Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

مجبور مرد

Print Friendly, PDF & Email

عجب ستم ہے کہ انسانوں کی تقسیم کم تھی جو دکھوں، غموں، مجبوریوں کو بھی جنسوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ وہ چاندنی رات میں پگڈنڈی پر چلتا ہوا خود کلامی کر رہا تھا۔ چلتے چلتے جب وہ تھک کر نڈھال ہو گیا تو ایک ٹیلے پر جا بیٹھا۔ جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔ دھوئیں کے مرغولے بادلوں کی ٹکڑیوں کی مانند کچھ اوپر جا کر فضا میں گم ہو جاتے۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو گھنے جنگلات میں بہتے چشمے کے پانی کا شور ایسے سنائی دے رہا تھا جیسا کوئی طوفان برپا ہونے والا ہو۔

آخر یہ تقسیم کس نے کی؟ کیا جنس کے بدل جانے سے مزید بٹوارے بھی ہو جاتے ہیں؟ جب کسی انسان کو اپنی جنس پر اختیار نہیں تو پھر یہ تقسیم کیونکر؟ شاید یہ تقسیم سماج کے پہلوؤں پر ہوئی ہے یا پھر کسی ذہن کی اختراع ہے؟ کیا مرد جنس ہونے سے دل کوئی سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے؟ یا پھر مرد ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اسے کوئی دکھ نہیں ہوتا؟ یہ بھی کسی مردانہ ذہن کی تخلیق ہو گی جو مرد کو کوئی افلاطون شے بنانا چاہتا ہو گا۔ حقیقت میں تو ایسا بالکل نہیں ہے ،پھر جو ایسا مضبوط بننے کا دکھاوا کرتے ہیں وہ کیا ہوتے ہیں؟ وہ شاید اداکاری کرتے ہیں۔ ہاں وہ بہترین اداکار ہوتے ہیں۔ جب میں عورت کی صنف پر نظر دوڑاتا ہوں تو کمزور،لاغر، بے بس، مجبور جیسے الفاظ ذہن کی سکرین پر ابھرنے لگتے ہیں۔ جبکہ یہ سارے القابات اس کو کسی مرد نے دیے تھے۔ تا کہ وہ خود کو کمزور سمجھ سکے تا پھر کسی عورت نے ہی یہ واہمے پھیلا دیے؟

یہ بھی پڑھئے:   سائنس اور آج کا نوجوان -محمد نعمان کاکا خیل

سگریٹ کے لمبے لمبے کشوں کے ساتھ اس کی دل و دماغ میں زبردست کش مکش جاری تھی۔ اس نے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبایا اور درخت کی اوٹ دیکھنے لگا جیسے وہ اس کی باتیں سن رہا ہو وہ سانس لینے کے بعد پھر گویا ہوا۔ زمانہ مشہور جملہ ہے کہ مرد محبت میں روتا نہیں، مجبور نہیں ہوتا، وہ سماج کی ہر دیوار کو گرا سکتا ہے، وہ ہر روایت کو پاٹ سکتا ہے۔ کیا یہ حقیقت بر مبنی ہے یا محض فسانے ہیں؟ یہ محض فسانے ہی تو ہیں۔ کیونکہ عورت ہو یا مرد وہ وہ دونوں ہی مرد کو ایک مضبوط ترشے بنانے پر مصر ہیں۔ جبکہ حقیقت میں وہ ریت کی دیوار کی طرح ہے جو ایک ہی ضرب سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔ عورت کے گرد سماج کی دیواریں کھیچنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد بھی اسی دنیا کا باشندہ ہے وہ بھی گوشت پوست کا بنا ہوا انسان ہے، اس کے ہاتھوں میں بھی خاندان کی نمود کی ہتھکڑیاں بندھی ہیں، اس کے پاؤں میں بھی عزت و آبرو کی بیڑیاں کس کر باندھی ہوئی ہیں، اس کے ماتھے پر بھی مجبوری کا تِلک لگا ہے۔ جو شاذو نادر ہی کسی کو نظر آتا ہے۔ کاش کوئی آنکھ مجبوریوں کی زنجیروں سے لپٹے ہوئے میرے وجود کو دیکھ سکے۔ کاش کوئی انسان میرے باطن میں غوطہ زن ہو کر میرے دُروں کی توڑ پھوڑ کو دیکھ سکے۔ میں وہ بے بس و مجبور انسان ہوں جس کے ایک طرف اس کی محبوبہ کی محبت کا سمندر ٹھاٹھییں مار رہا ہے تو دوسری طرف باپ کے بندھے ہوئے ہاتھ۔ اور ان میں عزت کی پگڑی جو میری ایک بغاوت پر انہیں بے آبرو کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر میں محبت کو اپناتا ہوں تو باپ کی جان نکلتی ہے اگر میں محبوب کا در چھوڑتا ہوں تو اس کی سانسوں کی مالا ٹوٹ کر بکھرتی ہے۔ کیا کوئی اس کا حل ہے؟ سوائے اس کے کہ ایک کو چھوڑا جائے اور ایک کو اپنایا جائے۔ وہ بہتے چشمے کی آواز کو غور سے سننے لگا۔ جس میں تلاطم پیدا ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   ایک ریشنل ڈبیٹ کا فقدان

مجھے کسی ایک کو چھوڑ کر ایک کو نہیں اپنانا بلکہ مجھے دونوں کے مان کو برقرار رکھنا ہے، مجھے مر جانا چاہیے، ہاں میرا مرنا ہی بہتر ہے۔ موت بھی ایسی کہ میرا سر محبوب کی گود میں ہو۔ میرے ہاتھ اپنے باپ کے ہاتھوں میں ہوں۔ میری ماں کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہو اور وہ خاندان کے ناموس کے رکھوالے میرے گرد جمع ہوں تا کہ وہ دیکھ سکیں کہ روایات کی بھینٹ ایک مرد چڑھ گیا۔ اس بار کسی عورت نے زہر نہیں کھایا بلکہ ایک مرد نے جس کے بارے میں قصے مشہور ہیں کہ اسے درد نہیں ہوتا۔ وہ مجبور نہیں ہوتا۔ وہ تیز قدموں کے ساتھ چشمے کی طرف دوڑنے لگا۔ پانی کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔

 

Views All Time
Views All Time
344
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: