Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیسے کیسے سگریٹ کا دھواں ناچ رہاہے | ڈاکٹر عثمان غنی

by June 2, 2017 بلاگ
کیسے کیسے سگریٹ کا دھواں ناچ رہاہے | ڈاکٹر عثمان غنی

زندگی بیش بہا قیمتی چیز ہے ، اسکی جتنی ممکن ہو سکے قدر کی جانی چاہیے ، اس میں بہتری لانے کے لئے ہر لمحہ تگ و دو جاری رہنی چاہیے ، جذبات کی ندی میں بہتے ہوئے بعض اوقات اس کا خیال کچھ کم رکھاجاتا ہے ، جتنا درکار ہوتا ہے ، ایسا اگر نہ ہو پائے تو کتنا اچھا ہو ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کرم ہے کہ ہم محمد عربیؐ کی امت میں سے ہیں ، کچھ وقت اس سرور کائنات کی ذات پر درود کریم بھیجنے کی مشغولیت میں بھی صرف ہونا چاہیے ، زندگی کے ایسے لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں جو ہمیں آزاد، بے باک اور خوشحال زندگی کے خواب کی تعبیر کا راستہ بتاتے ہیں ، ہاں مگر! سچی تعبیر کے حصول کیلئے خواب کا حقیقی اور خالص ہونا از حد ضروری ہے ۔
غالب بڑے شاعر تھے ، نابغہ روزگار ، مگر جانے کیوں طاعت وزہد کے ثواب کی حقیقت سے بخوبی آگاہی ہونے کے باوجودوہ اپنی “طبیعت “اس طرف لانے میں کچھ ناکام سے رہے تھے ۔جس کا اعتراف کرنے میں قطعاً انہوں نے کوئی فروگزاشت نہ کی ۔ موجودہ حکومت بھی غالب پر بیتے ہوئے لمحوں کی عملی تصویر بنی نظر آتی ہے ۔ حتی الوسعی کوشش کہ “طاعت و زہد” کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کی جائے جس کا کبھی اظہار اور کبھی اعتراف کرتے ہوئے ان خدمت گزاروں کی زبانیں تھک جاتی ہیں اوران کے کارنامے ختم نہیں ہو پاتے ، تاہم عملی طور پر یہ باتیں قبل از مسیح کی کوئی دیو مالائی کہانیاں نظر آتی ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا رہا ہوگا ، ایک عرصہ تک ہمارے تعلیمی ادارے منشیات کی لعنت سے پاک تھے ۔ “بات اب تک بنی ہوئی ہے”والا یہ معاملہ اب قصہ پارینہ ہو چکا، پچھلے کچھ عرصے میں منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں کثرت سے دیکھا گیا ہے ، علم و شعور اور فکر و دانائی کے موتی بکھیرنے والے قابل قدر مقام بہت تیزی سے اس معاشرتی کینسر کی زد میں آرہے ہیں ، اسکے تدراک کیلئے جو کوششیں کی جارہی ہیں ،ان کو قطعاً حوصلہ افزاء نہیں کہا جا سکتا ۔ لنکا یقیناًگھر کے بھیدی ڈھا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ بھیگی بلی بنی رہتی ہے اور جب اس کا کوئی “سائیڈ ایفکیٹ” کسی جرم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو بزر جمہر اس لعنت کے قلع قمع پر توجہ دینے کی بجائے چند “سہولت کاروں” کو راہ فرار فراہم کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں ۔ سہولت کاری کا لفظ صرف ایک طرف ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر جرم کے پیچھے یہاں سہولت کار نظر آتے ہیں ۔ حکومت نے “پروگروتھ” سکیم کے تحت اپنے کئی پروگرام ترتیب دے رکھے ہیں ۔ جن میں ایک پروگرام کو “پرویوتھ” بھی کہا جا سکتا ہے ۔ جس کے مطابق 17مئی کو امسال پیش کیے جانے والے مالی بجٹ سے پہلے قومی ہیلتھ سروسز (NHS) نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ 20سگریٹ والے پیکٹ کی قیمت کو 32 روپے سے بڑھا کر 44 روپے کر دیا جائے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی سے دور کرنے میں یہ عمل بہت مفید ثابت ہوگا۔ جس سے سالانہ 650,000 اموات سے بچا جا سکے گا اور ساتھ ہی یہ عمل حکومت کی محصولات میں 39.5بلین کے اضافہ کا باعث ہوگا ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں روزانہ 3سو کے قریب اموات صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہو رہی ہیں سگریٹ مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر NHS اور حکومت نوجوانوں کو کتنا باز رکھ پائے گی اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا اس میں بنیاد تمباکو کنٹرول پروگرام 2004ء کو رکھا گیا ہے جس کے مطابق تمباکو پروڈکٹ کی قیمتیں بڑھا کر نوجوان نسل کو اس کے استعمال سے باز رکھا جا سکتا ہے ساتھ ہی یہ بین الاقوامی فرائض کی ادائیگی بھی ہے ۔ سگریٹ میں تمباکو ، مختلف انواع کے کیمیکلز ، فلٹر اور اس کو سانچے میں ڈالنے کیلئے پیپر کا استعمال ہوتا ہے ، استعمال ہونے والے ان کیمیکلز کی تعداد 4ہزار سے زائد ہے ۔ جن میں سے 43 کینسر پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ، ان کیمیکلز میں نکوٹین ، ٹار، کاربن مونو آکسائیڈ وغیرہ ہیں ۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین کا استعمال ، سگریٹ نوشی کا عادی بنانے میں اہم کردار اداکرتا ہے ۔ دھوئیں کے ذریعے نکوٹین پھیپھڑوں تک جاتا ہے اور دماغ تک اسکی پہنچنے کی رفتار محض چھ سیکنڈ ہے ۔ اس کا کثرت سے استعمال زہر کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ جو دل ، شریانوں اور ہارمون کی سطح کو متاثر کر کے جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے ، کاربن مونو آکسائیڈ جسم کے خلیوں کو درکار آکسیجن کی سپلائی کوبری طرح متاثر کرتا ہے ، سگریٹ نوشی کرنے والا ( ایکٹیو سموکر) صرف اپنے آپ کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کو (پیسو سموکر) کو بھی دھوئیں کے ذریعے متاثر کر رہا ہوتا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر پبلک جگہوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہونے کے باوجود سگریٹ نوشی کو روکنے کاکوئی اہتمام نہیں ہوتا ، پیکٹ پر”تمباکو نوشی صحت کیلئے مضر ہے” لکھ کر ذمہ دار لوگ اس فرائض منصبی سے عہد برآہو جاتے ہیں ۔ 18سال سے کم عمر نوجوان جہاں سے چاہیں سگریٹ خریدیں اور اسکا استعمال کریں ، یہاں کوئی پابندی نہیں ، پہلے نوجوان اس کو فیشن کے طور پر لیتے ہیں اور پھر مستقل اس عادت کا شکار ہو جا تے ہیں یہی عادت پھر ان کو منشیات کے استعمال تک لے جاتی ، منشیات کا استعمال معاشرتی جرائم کی اہم وجہ ہے ۔ کسی بھی خاندان کا کوئی فرد بھی اگر اس لعنت میں مبتلا ہو تو سارے خاندان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ۔ ملکی وغیر ملکی سطح پر اس کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ تیزی سے جاری ہے ۔ آئے روز کروڑوں روپوں کی منشیات کی قومی ایئر لائنز کے ذریعے سمگلنگ کے کیس سامنے آرہے ہیں ۔ جو ملک و قوم کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں “چیکنگ” کے باوجود دوسرے ممالک کے ائیرپورٹ تک پہنچ جانا عقل سے کچھ ماوراء سی بات ہے ، تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھتے ہوئے حکومت نے قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا مگر تیسرے درجے کے سگریٹ جن کا استعمال یہاں سب سے زیادہ کیاجاتا ہے ، پر پچاس فیصد تک ٹیکس کم کر دیا گیا ہے جس کو ماہرین طب نے صحت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق سگریٹ مصنوعات پر 75فیصد ٹیکس عائد ہونا چاہیے تاکہ اس کا استعمال کم سے کم کیاجاسکے ، سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے ہنوز خاموشی کو واضع طور پر محسوس کیاجاسکتا ہے اگر اس سرطان پر توجہ نہ دی گئی تو قوم کا مستقبل دھواں دھواں ہی رہے گا۔

مرتبہ پڑھا گیا
128مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: