Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

چکوال میں کیا ہوا۔۔!! – ‏عثمان غازی

Print Friendly, PDF & Email

usman ghaziدوہزار کے قریب مشتعل ہجوم نے چکوال کے علاقے دوالمیال میں احمدیوں کے بیت الذکر پر حملہ کیا
چار گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا
اس موقع پر احمدیوں کی جانب سے جوابی فائرنگ بھی کی گئی
فائرنگ سے عبادت گاہ میں موجود ایک 60 سالہ احمدی بزرگ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے
اس موقع پر پولیس پہنچ گئی، ڈی سی نے احمدیوں کو یہ بتایا کہ اس نےعبادت گاہ سیل کردی ہے، انہیں باہر نکال دیا گیا
احمدیوں کے باہر جاتے ہی حملہ آور عبادت گاہ میں داخل ہوگئے اور ان کے مربی کا سامان جلادیا، تقریبا چار گھنٹے تک حملہ آور عبادت گاہ میں موجود رہے، فوج اور رینجرز کی مداخلت کے بعد احمدیوں کو ان کی عبادت گاہ واپس مل گئی
یہ من وعن واقعہ ہے، اس کے مندرجات سے شاید ہی کسی کو عدم اتفاق ہو
اب ہم دوسری جانب آجاتے ہیں
حملہ ہونے کے بعد ایک مؤقف سامنے آیا ہے کہ احمدیوں نے مسجد پر قبضہ کرکے اسے اپنی عبادت گاہ بنالیا، معاملہ عدالت میں ہے، متنازع ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ پیش آیا
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ احمدی اس عبادت گاہ کی توسیع کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ
کیا یہ مؤقف درست ہے؟
اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ کو 120 سال پہلے کی تاریخ دیکھنا ہوگی
مرزاقادیانی کے مذہب کو 127 برس ہوگئے ہیں، یہ 120 سال پہلے کی بات ہے کہ جب چکوال کے علاقے دوالمیال سے کچھ لوگ قادیان گئے اور انہوں نے قادیانی مذہب قبول کرلیا
دوالمیال میں یہ تقریبا 80 احمدی گھرانے ہیں
اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ دوالمیال کی مسجد کے منتظمین بھی قادیانی ہوگئے اور یہ مسجد قادیانیوں کی عبادت گاہ بن گئی جس پر زبردست اختلاف ہوا
اس وقت تک قادیانی ریاستی سطح پر مسلمان تھے تو انہیں ایک فرقے کے طور پر لیا جاتا تھا اور یہ تنازع ایک فرقہ وارانہ مسئلہ سمجھا جاتا تھا، قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قراردینے کے بعد اس معاملے میں شدت آئی اور یہ مسئلہ عدالت چلاگیا
سن دوہزار میں عدالت نے احمدی جماعت کے حق میں فیصلہ دے دیا کہ عبادت گاہ ان کی ملکیت ہے
یہ سارا معاملہ ہے
اب دوصورتیں ہیں۔۔
دوالمیال کے سارے قادیانیوں کو قتل کرکے 120 سال سے ان کی ملکیت میں رہنے والی عبادت گاہ پر قبضہ کرلو
یا
رسول پاک ﷺ کے اسوہ کا عملی نمونہ بنتے ہوئے وہاں کے مسلمان خود کو ایک ایسا رول ماڈل بنائیں کہ قادیانی بھی پکار اٹھیں کہ ایسے ہوتے ہیں مسلمان ۔۔
کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں۔۔؟
اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو مرتے رہیں ۔۔ اور مارتے رہیں

Views All Time
Views All Time
1003
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تبدیلی نعروں سے نہیں آتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: