آئینہ میں نے دیکھا تو اکثر ہوا گمان

Print Friendly, PDF & Email

ہر لحظہ رت جگوں میں جو وحشت ہے عشق کی
مجھ پر جو آپڑی ہے قیامت ہے عشق کی

لو اپنے اِس جہاں کی کہانی ہوئی تمام
یہ جو گِری پڑی ہے عمارت ہے عشق کی

شعروں سے جس قدر بھی چھلکتی ہے چاشنی
میرا نہیں کمال ، ریاضت ہے عشق کی

چاہت کے انتخاب میں ہارا ہوں میں اگر
میرے خلاف یہ بھی سیاست ہے عشق کی

آئینہ میں نے دیکھا تو اکثر ہوا گمان
یہ میں نہیں ہوں شکل و شباہت ہے عشق کی

شاعر: وسیم عباس

Views All Time
Views All Time
176
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کرتے ہیں قلم روز قلم کار کے بازو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: