ کسی دوسرے کی ستائش کرنے میں انتہائی بخیل واقع ہوئے ہیں ۔ ان کو یقین ہے کہ ان جیسی ذہین، وضع دار اور دلکش شخصیات خال خال ہیں ،مزید یہ کہ دوسروں کی تعریف کرنے کا مطلب خود کوکمتر ثابت کرنا ہے۔ پھر اگر کسی کی ذرا سی بھی تعریف کر دی جائے تو اس کا سیروں خون بڑھ جاتاہے اور یہ صحت کے لئے کسی طور مناسب نہیں کیونکہ جسم میں خون کی زیادتی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ۔ یہ لوگ کسی کی تعریف بھی کریں تو یوں لگتا ہے کہ مذمت کر رہے ہیں اور ایسی تعریف نما مذمت پر تو کوئی قدغن بھی نہیں۔سیاست دان ایسی ڈبل سواری اکثر کیاکرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ملک کی ترقی اور خوش حالی انہی کی شب و روز کاوشوں کا نتیجہ ہیں بلکہ کچھ شبینہ کاوشیں تو شام کے اخبارات کی اضافی سرکولیشن اور فنِ رقص و رقاصہ کی ترقی کا بھی باعث ہیں ۔ایک سیاست دان اگر اپنے حریف کی تعریف شروع کر دے تو سمجھ لیجئے یا تو وہ ریٹائر ہو رہا ہے یا پارٹی بدلنے والا ہے۔ سیاست دان وہ ذی روح ہے جو اپنے حریف کی ایک آدھ بچی کھچی خوبی میں سے بھی خامیاں اس جانفشانی سے کھینچ کھانچ کر نکالتا ہے کہ حریف اپنے اتفاقاََ کئے ہوئے اچھے کاموں تک سے حلفاََ دستبردار ہوجاتاہے ۔ تیسری دُنیا کے ممالک میں سیاست مذمت ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ حکومت بجلی فراہم نہ کرے تو نااہل، بجلی کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر لے آئے تواقربا پرور ۔ سیاست دان حریف کے ہر اچھے بُرے کام کو ایک آنکھ بند کر کے بقایا ایک آنکھ سے دیکھتا ہے۔ معروف روایتوں میں اسے آنکھ مارنا بھی کہتے ہیں جس کی ایک سزا تو متا ثرہ خاتون کا خاوند بننا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک مراثی صاحبِ ولایت ہو گیا، مگر بیوی کے لئے نتھو ہی رہا۔بیوی ہر وقت اسے نکمے پن کا طعنہ دیتی تھی۔ ایک دن اسی طعن زنی کے دوران جوش آیا تو ایک زقند بھری اور ہوا میں پرواز کر گئے ۔ شہر کے اوپر دو تین چکر لگائے اور واپس اتر کر گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی سے پوچھا’’تم نے دیکھا ایک آدمی ہوا میں اُڑ رہا تھا؟‘‘۔’’ ہاں ، کوئی بہت بڑا صاحبِ کرامت ولی لگتا تھا‘‘ بیوی نے عقیدت میں شرابور ہوتے ہوئے کہا۔’’ وہ میں تھا‘‘ نتھو صاحب نے شان سے کہا۔’’ اچھا!وہ تم تھے!!….. تبھی ٹیڑھا ٹیڑھا اُڑ رہے تھے‘‘ٹکا سا جواب ملا۔
جانے کس نادان نے کہا تھا کہ تعریف روح کی کھاد ہے ، اس سے صلاحیتیں پھلتی پھولتیں ہیں اور کار گزاری بڑھتی ہے۔لیکن مفت میں کیوں کسی کی تعریف کی جائے جب تک کوئی مفاد نہ ہو؟۔ پھرتعریف کو ہضم کرنے کے لئے بڑا دِل اور ظرف بھی چاہیئے اسی لئے میں فالتو تعریف کرنے میں محتاط ہی رہتا ہوں بلکہ جائز تعریف کرنے کے لئے بھی گھنٹوں سوچتا ہوں، ذہن کو تیار کرتا ہوں ،الفاظ ڈھونڈتا ہوں اور اتنی دیر میں جس کی تعریف کرنا مقصود تھی ، وہ مُلتان عبور کرجاتا ہے۔ البتہ تنقید میں سوچے سمجھے بغیرکر لیتا ہوں اور اس میں سوچنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ہر کوئی یہ کر سکتا ہے۔ بس اتناتصور ہی توکرنا ہے کہ آپ کے شکار کی شکل، عقل ، کپڑے ، جوتے وغیر ہ سب بکواس ہیں اوراُس کو اس بات کا علم ضرور ہونا چاہیئے کہ وہ پرلے درجے کا بے وقوف ، جاہل اور جس کام کا اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے اُس کی’ ب‘ تک سے واقف نہیں۔البتہ یہ تمام تجزیہ اس کی عدم موجودگی میں کیا جائے تو انتہائی بہتر ہے کیونکہ جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ بھی نہیں رہتا۔

Views All Time
Views All Time
696
Views Today
Views Today
1

زاہد شجاع بٹ پیشہ ور سے زیادہ شوقیہ مزاح نگار ہیں ۔ ادب کے جراثیم بچپن ہی میں پائے جاتے تھے جو قریباََ چھ سال پہلے ایکٹیو ہوئے ۔ روزنامہ دن میں کالم نگاری سے لے کر دن نیوز چینل انفوٹینمنٹ پروگرام ’’ واہ واہ ‘‘ کی سکرپٹ نگاری سے ہوتے ہوئے اے پلس کے پروگرام آدھا کار سیزن دو کے لکھاری اور پھر ڈاکٹر یونس بٹ کے ساتھ ہم سب امید سے ہیں تک ان کا چھ سالہ سفر اب اگلی منزل کی طرف بڑھنے کو ہے ۔ کالموں کا مجموعہ "خبر یہ ہے کہ‘‘ نام سے چھپ چکا ہے۔ اگلی کتاب ترتیب کے مراحل میں ہے ۔ قلم کار میں آپ ان کے چبھتے اور مزاح سے بھرپور انشائیے اور طنزائیے پڑ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   کوفتہ-ذیشان نقوی
Previous
Next

One commentcomments

  1. بہت عمدہ اور نفیس پڑھ کر تھکن اتر گیی اب اسکو میری طرف سے بونگی ہرگز قرار مت دینا بھایی جی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: