Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تشددکے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن

تشددکے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن
Print Friendly, PDF & Email

akhtar sardar chتشدد کے خلاف عالمی شعور بیدار کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے 26جون کو تشدد سے متاثرہ افراد کی حمایت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ کسی کو تکلیف دینے کے لیے ،حق راستے سے ہٹانے کے لیے ،اپنی بات منوانے کے لیے ، جسمانی طاقت کا استعمال کیا جائے تو اسے تشدد کہتے ہیں۔لیکن صرف جسمانی تشدد کو ہی تشدد کہنا درست نہ ہے ۔تشدد کی کئی ایک اقسام ہو سکتی ہیں مثلاََ ذہنی طور پر دوسرے کو مفلوج کر کے اپنا ناجائز مقصد پورا کرنا ،مالی طور پر کمزور یا غریب افراد کی عالمی قانون کے مطابق تشدد جرم ہے مگر پھر بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف بعض حکومتیں اپنے مخالفین کو سبق سیکھانے کے لیے یا ایذا رسانی کے لیے تشدد کا استعمال کرتی ہیں ۔
ہم پاکستان میں تشدد کی بات کرتے ہیں ۔گزشتہ سال 2015 کے دوران ملک بھر میں کم ازکم 314خواتین کے ساتھ زیادتی اور 173کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، 2569 پر تشددہوا جن میں سے 930 خواتین پولیس تشدد کا شکار ہوئیں،گزشتہ سال 595 خواتین کو اغوا کیا گیا اور 329 کی جبری شادی کی گئی جن میں 133بچیاں بھی شامل ہیں، ایک سال کے دوران 187خواتین زیادتی کے بعدقتل کی گئیں، 279 کو کاروکاری کے الزام میں اور956کومختلف وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔
اسی طرح عورتوں پر تشدد جسمانی اور جنسی کے علاوہ نفسیاتی تشدد بھی قابل ذکر ہے ۔ عورتوں پر جب بھی بات کی گئی جنسی و جسمانی تشدد کا ہی زیادہ ذکر کیا جاتا ہے حالانکہ سب سے زیادہ ذہنی تشدد کیا جاتا ہے جس کا تناسب کسی بھی طرح 98 فیصد سے کم نہیں ہے اگر عورتوں سے پوچھا جائے تو کوئی بھی عورت شائد ہی اپنے خاوند کے ساتھ خوش ہو (96 فیصد خوش نہیں ہیں ) ۔ گالی گلوچ، طعنے ، ہراساں کرنا، ہر وقت طلاق کی دھمکی دینا، میکے نہ جانے دینا، دوسری شادی کا خوف دئیے رکھنا، ذہنی تشدد کی چند واضح اقسام ہیں جن سے خواتین کو پوری عمر واسطہ رہتا ہے ۔خواتین پر تشدد صرف خاوند ہی نہیں بلکہ ماں باپ ،بھائی اور اگر خاتون کوئی ملازمت کرتی ہے تو وہاں بھی اس کے ساتھ رویہ جو رکھا جاتا ہے اسے تشدد ہی کہنا چاہیے ۔
بچوں کے لیے جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم نے گذشتہ سال کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق گذشتہ سال جنوری تا دسمبر بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3508 واقعات رپورٹ ہوئے (روزانہ اوسطاً 10 بچے )۔اس کے علاوہ بچوں پر گھر،سکول میں بھی تشدد کیا جاتا ہے سب سے بڑھ کر چائلڈ لیبر کا شکار بچوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے معاشرے میں بوڑھے والدین پر تشدد کیا جاتا ہے ان کی اولاد ان کو چھوڑ دیتی ہے ،یا بہو کی طرف سے ذہنی تشدد میں وہ گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔تشدد کی سب سے عام قسم ذہنی تشدد ہوتا ہے ۔جس کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں ہے کہ بچوں،بوڑھوں ،خواتین پر ہونے والے ذہنی تشدد کی وہ کہیں رپورٹ کر سکیں اسے ہماری ہاں صرف اخلاقی درجہ حاصل ہے دیگر ممالک میں کسی کو ذہنی اذیت دینے کی بھی سزا ہے ۔بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں اسلامی قانون نافذ ہیں اور ہمارے ہاں ان کا نفاذ عوام کی اکثریت کی خواہش کے باوجود نہیں ہے ۔
ہمارے ملک میں ایک طرف وکلاپولیس پر تشدد کرتے ہیں اور دوسری طرف پولیس بھی وکلا پر تشدد کرتی ہے ۔ہماری پولیس بھی تشدد کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے ۔ملزمان (جنہوں نے جرم کیا ہو یا نہ کیا ہو)پر تشدد کیا جاتا ہے ،بعض تو اس تشددسے جان کی بازی ہار جاتے ہیں ،جن پر پولیس مقابلہ ڈال دیا جاتا ہے ،بعض نے جرم نہ بھی کیا تو ظالمانہ تشدد کی وجہ سے جرم قبول کر لیتے ہیں اس طرح اصل مجرم آزاد پھرتے رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ پولیس احتجاج کرنے والوں سے وہ نابینا ہوں یا خواتین ہوں ،احتجاج کرنے والی نہتی عوام پر پولیس کے تشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
دنیا میں ہر سال 26 جون کو تشدد(خواہ کسی بھی قسم کا ہو)کے” متاثرین کی حمایت کا عالمی دن” منایا جاتا ہے ۔اس دن تشدد کی مذمت کی جاتی ہے ،متاثرین اور ان کے خاندان سے حمایت ،ان کی ہمدردی کے لیے مظاہرے کیے جاتے ہیں ۔کیونکہ تشدد کو کسی بھی صورت میں جائز نہیں کہا جا سکتا ۔ اس کے باوجود پوری دنیا میں تشدد کا غیر انسانی،ظالمانہ عمل جاری ہے ۔اور اکثر مجرم بغیر کسی سزا کے چھوٹ جاتے ہیں ۔کیونکہ قانون پر سختی سے عمل نہیں اس لیے بھی کہ قانون پر عمل کروانے اور کرنے کے پابند ادارے ہی قانون توڑتے ہیں ۔ تشدد اوراس کے معاملے میں بے حسی کی روک تھام کے لیے پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے ۔

Views All Time
Views All Time
270
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پرانے بدلے | شازیہ مفتی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: