Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میری خواہش (حاشیے) | عزیر راجو

by مئی 22, 2017 حاشیے
میری خواہش (حاشیے) | عزیر راجو

کاش میں پیدا ہوتا اُس وقت کہ جب یہ دنیا ایک جسم کے مانند ہوتی۔جس میں مَیں دیکھتا کہ اگر اس جسم کا ایک حصہ بھی خراب ہوتا تو اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا اور پورا جسم ایک دفاعی نظام کی طرح اپنے اس خراب حصے کو ٹھیک کرنے میں لگ جاتا۔ اس جسم کے ایک حصے کی خرابی پورے جسم کی خرابی ہوتی۔
کاش میں پیدا ہوتا اس وقت کہ جہاں میں دنیا کہ کسی بھی کونے میں ہوتا تو میں خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتا۔ میں آزاد ہوتا کہ میں اپنی زندگی کس طرح گزاروں۔ میں آزاد ہوتا کہ میں سوچوں اور میری سوچ کے آگے کوئی حد نہ ہوتی۔اور مجھے حق ہوتا کہ میں حقیقت کو تلاش کر سکوں۔ میں آزاد ہوتا
کہ میں اپنے افکار کو بیان کر سکوں اور سچ بتا سکوں۔
کاش میں پیدا ہوتا اس وقت کہ جب والدین اپنے بچے کو سوچنا سکھاتے۔ وہ اسے بتاتے کہ تم آزاد ہو اپنے نظریاتی طور پر تم سوچو اور تلاش کرو حقیقت کو تمہاری سوچ کے آگے کوئی حد نہیں اور آزاد ہو کہ اپنی زندگی کس طرح گزارو تمہاری زندگی پر تمہارا اپنا حق ہے۔ وہ اسے بتاتے کہ تمہیں حق ہے کہ جس حقیقت کو تم تسلیم کرتے ہو اس پر یقین رکھو اور جس حقیقت کو تم تسلیم نہیں کرتے اسے نہ مانو
اور مجھے یقین ہے کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ جب اس دنیا کو ایک جسم کی مانند ہونا پڑے گا تاکہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے ورنہ اس کے حصے ایک دوسرے سے جدا ہو کر آہستہ آہستہ اپنا وجود کھوتے جائیں گے

Views All Time
Views All Time
309
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: