Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جیت – دوسرا حصہ

Print Friendly, PDF & Email

(افسانے کا پہلا حصہ پڑھیے) سورج اپنا کام نمٹا کر واپس لوٹ رہا تھا ۔ بلند پہاڑوں کی اوٹ میں چھپتا سورج جاتے جاتے بھی وادی پر چند حسین کرنیں لٹا رہا تھا ۔ آسمان پر موجود سفید بادل سورج کی آخری کرنیں پڑتے ہی گلابی رنگ کے ہو چکے تھے اور ان کا عکس وادی کے ندی نالوں میں یوں دکھاتی دے رہا تھا جیسے کسی شفاف آئینے میں حسین چہرہ دکھائی دیتا ہو ۔ اس وقت ساری وادی پر سکوت طاری تھا ۔ ہر وقت شور مچاتے پرندے بھی خاموشی سے درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھے ہر چیز کو مبہوت ہوئے دیکھ رہے تھے ۔گلابی رنگ آسمان پر یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے مظلوم شہیدوں کا لہو ، ان کا غم آسمان پر پھیل چکا ہو۔

درناب احمد چچا کے ساتھ صحن میں بندوق چلانے کی ” پریکٹس” کر رہی تھی ۔ احمد چچا کسی ماہر استاد کی طرح اسے مسلسل ہدایات دے رہے تھے ۔ احمد چچا کو اس فن میں مہارت حاصل تھی۔ نوجوانی میں وہ دشمن کے لیے دہشت کا باعث تھے۔
"اسے مضبوطی سے تھامو۔۔۔۔۔ اپنے کاندھے پر رکھو اور ایک آنکھ بند کر کے اپنے نشانے کو غور اور توجہ سے دیکھو ۔ اپنی نظر اور بندوق کو نشانے کی سیدھ میں رکھو ۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا نشانہ خطا نہیں ہو گا۔۔۔۔” چچا نے ہدایت دیتے ہوئے پوچھا
” ہاں چچا جی مجھے امید ہے ” درناب نے بتایا

صحن کے قدآور درختوں پر بیٹھے پرندے مسلسل درناب اور اس کے ہاتھ میں موجود خطرناک ہتھیار کو تکے جا رہے تھے ۔ یہ ہتھیار ان کے لیے کچھ نیا نہیں تھا ۔ وہ اسے روز اسے وادی کے امن دشمنوں کے ہاتھ میں دیکھتے رہے ہیں اور آج اسے پرامن بازو بھی تھامنے پر مجبور تھے ۔ پرندے حیران و پریشان اپنی پرامن دوست کو دیکھے جا رہے تھے۔

” شاباش نشانے پر پوری توجہ کرتے ہوئے ٹریگر کو پوری قوت سے پیچھے کی طرف کھینچو ۔۔۔۔۔۔ ” چچا احمد نے مزید ہدایات دیں ” جی اچھا ” ٹریگر کو چلاتے ہوئے اس پر عجیب خوف طاری تھا۔۔۔ہاتھ کانپنے لگے۔آخر پوری قوت سے اس نے بندوق چلا دی۔ دھماکے کی آواز پر پرندوں کی درد ناک چیخ نے درناب پر دہشت طاری کر دی۔ بندوق اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گے اسے خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا وہ زمین پر بیٹھ کر فضا کو تکنے لگی جہاں پرندوں کا شور مزید بڑھ چکا تھا۔ مگر کچھ ہی دیر میں پرندے ایک ایک کر کے وہاں سے رخصت ہو گئے ۔ درناب مبہوت سی ان درختوں کو دیکھے جارہی تھی جہاں کچھ دیر پہلے پرندے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے ہر دن کی طرح۔۔۔۔۔۔۔

درناب کے دکھ درد کے ساتھی اس کے غمگین چہرے پر مسکراہٹ لانے والے پرندے اب واپس لوٹتے ہوئے خوفزدہ تھے۔۔۔۔۔۔
چچا درناب کو حوصلہ دیتے ہوئے کہنے لگے "بیٹا تم اک بہادر قوم کی بیٹی ہو۔ جس قوم کی مائیں خود اپنے لخت جگر اس دھرتی پر قربان کرنے کے لیے بھیجتی ہیں، بہنیں بھائیوں کی شہادتوں پر فخر کرتی ہیں۔بیٹیاں باپ کے کھو جانے کا ماتم نہیں کرتیں۔تم بھی اس قوم کی بیٹی ہو۔ ان بلند پہاڑوں کے درمیان رہنے والوں کا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط ہوتا ہے ۔ وقت آنے پر وہ پہاڑ بن جاتے ہیں ۔ تمہارا حوصلہ بھی چٹان سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔۔۔”

یہ بھی پڑھئے:   ڈیرہ اسماعیل خان – پھول پھولوں کے جنازوں پر

"جی چچا جی میں اک بہادر قوم کی بیٹی ہوں مگر یہ قوم امن کی شیدائی بھی ہے آپ کو معلوم ہے کہ جس زمین پر گولیوں کی گھن گرج ہو اس زمین سے پرندے روٹھ جاتے ہیں اور جب پرندے روٹھ جائیں تو امن روٹھ جاتا ہے۔ پھر وہاں امن کی خواہش رکھنا فضول ہے وہاں صرف ویرانیوں کا بسیرا ہوتا ہے ۔ کچھ باقی نہیں رہتا ۔ مجھے نہیں اٹھانی یہ بندوق ،میں امن ختم کرنے میں دشمن کاساتھ نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر درناب خاموش ہو گئی اور پھر کچھ سوچ کہ بولی "مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہار گئی ہوں۔ میں ہاری نہیں میں لڑوں گی، میں ضرور لڑوں گی دشمن سے مگر بندوق سے نہیں قلم سے۔۔۔”
**************

” سر یہ لڑکی تو ہمارے لیے ان لوگوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے جو ہتھیاروں سے لڑ رہے ہیں ۔ ” ایک بند کمرے میں خفیہ مقام پر انتظامیہ کے عہدے دارن کا اجلاس جاری تھا ۔ ایک بھاری بھرکم سنجیدہ چہرے والا آفیسر سب کی باتیں بہت غور سے سن رہا تھا ۔ اب کی بار اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔

” یہ بات تو مجھے بھی معلوم ہے اسی لیے تو میں نے یہ خفیہ اجلاس بلایا ہے ۔ اس ایک لڑکی نے ہماری ساری محنت ضائع کر دی ہے ۔ دنیا کے کئی اخبارات میں اس کے کالم چھپ رہے ہیں ۔ یہ ہمارا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا رہی ہے ۔ عالمی برادری کا دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ بندوق سے لڑتی تو ہم اسے دہشت گرد قرار دیتے ۔ اس کی تحریریں لوگوں کو بغاوت پر اکسا رہی ہیں ۔ ابھی کل یہ خبر چل رہی تھی کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ایک وفد نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ یہ لوگوں کو جو راستہ دکھا رہی ہے وہ بہت خطرناک ہے ۔ مگر اب یہ بتاؤ کہ اسے روکا کیسے جائے ۔۔۔”

” سر سیدھی سی بات ہے اسے ختم کر دیا جائے ” ایک افسر نے تجویز پیش کی
” واہ واہ کیا آئیڈیا ہے ۔ شاباش جوان تمہارے لیے تو کھڑے ہو کے تالیاں ہونی چاہیں۔۔۔۔! ” افسر نے اپنی تعریف پہ ابھی صرف سر بلند کیا ہی تھا کہ آگے کے الفاظ نے اس کی بتی گل کر دی۔
” نکمے کہیں کے اس مصیبت کو ختم کرنا دوسری مصیبت کو جنم دینے کے مترادف ہے ساری دنیا اس سے اور اس کے دشمنوں سے واقف ہو چکی ہے۔۔۔۔” بڑے آفیسر نے اس کی سرزنش کی
” سر میرے پاس ایک اور حل ہے ” ایک اور افسر نے اپنی طرف سے ذہین بنتے ہوئے پتا اچھالا ۔
” سر اس کے گھر والوں کو ایک ایک کر کے غائب کر دیا پھر یہ خود ڈر جائے گی ” یہ کہہ کر وہ داد لینے کے لیے اپنے آفیسر کی جانب مڑا
” واہ کیا بات ہے ۔ تم تو اس سے بھی زیادہ ذہین نکلے ” آفیسر نے اپنا سر پکڑ لیا ” تم جیسے نکمے لوگوں کی وجہ سے آج ہم ان مشکلات سے دوچار ہیں ۔ اس کے گھر والوں میں ہے ہی کون ۔ صرف ایک ماں ہے اور اگر ایسا کیا بھی گیا تو اس کی تحریروں میں مزید شدت آ جائے گی ۔ ” آفیسر نے دوسری تجویز پر اپنے خدشات ظاہر کیے۔
” سر میرے پاس ایک اور پلان ہے ۔ مشکل ضرور لیکن کامیاب رہے گا ” ایک سنجیدہ افسر نے کہا
"تو کہو نا میں نے تم لوگوں کو صرف کھانے کے لیے دعوت نہیں دی نہ ہی تم لوگ میرے ولیمے میں آئے ہوئے ہو ” بڑے آفیسر کی اس بات پر زوردار قہقے بلند ہوئے۔
” سر اس لڑکی کے قتل کے بغیر گزارہ نہیں لیکن اسے مارا اس طرح جائے کہ ہم پر الزام بھی نہ آئے اور موت بھی حادثاتی ہو ”
****************

یہ بھی پڑھئے:   محبت

گھنے پیڑوں کے نیچے دو کرسیاں پڑی تھیں اور درمیان میں میز پر چائے کے لوازمات پڑے تھے ۔ ایک کرسی پر درناب اور دوسری پر چھوٹے بالوں والی دلکش صحافی موجود تھی ۔ صحافی ایک عالمی اخبار سے منسلک تھی ۔ اس صحافی کو ہر کوئی جانتا تھا اور دنیا میں اس کی صحافتی رپورٹس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

” صحافی : آپ کی تحریریں دن بہ دن نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہیں اور پڑھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایسا کون سا طریقہ ہے جس نے آپ کو کم عمری میں ہی ایک مقبول ادیبہ بنا دیا۔۔۔۔۔۔”

درناب : میرا خیال ہے کہ ایک اچھا لکھاری ہونے کے لیے آپ کے پاس احساس کا ہونا ضروری ہے ۔ آپ اپنی تکلیف کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تکلیف کو بھی محسوس کر سکیں اور پھر بلا خوف و خطر وہ سب کہہ سکیں جو آپ محسوس کرتے ہوں ۔ قلم میں جو طاقت ہے وہ طاقت دنیا کے کسی ہتھیار میں نہیں ۔ لیکن ساتھ ساتھ آپ کو قلم کے تقدس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

صحافی : آپ نے اپنی علاقے کے حالات کو بہت اجاگر کیا ۔ لوگوں کو جہدوجہد پر اکسایا ، دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا، آپ کو لگتا نہیں کہ جن لوگوں کے خلاف آپ لڑ رہی ہیں وہ آپ پر پابندی لگا دیں یا آپ کو راستے سے ہٹا دیں۔۔۔۔۔۔”

درناب : جی ! انہوں نے مجھے بہت مرتبہ ڈرایا دھمکایا ہے ۔ پابندی لگانے کی کوششیں کیں اور مجھے قتل کی دھمکیاں بھی دیں لیکن انہیں اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اس قوم کے لوگ دھمکیوں سے گھبراتے نہیں موت سے ڈرتے نہیں ۔ وہ یہاں گھروں کے گھر اجاڑ دیتے ہیں لیکن جہدوجہد میں کمی نہیں آتی ۔ وہ اگر ماں باپ کو مار ڈالیں تو بچے میدان میں آزادی کا علم اٹھائے لڑنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ ماں باپ سے بچے چھین بھی لیے جائیں تو وہ پھر بھی آزادی کا نعرہ باآواز بلند لگانے سے گھبراتےنہیں ۔ یہاں کی مائیں بہنیں بیٹیاں دشمن سے لڑنے خود میدان میں اترتی ہیں ۔ اس قوم کی بیٹی ہونے کے ناطے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنی جہدوجہد جاری رکھوں گی ۔ اور وہ دن دور نہیں جب دشمن شکست کھا کر اس دھرتی کو چھوڑ جائیں گے ۔ آزادی کا وہ سورج بہت جلد طلوع ہو گا مجھے یقین ہے "

جاری ہے۔۔۔ (آخری حصۃ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

Views All Time
Views All Time
282
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: