جنم جلے | وقاص اعوان

Print Friendly, PDF & Email

آج عمان کے بہت کم آبادی والے علاقے اور پہاڑوں کے بیچ موجود گاؤں میں میرا جانا ہوا اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں ایک پاکستانی ضعیف العمر بزرگ ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے دکھائی دیئے۔ گاڑی روکی پوچھا کہاں جائیں گے ؟ کہنے لگے فلاں جگہ ، انکی منزل میری منزل سے بھی آدھ گھنٹہ آگے کی تھی۔ میں نے کہاں آیئے فلاں جگہ تک آپکو لے جاتا ہوں اور وہاں سے آگے کیلیے ٹیکسی بھی آسانی سے مل جائے گی۔ بزرگ فوراً بیٹھ گئے کیونکہ بقول ان کے وہ ایک گھنٹے سے ٹیکسی کے انتظار میں تھے۔ ڈرائیو کرتے وقت پوچھا چچا آپ کہاں سے ہیں ؟ کہنے لگے بیٹا بہاولپور سے ہوں۔ ان کے شہر کا نام سُنتے ہی احمد پور شرقیہ کا ہولناک منظر میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ خیر ان سے اظہار افسوس کیا کہ کچھ دن پہلے آپ کے شہر کے قریب بہت بڑا حادثہ ہوا تھا جس میں کافی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اتنا سننا تھا کہ بزرگ دھاڑ مار کر رونے لگ گئے ان کے یکدم اوُنچی آواز میں رونے سے میں ڈر گیا کہ پتہ نہیں کیا وجہ ہے جو ایسے زاروقطار رونے لگ گئے لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ ان کے شہر کے حادثے کا ذکر نہیں کرنا چاہیئے تھا ظاہر ہے تکلیف و دُکھ ہمیشہ پاس رہنے والوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں ان سے مزید کوئی بات کرتا روڈ پر ایک چھوٹی ہائپر مارکیٹ نظر آئی۔ میں نے گاڑی روکی مارکیٹ کے اندر گیا دو پانی کی بوتلیں اور دو انار کے جوس لیکر آیا ایک جوس اور پانی کی بوتل بزرگ کو دیکر کہا چچا پانی پیجیئے پانی لیتے ہوئے کہنے لگے جوس رہنے دو بیٹا میں چائے زیادہ شوق سے پیتا ہوں۔ میری منزل قریب ہی تھی میں نے کہا چلیں وہاں چل کر چائے پیتے ہیں۔ منزل پر پہنچ کر ایک پاکستانی ہوٹل میں انہیں لے آیا چائے کا آرڈر دیا اور بزرگ سے مخاطب ہوا چچا کیا اس حادثے میں کوئی آپ کا عزیز بھی جل گیا تھا ؟ کہنے لگے بیٹا میری بہن کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک اٹھارہ سالہ بیٹا ، اس حادثے میں میرا بھانجا جل کر مر گیا اس کا باپ پانچ سال پہلے ہی وفات پا چکا ہے یہی ایک بیٹا اپنی ماں اور دو بہنوں کا آسرا تھا وہ بھی چلا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ، میں نے کہا چچا بہت تکلیف ہوئی اتنا بڑا سانحہ ہوا کتنے گھروں کے چراغ بجھ گئے میری بات ٹوکتے ہوئے کہنے لگے بیٹا میں اپنے جوان بھانجے کے جنازے میں بھی شریک نا ہو سکا کیونکہ جنازہ ہوا ہی نہیں لاش ملی ہی نہیں پتا چلا ہی نہیں کہ وہ جلنے والوں میں کون سا تھا ؟ اُف میرے خدایا یہ سننا تھا میرے تو رخسار بھیگے سو بھیگے پاس سننے والے بھی رو پڑے۔ دوبارہ گویا ہوئے کہنے لگے افسوس میں اپنی بہن کے پاس جاکر گلے لگا کر اُسے دِلاسہ بھی نا دے سکا بیٹا میں کیسے جاتا میں غربت کا مارا ہوا ہوں میری اپنی تین بیٹیاں ہیں بیٹا نہیں ہے ان تین بیٹیوں کی خاطر اس 52 سالہ عمر میں بھی دیارِ غیر میں مزدوری کرتا ہوں میں نہیں جا سکتا تھا میں مجبور تھا لیکن تسلی اس وقت ہوئی جب حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو 20 لاکھ دینے کا اعلان کیا سوچا چلو میری بہن کے دُکھ کا کچھ مداوا ہو جائے گا اپنی بیٹیاں بیاہ لے گی لیکن میں بھول گیا تھا غریب سِسک سِسک کر مرتے ہیں حکومت نے جو امداد دینے کا اعلان کیا تھا وہ چیک کیش ہی نہیں ہوئے اور مجھے نہیں لگتا یہ امداد ہم تک پہنچے گی۔ بزرگ ایک لمحہ کیلیے رُکے اور دوبارہ گویا ہوئے بیٹا ہماری حکومت سے تو میرا کفیل اچھا ہے جس نے اس حادثے کا سن کر میری بہن کیلیے 200 ریال ( پاکستانی 55 ہزار ) اسی وقت نکال کر مجھے دیئے کہ یہ پیسے اپنی بہن کو بھیجو۔

یہ بھی پڑھئے:   پارا چنار کی تاریخ اور فکری تضادات (پہلا حصہ) | شاہسوار حسین

اس 52 سالہ بزرگ کی باتیں سُن کر آنکھیں نم تو ہوئیں لیکن تعجب نا ہوا کیونکہ میرا ایک پارا چنار کا دوست ہے کہتا ہے۔ اس چیز کا ہمیں پہلے سے پتہ ہے کیونکہ خود میری بہن کا شوہر 2013 کے پارا چنار بم دھماکے میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گیا پہلی بار دھماکے کے وقت حکومت نے کچھ دن علاج کیا لیکن بعد میں نہ ایک کوڑی ملی نہ ہی حکومتی طور پر علاج ہوا۔ میری بہن نے چند مرلے کا پلاٹ بیچ دیا کچھ پیسے میں نے بھیج دیئے تھے اور آپریشن کرایا تو بہن کا شوہر چلنے پھرنے سے اور بچوں کے لئے کمانے سے بلکل معذور ہو گیا۔ بھانجوں اور بھانجیوں کے سکول کی فیس ، کپڑے ، کتابوں کا سارا خرچہ اب بھی میں ہی ادا کر رہا ہوں حکومت فقط عین وقت پر اعلان کر کے عوام کو بیوقوف بناتی ہے بعد میں اگر پیسے مِلتے بھی ہیں تو اثر و رسوخ والے لوگوں کو۔۔۔۔۔!

Views All Time
Views All Time
489
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: