Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جیت – آخری حصہ

Print Friendly, PDF & Email

(پہلے حصے کے لیے یہاں کلک کریں، دوسرے حصے کے لیے یہاں کلک کریں)

” سر ایک مرتبہ پھر ہماری سازش ناکام ہو گئی ہے ۔ ہم اس لڑکی کو راستے سے نہیں ہٹا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ایک اہلکار نے خبر دی ۔ اب وہ افسر کے منہ سے نکلتے ہوئے گالیوں کے عظیم طوفان کا منتظر تھا۔
” کیا بکواس ہے میں نے تم لوگوں کو کیا کہا تھا کہ آج ہر حال میں کام ہو جانا چاہیے اور تم لوگ ہمیشہ کی طرح خالی منہ لے کر آ گئے ہو ۔ شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو ایک لڑکی کو راستے سے نہیں ہٹا سکتے ۔۔۔۔۔” افسر غصے میں جانے کیا کیا کہتا کہ اچانک اسے کسی اہم شخصیت کا فون آ گیا۔
” سر ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ سر کام مشکل ضرور لیکن ہو کر رہے گا ۔۔۔۔۔۔” کچھ دیر پہلے والا افسر جو شیر کی طرح گرج رہا تھا اب بھیگی بلی بن چکا تھا ” سر یہ انٹرویو میں نے بھی پڑھا ہے ۔ ٹھیک ہے سر جیسا آپ کا حکم ! اب ہم ویسے ہی کریں گے ۔ ٹھیک ہے سر بندہ حاضر ہے کوئی شکایت نہیں ہو گی آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔” فون رکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے اس نے اہلکار کو دیکھا ” ٹھیک ہے اب تم جاؤ ۔ اب ہمارا کام شروع ہوا۔ ۔
*****************

فوج کی ایک بڑی تعداد درناب کے گھر پر موجود تھی ۔ مسلح اہلکاروں نے تمام سامان تہس نہس کر دیا ۔ درناب کے تمام مضامین ضبط کر لیے گے ۔ درناب چلاتی ہی رہ گئی اور وہ اسے باغی قرار دے کر گھر میں نظربند کر کے چلے گے ۔ گھر کے باہر سپاہیوں کا ایک بڑا دستہ تعینات کر دیا گیا
***************

اس قید کے باوجود درناب نے کئی مضامین لکھ ڈالے مگر اشاعت کا کام تھا ۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ مضامین دنیا کے کسی بڑے اخبار میں شائع ہوں تا کہ وہ قابضین کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا سکے کہ کیسے وہ پرامن لکھاری کے پیچھے بھی ہاتھ دھو کر پڑ چکے ہیں۔ لیکن اس کا لیپ ٹاپ فون سب دشمن کے قبضے میں تھے۔
گھر کے باہر سخت پہرہ تھا ۔ کوئی طریقہ ایسا نہ تھا کہ وہ اپنے مضامین شائع کروا سکتی ۔ فوج کے اہلکار اس کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے ۔ آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی ۔ اس کے گھر کے پچھلی جانب ایک دروازہ تنگ گلی میں کھلتا تھا ۔ گلی کی دوسری جانب چچا احمد کا گھر تھا ۔ درناب نے ایک خط لکھ کر تمام مضامین ماں کے حوالے کیے اور انہیں ساری ترکیب سمجھا دی ۔ فوج ماں کے بجائے درناب پر نظر رکھے ہوئے تھی اس لیے درناب کی ماں کو باہر جانے میں مشکل نہ ہوئی اور نہ ہی انہوں نے اس کی غیر حاضری کو محسوس کیا ۔ درناب کی ماں کچھ ہی دیر میں خط اور مضامین احمد چچا کے حوالے کر کے اسی راستے واپس آ گئی
****************

یہ بھی پڑھئے:   پورے آسمان کے برابر کہکشاں

” سر ہم پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا بہت دباؤ ہے ۔ سر درناب کے مضامین پابندی کے باوجود شائع ہو رہے ہیں ۔ عالمی میڈیا پر بھی اس مسئلے کو خوب اچھالا جا رہا ہے ۔ ہمیں ہر حال میں اس پابندی کو ختم کرنا پڑے گا۔ بہت دباؤ ہے ہم پر ۔۔۔۔۔۔۔۔” نظر بندی کے احکامات ماننے والا افسر اب مکمل بےبس ہو کر اعلیٰ شخصیت کو تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا ۔ دونوں کی پریشانی دیدنی تھی سو اس نے افسر کو یہ کہہ کر فون بند کر دیا ” اس آفت کو ہر حال میں راستے سے ہٹاؤ ”
******************

پابندی زیادہ دیر نہ چل سکی قابض گروہ کو پابندی اٹھانا پڑی ۔ درناب کا قلم ایک بار پھر تلوار سے بھی تیز چلنے لگا ۔ مضامین میں قابض گروپ کے خلاف شدت آنے لگی ۔ اس کی تحریریں نوجوانوں کو بغاوت پر مسلسل اکسا رہیں تھیں ۔ آزادی کی تحریک نے مزید زور پکڑ لیا تھا ۔ اب یہ مسئلہ عالمی سطح پر آئے روز بہتر سے بہتر پیش ہونے لگا ۔ عالمی میڈیا بھی اس موضوع کو بہتر انداز میں پیش کرنے لگا ۔ یوں دکھائی دے رہا تھا کہ شاید اب نیا سورج آزادی کا پیغام لانے والا ہے اور اب اسے طلوع ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔
*****************

درناب اپنے گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے ڈوبتے سورج کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی ۔ شام کے سائے چار سو پھیلنے لگے تھے اور اوپر سے یہ تند و تیز ہوائیں خزاں رسیدہ پتوں کو درختوں سے جدا کرنے پہ تلی ہوئی تھیں ۔ خشک پتوں کا شور ہوا کے شور سے بھی زیادہ تھا ۔ آخری شور آخری احتجاج ۔ ہواؤں سے آخری گلہ ۔ سارا صحن زرد پتوں سے بھر چکا تھا ۔ درخت اجڑ رہے تھے ۔ خاموش پتے جو سارا سال ہواؤں سے لڑتے رہے تھے اب تھک کر گرنے لگے تھے ۔ غم نے ان کا رنگ بدل ڈالا تھا ۔ مگر آواز۔۔۔ آخری آواز بہت بلند کر دی تھی۔

فضا میں عجیب سا دکھ تھا، کرب تھا ۔ وہی دکھ جو درناب کے دل کا ہمیشہ سے مسکن رہا ہے ۔ لیکن پت جھڑ کے اس موسم میں اسے عجیب سا سکون ملتا تھا جیسے موسم نے اس کے دکھ بانٹ لیے ہوں ۔ جیسے یہ دنیا بھی اس کا دکھ محسوس کر کے اس کا ساتھ دے رہی ہو۔
درناب کافی دیر سے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی ۔ آج پہلی دفعہ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے جیت کی پہلی سیڑھی کو عبور کر لیا ہو ۔ ایک عظیم مشن میں اپنا حصہ ڈال دیا ہو ۔ اسے ایک عظیم خواب کی تعبیر قریب محسوس ہو رہی تھی ۔ خود کو وہ فاتح سمجھ رہی تھی ۔ وہ ان کی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی جب اسے اطلاع ملی کہ نوجوانوں کا ایک وفد اس سے ملنا چاہتا ہے ۔ کچھ ہی دیر میں چند نوجوان درناب کے سامنے بیٹھے تھے ۔ انہوں نے درناب کو قابض افواج کی تازہ کاروائیوں سے آگاہ کیا اور اپنے اس مقصد سے آگاہ کیا کہ وہ ان کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں ۔ درناب نے نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور خود بھی احتجاج میں شرکت کی یقین دہانی کروائی۔
***************

یہ بھی پڑھئے:   گوندنی-غلام عباس

پرامن احتجاج جاری تھا ۔ درناب کی آواز بلند سے بلند ہوتی جارہی تھی ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بھی ایک ذرد پتا ہو ۔ جسے حالات سبز سے سرخ کر دیتے ہیں ۔ اس کی آواز بلند آواز میں تبدیل ہو چکی تھی لیکن اور بہت سے آوازیں بھی اس کی آواز میں شامل تھیں ۔

قابض افواج نے پرامن لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔ مگر ان کا اصل نشانہ تو درناب تھی ۔ جو ایک ذرد پتے کی طرح شور کرتے کرتے آخر ختم ہو گئی ۔ ہمیشہ کے لیے خاموش ۔ گولی سینے پر کھانے کے باوجود درناب ذرد پتے کے آخری احتجاج کی طرح چلا رہی تھی ” آزادی ۔ آزادی ۔ آزادی ۔ ہم ہارے نہیں نہ ہم ہاریں گے ۔ جو شمع جل چکی ہے وہ بجھ نہیں سکتی ۔ یہ جیت کی شمع ہے ۔ جیت ہماری ہی ہے ۔ جیت ہماری ہے ۔”

Views All Time
Views All Time
229
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: