Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

وائرل پوسٹ اور لفافی کی حقیقت

Print Friendly, PDF & Email

کچھ دن پہلے سننے کو ملا کہ مریم نواز کا میڈیا سیل بند ہو گیا ہے۔ اب ان کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ خبر اے آر وائی نیوز نے چلائی اور ٹوئیٹر پر شور پلانٹڈ شو کا بھانڈا پھوٹنے پر مشہور ہونے والی اینکر مہر عباسی صاحبہ نے بریکنگ سٹوری کے طور پر مچایا۔ پھر اگلے ہی دن فیس بُک پر چند احباب اِس پر بغلیں بجاتے نظر آئے تھے۔ اُن کے دلائل اور پھسپھسی جگتیں سن کر ذرا بھی مزا نہیں آیا کیونکہ جن لوگوں کا نام مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل کے مرکزی کرداروں کے طور پر سامنے آتا ہے وہ مسلسل اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت کل مریم نواز کے ٹوئیٹر اکاونٹ سے پانج بج کر آٹھ منٹ پر ہونے والا ٹوئیٹ ہے۔

آج دو دن بعد جب جسٹس شوکت صدیقی کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تو یہ وائرل ہو گئی بالکل ویسی ہزاروں پوسٹوں کی طرح جو آئے روز وائرل ہوتی ہیں۔ ایک اور تازہ مثال ہے جب بیسیوں لوگوں نے عمران خان کی آڈیو انباکس کر کے وائرل کی۔ ظالم چار سال سے پٹواری کہہ کہہ کر اب آڈیو بھیج کر میرا ایمان تازہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ خیر صدیقی صاحب والی ویڈیو مجھے بھی دو ایسے دوستوں نے بھیجی جن پر ن لیگ کے پے رول کا الزام لگانا میں ان کی توہین سمجھتا ہوں۔ دونوں دوست کوئی سلیبرٹی نہیں بلکہ میری طرح عام سوشل میڈیا صارف ہیں۔ ہمارے درمیان اکثر دلچسپی کی حامل ویڈیوز کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ میں نے جسٹس صاحب کی ویڈیو نہیں لگائی کہ میں اس وقت بیڈ بوائے بننے کے موڈ میں نہیں تھا لیکن پچھلے چند گھنٹوں میں متعدد پوسٹیں اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر لکھی گئی ہیں۔ حسب توقع اس کے وائرل ہونے کے پیچھے مختلف سازشی عناصر کی تلاش کی جا رہی ہے۔

اس بات سے مجھے انکار نہیں ہے کہ ہر جماعت نے اپنے اپنے سوشل میڈیا سیل بنائے ہوئے ہیں جس میں مختلف افراد کی معاوضے پر خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ کسی ایک جماعت کے تمام حامیوں کو لفافی (paid) کہنا اور دوسری جماعت کے اس سے بھی شدید حامیوں کو رضاکار (volunteer) کہنے جیسی ہاتھ کی صفائی بڑے اور تجربہ کار کالم نگار ہی کر سکتے ہیں۔ میرا جیسا عام بندہ بس ایسی واردات دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   میں اس ملک کا مالک ہوں

خیر الزامات لگانے سے پہلے چند مثالیں دیکھتے ہیں۔ اگر قمر نقیب خان اکیلا کسی سوشل ایشو پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ویڈیو پر ویور شپ لے سکتا ہے تو بلاشبہ سوشل میڈیا پر ہزاروں حمایتی رکھنے والی ن لیگ کے کیمپ سے ایک ویڈیو کے پھیلنے کی وجہ صرف لفافی کیسے ہو گئے؟ مطلب یہ کہ عماد بزدار، ظہیر تاج اور پی ٹی آئی کے حق میں چند دیگر لکھنے والے لوگ اپنی پارٹی کی حمایت میں لکھیں اور ان کی پوسٹ وائرل ہو جائے جو کہ اکثر ہوتی بھی ہیں، تو ان لوگوں کو میں لفافی کہوں تو بددیانتی کہلائے گی۔ مجھے علم ہے کہ والنٹیئر ہیں اور ایک مقصد یا نظریے کے تحت یہ سب لکھ رہے ہیں کیونکہ وہ موجودہ نظام میں کرپشن کی بیماری سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسے ہی اگر اشفاق بھائی، معاذ یا دیگر دوست ن لیگ کے حق میں کچھ لکھیں اور وہ وائرل ہو جائے تو اسے بھی لفافی کہنا بددیانتی کہلائے گی۔ قلمکار پر ہمارے ساتھ چند ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بدامنی کے مسئلے پر تحقیق کے ساتھ لکھے جانے والے کالموں پر ایک مذہبی جماعت کی جانب سے شدید ردعمل آیا اور لفافی کے بہتان لگائے گئے کیونکہ ان کے بارے میں چند تلخ حقائق تحاریر کا حصہ تھے۔ ایسا ہی الزام کئی دفعہ تب بھی سامنے آیا جب برادر مصلوب واسطی نے ایرانی سیاسی نظام پر اپنے معلوماتی کالم لکھے۔ بہت سے اہل تشیع دوستوں نے جواب میں یہودی ایجنٹ ہونے اور ڈالر لینے کا الزام بھی لگا دیا۔

ان زندہ مثالوں کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ جسٹس صدیقی والی ویڈیو وائرل کیوں کر اور کیسے ہوئی۔ اس ویڈیو نے بہت سے دوستوں کو نہ صرف متفکر کیا بلکہ ایک نیا موضوع بھی دے دیا جس پر وہ پہلے تو کچھ دوستوں کی وال جو کہ ن لیگ کے میڈیا سیل کی دہائی مچاتے تھے پر کمنٹ کر کے اپنا غصہ نکال لیتے تھے لیکن اب انہیں خود کھل کر تجزیہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

شوکت صدیقی صاحب نے ایک تقریر کی جس میں چند ایسے الزامات لگائے گئے جو کہ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی جماعتوں کی طرف سے لگائے جاتے رہے ہیں مثلاً پیپلز پارٹی نے پچھلے دنوں ایک پریس کانفرنس میں کچھ اشارے کیے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے ہاں کے لبرلز جنہیں یار دوست پتا نہیں کن کن ناموں سے پکارتے ہیں اور وہ خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ گردانتے ہیں، چند قوم پرست اور جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کے حمایتی جو جسٹس صدیقی کی باتوں کو ٹھیک مانتے تھے، انہوں نے تقریر کی ویڈیو کو شیئر کرنا شروع کر دیا۔ اس میں مختلف جماعتوں بالخصوص ن لیگ کے حمایتی اس پر بات کرتے اور اپنی اپنی جماعت کا موقف سچ ثابت کرتے ہوئےنظر آئے۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کا لبرل کمرشل مافیا آج کل شعلے چبائے کیوں بیٹھا ہے؟

اس وقت پی ٹی آئی کے علاوہ باقی جماعتوں کے لوگ منظم دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ ایسے میں اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہوئی اگر کوئی خبر وائرل ہو گی تو یہ مجھ سے عام بندے کے لیے بالکل حیرانی کی بات نہیں ہے۔ ہاں اہل علم و دانش چونکہ چھوٹی سی بات کو بڑا بنا کر عوام کو نہ دکھائیں تو ان کی سنتا کوئی نہیں ہے اس لیے کئی کمپنیوں اور لوگوں کو خریدنے کا شور مچایا جا رہا ہے۔ ابھی یہ شور مزید مچایا جائے گا جیسے ہی کچھ اور لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچا۔ ایک طالب علم کے طور پر میں فیس بک اور سوشل میڈیا گٹھ جوڑوں اور کیمپوں کا پچھلے دو سال سے بہت دلچسپی سے جائزہ لے رہا ہوں۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر کسی ایک گروپ کو نقصان پہنچنے والی خبر یکدم منظر عام پر آ جائے تو مخالف گروپ کے مجاہدین ایسے منظم انداز میں اپنے ہتھیار لے کر باہر نکلتے ہیں کہ اگر وہ مخالف بیانیے پر فتح نہ بھی حاصل کر سکیں اور اس کا رد نہ کر پائیں تب بھی وہ اپنے حامیان کو اس بیانیے کا شکار ہونے سے حتی الامکان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لہذا بہت احترام سے عرض ہے کہ اپنے نظریات، اختلافات اور پسند ناپسند کا اظہار ضرور کریں لیکن لفافی ہونے کا الزام لگانے سے پہلے اپنے گروہ یا جماعت کے منظم کاموں کی طرف توجہ دے کر گریبانوں میں جھانک لیا کریں۔ سارے لوگ اندھے ہوتے ہیں اور نہ ہی آپ اتنے بڑے فنکار ہیں کہ آپ کا مخاطب سمجھ ہی نا سکے کہ آپ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
286
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: