Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا منٹو بھی ’نعرے بازی‘ کے نشے میں گرفتار تھا؟

کیا منٹو بھی ’نعرے بازی‘ کے نشے میں گرفتار تھا؟
Print Friendly, PDF & Email

mantoنندتا داس سعادت حسن منٹو پہ فلم ڈائریکٹ کرنے جارہی ہیں. انڈین ایکسپریس ڈاٹ کوم پہ پوجا کهاٹی کا اس حوالے سے کیا گیا ایک انٹرویو موجود ہے. مجھے اس گفتگو کا ترجمہ کرنے کی تحریک اس لیے ہوئی کہ اس میں پوجا کھاٹی نے پہلا سوال ہی نندتا داس سے یہ کیا ہے کہ آٹھ سال بعد وہ ڈائریکشن کی طرف لوٹ رہی ہیں تو انہوں نے منٹو کو ہی فلم کے موضوع کے لیے کیوں چنا؟ تو نندتا داس نے ایک ایسی بات کہی ہے جو مجھے کم از کم ان سب دیسی لبرلز کو کھرا جواب لگتی ہے جو سید خرم زکی کی بے باکی ، بلند ہمتی اور جرات اظہار کو نعرے بازی کا نشہ ‘ یا ‘مرنے مارنے ‘ کا فلسفہ زندگی قرار دے رہے ہیں نندتا داس نے کہا
"جس چیز نے مجھے منٹو کی طرف کھینچا وہ ان کی آزاد روح اور حوصلے کے ساتھ ہر طرح کی آرتھوڈوکسی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجانا تھا. انہوں نے نایاب قسم کی حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ اپنے کرداروں بارے لکها. جتنا میں منٹو کی زندگی کی گہرائی میں ڈوبی، مجھے احساس ہوا کہ جیسے میں اپنے باپ کے بارے میں جوکہ ایک آرٹسٹ تھے پڑھ رہی ہوں -مجھے لگتا ہے کہ منٹو ہمارے زمانے کے لیے سب سے زیادہ متعلقہ Relevant ہے ”
کمرشل لبرلیان یا نواز یافتہ لبرلز کو آرتھوڈوکسی کی ہر ایک قسم جس میں تکفیری فاشزم بدرجہ اتم شامل ہے ‘نعرہ بازی ‘لگتی ہے اور ‘خطرناک لفاظی’ لگتی ہے اور وہ اسے ایک نشہ اور عادت بد قرار دیتے ہیں اور ان کو وہ ‘نایاب حساسیت اور ہمدردی، بیوقوفی لگتی ہے جو منٹو جیسے لوگ اپنے کرداروں کے لیے محسوس کیا کرتے تھے
نندتا داس نے لکھا ہے کہ سعادت حسن منٹو ہوتے تو آج کے زمانے پہ بہت کچھ ہوتا ان کے پاس کہنے کو. جو لوگ آج کے آشوب پہ نایاب حساسیت کے ساتھ لکهنے اور کہنے والے کے قتل کا سبب اس کی نایاب حساسیت کو ٹہرا دیتے ہوں ان کے نزدیک نندتا داس بهی نعرے بازی کے نشے میں گرفتار ہوگی
………
پوجا کھاٹی : آپ آٹھ سالوں بعد ڈائریکشن کی طرف لوٹ رہی ہیں. منٹو پہ فلم کو ہی کیوں چنا آپ نے ؟
این داس : میں نے کئی سالوں تک منٹو پر فلم بنانے کے آئیڈیے کو پالا ہے یہاں تک کہ یہ خیال میرے دل میں ‘فراق’ فلم بنانے سے بھی پہلے تھا-اب میں جذباتی اور تخلیقی اعتبار سے اس کہانی کو بتلانے کو پوری طرح سے تیار ہوں جسے بتلانے کی اشد ضرورت بھی ہے. جس چیز نے مجھے منٹو کی اور کهینچا وہ ان کی ‘آزاد روح’ اور حوصلے کے ساتھ ہر قسم کی آرتھوڈوکسی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجانا تھی. انہوں نے نایاب حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ اپنے کرداروں کے لیے لکھا-میں جتنا منٹو کی زندگی کی گہرائی میں جھانکتی گئی مجھے اتنا ہی زیادہ احساس ہوا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے والد کے بارے میں پڑھ رہی ہوں جوکہ ایک آرٹسٹ تھے – مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے آج کے زمانے سے بہت زیادہ متعلقہ ہیں.
پوجا کھاٹی : منٹو کے کام سے آپ کا پہلی بار سابقہ کیسے ہوا ؟ اور ان میں آپ کا سب سے فیورٹ کون ہے؟
این داس : میں نے منٹو کو پہلی مرتبہ تب پڑھا جب میں کالج میں تھی اور اس کے سادہ مگر مضبوط بیانیے سے ششدر رہ گئی ، منٹو کی کئی چیزیں میری فیورٹ ہیں، براہ کرم مجھے ان میں انتخاب کا مت کہیں. منٹو نے ایک مرتبہ کہا تھا،’ میں معاشرے کی چولی کیوں اتارنے لگا جوکہ پہلے ہی اتری ہوئی ہے ؟ یہ درست ہے کہ میں اسے ڈھانپنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ مرا کام نہیں ہے …مرا کام ایک سفید چاک سے لکھنا ہے تاکہ میں بورڈ کی سیاہی کی طرف توجہ کراسکوں ‘ منٹو نے جیسا دیکھا اور جو محسوس کیا بغیر اسے تحلیل کیے اس نے ویسا لکھ ڈالا.
پوجا کھاٹی : آپ نے اپنی فلم کا فوکس منٹو کے نان فکشن کام پہ ہی کیوں رکھنا پسند کیا ؟
این داس : فلم منٹو کی زندگی کے سب سے دلچسپ سات سالوں – 1946ء سے لیکر 1952ء تک – اور ان دو شہروں-لاہور اور ممبئی – جہاں وہ ان سالوں میں رہا، کے گرد گھومتی ہے – اور یہ بیانیہ اس کے سب سے طاقتور افسانوں کے ساتھ بهی جڑا ہوا ہے اور جہاں ہم اس کے کام اور اس کی زندگی دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ گهلے ملے دیکهتے ہیں -تو بس یہ فلم نہ تو اس کی کسی ایک کتاب پہ ہے نہ ہی کسی خاص کام پہ- اس کہانی کو بننے اور بتلانے میں مجهے اپنی فلم کے لکھاری علی میر کے ساتھ تحقیق میں تین سال لگ گئے -ایسی کہانی جو ہمارے زمانے اور میرے سے بہت زیادہ تعلق رکهتی ہے، منٹو کی روح ہی اس فلم کی روح ہے
پوجا کهاٹی : آپ نے مرکزی کردار کے لیے نواز الدین صدیقی کو چنا ہے –
این داس : منٹو ایک چیلنجنگ رول ہے اور چند ہی اداکار منٹو کے کردار کو نبھانے کی اہلیت رکھتے ہیں -مجھے خوشی ہے کہ میں نے نواز کو اس کردار کے لیے پایا ، ایسا کردار جوکہ جذبات کا ایک وسیع دائرہ دریافت کرتا ہے اور تضادات سے بھرا ہوا ہے – میں نے راسیکا دوگل کو منٹو کی بیوی صفیہ کے کردار کے لیے فائنل کیا ہے -نواز اور رادیکا یقینی بات ہے طاقتور ادکاری کے جوہر دکهائیں گے
پوجا کهاٹی : آج کے ہندوستان میں منٹو اور اس کی تخلیقی آزادی کیسے بچ پائے گی ؟
این داس : جتنا گہرائی کے ساتھ میں اس پروجیکٹ کے ساتھ جڑی ، مجهے زیادہ یقین ہوتا گیا کہ منٹو کے آج کے زمانے کے حوالے سے ‘بامعنی اور متعلقہ ‘ہونے کا – کچھ زیادہ بدلاؤ نہیں ہوا-قریب قریب 70 سال بعد ہم ابهی تک بهی آزادی اظہار جیسے مسائل اور شناخت کی جدوجہد سے نبردآزما ہیں-یہاں تک کہ آج بهی ہماری شناختیں ذات پات ، طبقہ اور مذہب کے ساتھ برخلاف انسانی تجربے کی عالمگیریت میں دیکهے جانے کے جوڑ کر ہی دیکهی جارہی ہیں -چیزوں پہ پابندی اور تخلیقی اظہار کو خاموش کرائے جانے کا چلن عام ہوگیا ہے- ان زمانوں کے متعلق منٹو کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہونا تها.
پوجا کهاٹی : آپ منٹو کو کیسے جوڑتی ہیں ؟
این داس : یہ اس کی بے خوفی اور انسانی حالات کار بارے گہری دلچسپی ہے جس نے مجهے ہمیشہ اس کے گہرائی سے جڑے ہونے کا احساس دلایا – انسانی زندگی کا کوئی گوشہ اس کے ہاں نہ تو ‘ان چهوا’ رہا اور نہ ہی ٹیبو قرار پایا – اس کے لیے جو شناخت کوئی معنی و قدر رکهتی تهی وہ انسان ہونا تهی-منٹو کے ہاں مشکل ترین اوقات میں لکهے ہوئے لفظوں کی بے مثال طاقت مجهے اپنے کہانی سنانے کے جذبے کی باز گشت لگتی ہے – اس کے زریعے میں نے محسوس کیا کہ میں ایک رودار اور پرجوش دنیا کے ساتھ اپنی لگن برقرار رکهنے کے قابل ہوئی ہوں- مجهے لگتا ہے کہ ہم سب کے اندر ‘منٹویت’ ہے – وہ گوشہ جو ہم سے روح آزاد اور بے باک متکلم ہونے کا تقاضا کرتا ہے.
پوجا کهاٹی : منٹو کی تحریروں نے کئی تنازعے جنم دیے اور اسٹبلشمنٹ کو بے چین کیا- آپ ان کے کام کو کیسے دیکهتی ہو؟این داس : منٹو تقریبا ترقی پسند ادب کے مترادف تها اگرچہ اس کے انجمن ترقی پسند ایسوسی ایشن سے تعلق تناؤ کا شکار تهے -تاہم اگر کوئی منٹو پہ کوئی لیبل چسپاں کرے تو ایسا کرنا محال ہے کیونکہ وہ اپنی شرائط پہ جیتا تها اور اسے سماجی تحکمات کی پرواہ نہ تهی ، وہ غیر متزلزل تها اور اس نے اسٹبلشمنٹ کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر اور اکثر لطیف طنز و مزاح کے ساتھ بات کرنے کی خواہش کو کبهی نہ دبایا- بهارت اور پاکستان دونوں میں چهے بار اس پہ فحاشی کے الزام میں اس کی بے باک کہانیوں کی وجہ سے مقدمہ چلا- عورتیں اس کی کہانیوں پیچیدہ اور بہت زیادہ بالغ کرداروں میں سامنے آئیں بلکہ اس نے اپنی زیادہ توجہ اور ہمدردانہ نظر سیکس ورکرز پہ رکهی – جب کبهی اس سے اس کی کہانیوں کے موضوع کے انتخاب پہ سوال ہوتا تو منٹو کا ردعمل یوں ہوتا:
‘اگر آپ مری کہانیوں کو برداشت نہیں کرپاتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمانہ اور حالات کار ہی ناقابل برداشت ہیں”
پوجا کهاٹی : آپ کے آگے کیا ارادے ہیں ؟
این داس: منٹو ابهی شروع ہونے والی ہے اور مری توجہ فی الحال اسی پہ مرکوز ہے

Views All Time
Views All Time
710
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   منّو بھائی کی یادیں: اپنے آپ سے زیادہ مایوسی نہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: