Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تلاش گمشدہ … واحد بلوچ

by ستمبر 25, 2016 بلاگ
تلاش گمشدہ … واحد بلوچ
Print Friendly, PDF & Email

wahid-balochکچھ چہرے یا تصاویر دیکھ کر انسان کے ذہن میں اُس شخص کے بارے میں ایک ہلکا سا خاکہ بن جاتا ہے، یہ ایک قدرتی صلاحیت ہے جس کا کوئی ادراک رکھتا ہے اور کوئی محسوس نہیں کرتا لیکن اسے لاشعوری طور پر استعمال ضرور کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ تاثر سو فیصدی درست ہو لیکن انگریزی کے لفظ  First Instinct کی طرح یہ خاصیت بھی انسان میں بہرحال موجود ہوتی ہے کہ دوسرے انسان کا چہرہ دیکھ کر یا بات کرتا دیکھ کر اس کی شخصیت کے بارے میں ایک خاکہ وضع کر لیتا ہے۔ میں نے ابھی عبد الواحد بلوچ کی تصویر دیکھی جس میں وہ اپنی کتابوں کے ساتھ، شلوار قمیض پہنے ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اُس کی قمیض کی جیب میں ایک قلم بھی موجود ہے۔ قلم جیب میں رکھنے والا ظاہر ہے دہشتگرد تو نہیں ہوسکتا۔ چہرے پر سادگی، مسکراہٹ اور معصومیت کی ملی جلی آمیزش ہے۔ دیکھتے ہی میرے ذہن میں ایک بے ضرر انسان کا خاکہ بنا۔ الفاظ میں بیان کرنا چاہوں تو شاید کسی ایسے شخص کا خاکہ جو اگر آپ کو مسافر بس میں کھڑا نظر آئے تو آپ کا دل چاہے کہ اِسے بیٹھنے کی جگہ دے دینی چاہئے، بھلا مانس آدمی لگتا ہے۔ یہ کچھ عمومی سا خاکہ بنا ہے میرے ذہن میں واحد بلوچ کا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے حق میں لکھنا میری حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگائے گا یا نہیں، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ حب الوطنی بہرحال انسانیت کی ضد نہیں ہوسکتی۔ لہذا میں اُس خاکے کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں عبد الواحد بلوچ کی گمشدگی پر اپنے حصے کا سچ لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اِس بے ضرر اور کتاب دوست انسان کیلئے لکھنے سے میری حب الوطنی پر کوئی آنچ نہیں آئے گی، البتہ اُن محب الوطنوں کیلئے واحد بلوچ ایک لٹمس ٹیسٹ ضرور ثابت ہوگا جو بلوچستان کے بارے میں بلوچستان سے باہر بیٹھ کر بلوچوں سے زیادہ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جن کے نزدیک بلوچستان کا سارا جھگڑا چند بلوچ سرداروں کا جھگڑا ہے جو بھتہ نہ ملنے پر بغاوت کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں واحد بلوچ کو وہ کس قبیلے کا سردار ثابت کرتے ہیں۔ بارہا پڑھ چکے اور لکھا کہ تاریخ ظالم اور مظلوم کو تعین ضرور کرتی ہے، آج جو تلخ حقیقتیں ‘حب الوطنی’ کے مقدس قالین کے نیچے سرکا دی جاتی ہیں، آنے والی نسلیں انہی پر بحث کرکے ایک دوسرے کو غداری کے تمغے پہناتی نظر آئیں گی۔ تو کیوں نہ ہم آج اپنے حصے کا سچ بولیں؟ چلیں مان لیا کہ ان ایشوز پر  بات کرنا آپ ملکی مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔ آپ کا یہ بھی ماننا ہے کہ بلوچ آپ کے پاکستانی بھائی ہیں، بلوچستان کا مسئلہ کشمیر جیسا نہیں ہے اور بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس بلوچ کو اپنا ہم وطن سمجھتے ہوئے اس کی گمشدگی پر آواز اٹھائیے۔ آپ اپنے ایک ہم وطن کیلئے اور کچھ نہیں تو تلاش گمشدہ کا اشتہار ہی دے دیجیئے؟ اس میں لکھیے کہ واحد بلوچ نامی ایک علم دوست اور دانشور / شاعر کو پاکستان کے شہر کراچی جاتے ہوئے نامعلوم افراد مسافر بس سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔ تمام محب الوطن دوستوں سے درخواست ہے کہ اس اشتہار کو پھیلائیں تاکہ واحد بلوچ بازیاب ہو سکے۔ یا ایسا لکھنا بھی مشکل ہے؟ یہ میں نے اپنی طرف سے ایک کوشش کی ہے وطن دوست احباب کو اپیل کرنے کیلئے۔ باقی وہ جانیں، ان کی مصلحتیں اور گمشدہ واحد بلوچ۔ آخر میں واحد بلوچ کی بیٹی ہانی بلوچ کا ایک پیغام ہم سب کیلئے: ” اب یہ سوال میں اس ملک کے لوگوں پر چھوڑ تی ہوں کہ کتابوں کا جنون رکھنے والا مجرم ہوتو کیو ں اس ملک کی لائبریریوں کو بند نہیں کیا جاتا؟! کیوں ایسے انسان کو اذیت میں رکھ کر اس کے گھر والوں کو اذیت دی جارہی ہے ؟ ” "قوم کی بیٹی” عافیہ صدیقی کے غم میں نڈھال محب الوطنوں سے گذارش ہے کہ واحد بلوچ کی بیٹی کی بات بھی ضرور سنیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

 

Views All Time
Views All Time
800
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: