Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جامع مسجد کا پیشاب خانہ

by اگست 30, 2016 مزاح
جامع مسجد کا پیشاب خانہ
Print Friendly, PDF & Email

Sami Khanکچھ مساجد میں استنجا خانہ اور پیشاب خانہ مخلوط ہوتے ہیں اور کچھ میں غیر مخلوط۔ اب جن میں غیر مخلوط ہوتے ہیں، تو بیشتر اوقات پیشاب خانہ مسجد کے باہر ہوتا ہے۔ وہ مسجد کی دیوار کے ساتھ منسلک پیشاب خانہ، جو ایک چھوٹا سا کیبن قسم کا ہوتا ہے۔ یہاں پر عموما مٹی کے چھوٹے چھوٹے بٹھے اور گتے کا ایک کارٹن پڑا رہتے ہیں، جو بوقت ضرورت استعمال ہوتے ہیں۔ مسجد کا پیشاب خانہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں مچھر اور مکھیاں تبلیغ میں مصروف ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں، کیونکہ یہی تو وقت ہوتا ہے، جب ایک انسان یک سوئی کے ساتھ ان کی بھی سن لیتا ہے ، اور اپنا کام بھی ساتھ ساتھ کرتا ہے۔ یہاں کی خوشبو اس مشک و عنبر سے بلکل مختلف ہوتی ہے، جس کا ہم ہمیشہ مولانا طارق جمیل کی زبانی سنتے ہیں۔ یہاں شہد اور دودھ کی نہریں تو نہیں بہتیں ، لیکن ایک پیلے رنگ کی نہر ضرور بہتی ہے، جسکی روانی میں سستی اور غفلت ہمیشہ نمایاں رہتی ہے۔ یہ جگہ اپنی فطرت کے مطابق بہت تنگ اور بے ڈھنگ ہوتی ہے، لیکن پھر بھی رنگ و نسل سے با لا تر، جو اپنی فطرت میں ایک سیکولر اور لادین ہوتی ہے، یہ جگہ سکول کے استاد سے لیکر محلے کے چمار تک، امام مسجد جو صفائی کا واعظ ہوتا ہے سے لیکر مویشیوں کے ڈاکٹر تک، نسوار فروش سے لیکر سبزی فروش تک جیسے عوام کو خوش آمدید کرتی ہے، کیا بلا امتیازی ہے۔ یہاں احمدی، شیعہ، دیوبندی اور اہل حدیث ایک دنیا کے بنی آدم ہوتے ہیں۔ مسجد کے اس پیشاب خانہ کو پیشاب کے علاوہ نسوار کے چھوٹے چھوٹے گلاب جامن، میر خلیل الرحمن والی اخبار جنگ کے کچھ ٹکڑے، بہت سارے ٹوایلٹ پیپرز اور ناک کا فضلہ زینت کو مزید دوبالا کرتے ہیں ۔ پیشاب خانے کے ساتھ اوپر دیوار پر کا ہلالی رنگ کا ٹین کا کنستتر لٹک رہا ہوتا ہے، جسکے اوپر لکھا ہوتا ہے، قرآنی اوراق یہاں ڈالیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔ منجانب انتظامیہ مسجد۔ یہ ٹین اتنا پرانا ، بھرا ہوا اور زنگ آلود ہوتا ہےکہ کچھ مقدس اوراق نیچے بھی لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سب کو بالائےطاق رکھ کر، جب امام مسجد جیسا دیندار بندہ اس لادین جگہ کی زیارت کرتا ہے، جو خود صفائی اور حیا اور مثالی معاشرے کا بڑا واعظ ہوتا ہے، تو دل خون کے آنسو رونے لگ جاتا ہے۔ ایک دفعہ ہمارے محلے کی موچی نے پہلے آپ پہلے آپ فارمولے کے تحت امام مسجد کو پیشاب کرنے دیا تھا، اور امام تیرا منٹس لینے کے بعد جب باہر آیا تو موچی کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا، صرف پیشاب نہیں کرنا پڑتا، یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ خطبہ کس موضوع پر دیا جائے۔ موچی مجھے بول رہا تھا، اس جمعہ مولوی نے صفائی پہ درس دیا تھا۔ اب اگر ہماری سوچ وہاں بنتی ہے، جہاں فضلہ نکلتا ہے، تو کیا مثالی معاشرہ ہوگا اور کیا باشندے ہونگے اس مثالی معاشرے کے۔
یہ بات ذہن نشین ہو، کہ مسجد کے سامنے کا راستہ وہ واحد شارع عام ہے، جس پہ الرجی والے بچے اور مشرقی مستورات کی آمد و رفت لگی رہتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
2020
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فیس بک کی لڑکیاں-گل نوخیز اختر
Previous
Next

One commentcomments3

  1. سید وقار شاہ

    بہت افسوس ہوا. مساجد کو ٹارگٹ بنا کر اس طرح لکھنا سیکلرازم کا پرچار نہیں تو اور کیا ہے؟

  2. محترم سمیع خان صاحب،

    آپ کا مضمون نظر سے گزرا جو میرے رگ رگ میں بس گیا. آپ نے حقیقت کا انتا حقیقی نقشه کهینچا هے که شاید هی کوئی اور بیان کرتا. اگر چه مضمون کو اور بهی طول دی جا سکتی تهی پر مجموعی طور پر آپ کی لکهائی قابل تعریف هے. افتاب ملاگوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: