Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بے نام کہانی

بے نام کہانی
Print Friendly, PDF & Email

waqar hashmiشگفتہ نے ایک غریب اور ان پڑھ گھرانے میں جنم لیا، اس کا باپ مزدوری کرتا تھا، اور ماں لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پونچھے ،صفائی کا کام کرتی تھی،
کم سنی سے ہی وہ ماں کے ساتھ کام پرجانا شروع ہو گئی،اب شگفتہ کی عمر 12 سال ہوچکی تھی ،اس کی ماں کو ایک نو بیاہتا جوڑے کے ہاں کام ملا، اس گھر میں دو ہی افراد تھے خاوند بینک میں ملازم تھا، بیوی شادی سے پہلے سکول میں استانی تھی،
شگفتہ بھی ماں کے ساتھ ان کے ہاں کام پر جاتی تھی، اس استانی کو شگفتہ سے گفتگو کر کے احساس ہوا کہ یہ بچی ذہین ہے اس پڑھنا چاہیے،اس نے شگفتہ کی ماں سے بات کی کہ وہ خود اس بچی کو پڑھائے گی،اور اس دوران کتب کا جو بھی خرچہ ہو گا وہ خود اٹھائے گی،
شگفتہ کی ماں کے دل میں بھی یہ بات بیٹھی کہ چلو اسی بہانے ہمارے گھر میں بھی کوئی پڑھ لکھ جائے ، اور شائد اس کا مستقبل ہمارے حال سے بہتر ہو،اس نے اجازت دے دی اور کہا کہ اس کے باپ کو میں خود منا لوں گی،
اب شگفتہ کے دن کا ذیادہ وقت استانی کے ہاں ہی گزرتا ،وہ وہاں پڑھتی ،اس کے گھر کے کام بھی کرتی ،اور اسی بہانے اکیلے گھر میں استانی کا بھی دل لگا رہتا، بچی ذہین تھی تقریباً اڑھائی سال کے عرصے میں وہ ساتویں جماعت تک کی کتابیں پڑھ چکی تھی ، اب استانی نے اسکی ماں کو اس بات پر منایا کہ وہ شگفتہ کو سکول داخل کروائے،اس کی فیس اور خرچے کا ذمہ بھی استانی خود اٹھائے گی، شگفتہ کو شوق کو دیکھتے ہوئے ماں کی امیدیں بڑھیں اور شگفتہ کے باپ کی ٹال مٹول اور طرح طرح عزر دینے کے باوجود ماں نے اسے ایک سرکاری سکول میں داخل کروا دیا،وہ خوب محنت سے پڑھنے لگی اور امتحانوں میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے لگی، اب وہ نویں جماعت میں تھی، اس کی زندگی بدل چکی تھی،بلکہ اب اس کے نزدیک زندگی کے معنی بدل چکے تھے، اب ہر لمحہ بے معنی نہیں بلکہ معنی خیز لگتا تھا،اب اس زندگی کے سفر میں بے منزل ہی ادھر اودھر پاؤں نہی رکھتی تھی،اب اس نے اپنی منازل کا تعین کرنا سیکھ لیا تھا،اب کچھ خوابوں کچھ امیدوں نے زندگی کو دلچسپ بنا دیا تھا،اس کی دل میں امنگ جاگی تھی کہ اب شائد وہ اپنے حالات بہتر کر سکتی ہے، اب زندگی جہالت اور لا علمی کے اندھیروں میں نہ کٹے گی،اب وہ بھی کچھ ایسا بن سکتی ہے کہ جس سے اسکی بھی معاشرے میں عزت ہو،
اسکی دنیا بدل گئی تھی،اب سڑکوں بازاروں میں لگے کتبوں، بینروں، اور بورڈ پر بکھریں رنگ رنگ کی لکیریں جو کہ اسکے لئے بے معنی تھیں،اب اسکے لئے حرف بن چکی تھیں،الفاظ اور جملےبن چکی تھیں ،جن کے کچھ معنی تھے،
وہ حرف وہ لفظ باتیں کرتے تھے،دلچسپ باتیں، نئی باتیں، ۔۔۔
وہ ہر وقت انہیں میں کھوئی رہتی ،ان سے باتیں کرتی، اسکے خواب و خیال کا محور لفظ تھے، وہ مختلف حروف کو مختلف مختلف انداز میں جمع کرتی اور اسکے نتیجے میں لفظ بنتے کچھ کے معنی وہ جانتی تھی ،کچھ کے معنی جاننا ابھی باقی تھے، کبھی لفظوں کو جوڑتی کبھی توڑتی،کبھی ہم قافیہ الفاظ کو اکھٹا کرتی، اسے لفظوں سے عشق ہو گیا تھا،
راہ چلتے اسکی کوشش ہوتی کہ منزلِ مقصود تک راستے میں آنے والے تمام بینر اور کتبے پڑھے گی،جیسا کہ اگر نہ پڑھا تو وہ بینر یا کتبوں پر موجود الفاظ ناراض ہو جائیں گے،کبھی گردن کو دائیں موڑ کبھی بائیں موڑ۔۔۔
اسکی نظر میں کائنات کی حقیقت لفظ تھے، اب اسکے لئے ماں صرف ماں نہیں رہی تھی، اب وہ ‘ م ‘ سے ماں تھی،باپ صرف باپ نہی بلکہ ‘ ب ‘ سے باپ تھا، آسمان صرف آسمان نہی ‘ آ ” سے آسمان تھا،دل اور دھڑکن ‘د’ سے ،سوچ ‘س’ سے، احساس اور انسان ‘ا’ سے تھے۔
سکول کی کتابوں کے علاوہ بھی اسے کوئی رسالہ ،کوئی نیا یا پرانا اخبار بلکہ وہ کاغذ جس میں دوکان دار کوئی کھانے کی چیز لپیٹ کر دیتا اسکو بھی پڑھتی، اس پر عقدے کھلنے لگے ،روز نئی حقیقتیں آشکار ہونے لگیں،
وہ اسی مستی میں مست تھی کہ ایک دن سکول سے گھر واپس آتے ہوئے راستے میں کسی کالج کے کچھ نوجوان لڑکوں نے اس پر کچھ فحش فقرے کسے، وہ لڑکے روز یہی حرکتیں کرتے تھے، سکول کی بہت سی لڑکیاں انکی ان حرکتوں سے پریشان تھیں،
ان لڑکوں میں اس علاقے میں رہنے والے ایک مشہور وکیل صاحب کا بیٹا کلیم سرِ فہرست تھا،
شگفتہ روز وہاں سے گزرتی انکے ان فحش فقروں ، پھبتیوں کو کا نشانہ بنتی،ان لفظوں کے تیروں سے لگے زخم اپنی روح پر سہتی،لیکن کسی سے کچھ نہ کہا، ایک دن تو بات جملوں سے بڑھ گئی،کلیم نے اسکا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی،
شگفتہ روتی ہوئی گھر پہنچی اور ماں کو سب کچھ بتا دیا، جب اسکا باپ کام سے آیا تو ماں نے ساری روداد اسے سنائی، تو وہ غصے سے سیخ پا ہوا، غیرت کا جوش اسکے خون میں خولنے لگا، اور اس نے حکم صادر کیا کہ آج سے یہ لڑکی سکول نہیں جائے گی، بس گھر بیٹھے گی، میں ایک غریب آدمی ہوں میں کیسے اس وکیل کے لڑکے کی شکایت اسکے باپ کے پاس لے کے جاؤں ،وہ بڑے لوگ ہیں انکی دشمنی مول نہیں لے سکتا،
شگفتہ کا پڑھائی کا سفر یہیں ختم ہوگیا،اس واقعے کے دو سال بعد شگفتہ کی شادی کر دی گئی،
اب شگفتہ اس کا خاوند ریڑھی پر سبزی بیچتا ہے، شگفتہ لوگوں کے گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہے،اور اسکے دو بیٹے ہیں ،وہ دونوں سکول جانے کی بجائے باپ کے ساتھ ہی اسکے کام میں اسکا ہاتھ بٹاتے ہیں،
جبکہ وکیل صاحب کا بیٹا اس شہر کا مشہور سرجن ڈاکٹر ہے،اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پُر تعیش زندگی بسر کر رہا ہے.

یہ بھی پڑھئے:   طاقت ور

(نوٹ : مجھ سے کسی نے کہا کہ اس کہانی میں اتنی لمبی تمہید باندھنے کے بعد بس اتنا سا climax ، کوئی بڑا حادثہ نہی،بس اتنی سی بات، یہ کیسی کہانی ہے، میں نے کہا ‘ بس اتنی سی بات ‘سے نہ صرف کسی کا اپنا ،بلکہ اسکی آنے والی نسلوں کا بھی مستقبل تباہ ہو گیا۔ )

Views All Time
Views All Time
424
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: