چلو دلدار چلو،چاند کے پار چلو – امِ رباب

Print Friendly, PDF & Email

Umme Rubabکئی سال قبل کی بات ہے میرے پڑوس میں جو فیملی رہا کرتی تھی اس میں ماں باپ کے علاوہ اسکول کالج جانے والی بچیاں بھی تھیں۔ اکثر صبح کے وقت دفتر جاتے ہوئے یا دفتر سے واپسی کے وقت ان سے چند لمحے کی ملاقات اور سلام دعا ہو جایا کرتی تھی۔جب اسکول ،کالج کی چھٹیوں کا زمانہ قریب آیا تو ایک روز اسی طرح ایک مختصر سی ملاقات میں پوچھا کہ ہاں بھئی ان چھٹیوں میں کہاں جانے کا پروگرام بنایا؟اس پر ان لڑکیوں نے نہایت حیرت اور سوالیہ انداز میں مجھے دیکھا گویا میں نے کوئی انہونی بات پوچھ لی۔ بہرحال،میں نے اپنی بات کی وضاحت کی کہ بھئی کسی رشتہ دار کے ہاں، یا کسی دوسرے شہر گھومنے ،سیر کرنے۔تب ان میں سے ایک لڑکی نے کہا بھابھی، ہم تو آج تک کہیں گئے ہی نہیں۔اب یہ جواب میرے لئے شدید حیران کن تھا،اب وضاحت مانگنے کی باری میری تھی ،اس پر انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت کم کہیں جاتے ہیں اور کسی دوسرے شہر جانے کا تو کوئی تصور ہی نہیں ہے اور بھابھی ہم آج تک ٹرین میں نہیں بیٹھے ، ہم نے تو آج تک ٹرین دیکھی ہی نہیں۔سننے میں یہ بات مبالغہ لگ رہی ہو گی مگر یہ واقعہ اسی طرح پیش آیااور میرے لئے یہ بات نہایت عجیب اور حیران کن تھی۔
چونکہ ایسی بات میں نے پہلی بار سنی تھی تو اپنے دفتر میں اپنے کئی ساتھیوں سے بھی یہ سوال پوچھنا شروع کیااور یہ جان کر مزید حیرت زدہ رہ گئی کہ میرے کولیگز میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جن کے لئے چھٹیوں میں کہیں بھی گھومنے پھرنے جانے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔جب کہ دفتر میں سالانہ پندرہ دن کی چھٹی ریسٹ اینڈ ری کری ایشن کے نام پر ملا کرتی تھی اور وہ لازماً لینی ہوتی تھی۔یعنی یہ بات میں ان لوگوں کے بارے میں کر رہی ہوں جن کے پاس وسائل بھی دستیاب تھے۔
ہمارا جسم بھی ایک مشین ہے جو مسلسل کام میں مصروف رہتا ہے اور اس مشین کو آرام بھی چند گھنٹوں کے لئے رات کے وقت ہی ملتا ہے لیکن یہ آرام بھی اگلے دن کی فکر کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔ہر مشین کی طرح ہمارے جسم کو بھی آرام کی ضرورت ہے ۔یعنی اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات سے ہٹ کر اپنے ذہن و جسم کو آرام پہنچایا جائے، کیوں کہ مسلسل کام اور تفکرات بھی ہمیں جسمانی اور نفسیاتی مسائل میں مبتلا کرتے ہیں ۔اگر سال میں صرف چند دن آپ اپنے گوشہء عافیت سے یعنی اپنے کمفرٹ زون سے الگ ہو جائیں یا نکل آئیں تو دل و دماغ کو ایک نئی روح ایک نئی تازگی مل جاتی ہے۔
تفریح ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف ذہن کو ترو تازہ کرتا ہے بلکہ آ پ اپنے تفکرات اور ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کرکچھ وقت اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے نکالتے ہیں۔اپنے روز مرہ کے ماحول سے ہٹ کر،جس میں ہمیں ہر وقت اپنے کام کی فکر لاحق نہ ہو ہم اپنے پیاروں کے ساتھ ہنستے بولتے ہیں ،کھاتے پیتے ہیں خوش ہوتے اور خوشی مناتے ہیں ۔ نئے لوگوں سے ملتے ہیں نئی جگہوں سے متعارف ہوتے ہیں ۔اپنے روز مرہ پیشہ ورانہ معمولات سے ہٹ کر اپنا وقت اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے مختص کر کے زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ایک خاندان کو ایک دوسرے سے جڑے رہنے کے لئے ایک دوسرے کو وقت دینا بھی ضروری ہے ورنہ آپس میں دلوں میں دوریاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔یہاں میں یہ بھی کہوں گی کہ ہر شخص کو اپنے اپنے انداز سے تفریح کرنے کا حق بھی حاصل ہے، ضروری نہیں کہ آپ کسی دوسرے شہر جائیں،کچھ لوگ صرف پارک میں جا کر، یا جم جا کر ورزش کر کے،دوستوں کے ساتھ کرکٹ یا کوئی اور ان ڈور گیم کھیل کر،گپ شپ کر کے ،کھانا کھا کر ہی تفریح کر لیتے ہیں ،مقصد اپنے معمولات سے ہٹ کراپنے دستیاب وسائل کے ساتھ کچھ وقت بے فکری میں ضرور گزارا جانا چاہیئے۔
یوں تو بحیثیت مجموعی ہم ایک نکمی اور کام چور قوم ہیں اور آج کا کام کل پر ٹالنے کے ماہر بھی ہیں پھر بھی اس نکمے پن میں بھی تفریح کا خیال یا کوئی پہلو ہمارے ذہنوں میں نہیں آتا۔ہم سوشل میڈیا کو ہی تفریح سمجھے ہوئے ہیں جب کہ سوشل میڈیا ہی لوگوں کو سب سے زیادہ تنہا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ہر شخص اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل پر ہی ایک دوسرے سے رابطے میں ہے اور حقیقی معنوں میں ایک دوسرے سے ملنے اور سوشلائز کرنے کے مواقع کم کم ہی میسر آتے ہیں۔یقین جانئے،روزمرہ معمولات میں یہ چند دن کی تبدیلی آپ کے دل و دماغ کو نہ صرف ترو تازہ کرتی ہے بلکہ آپ ایک نئے جذبے اور خوشی کے ساتھ اپنی زندگی میں پھر مشغول ہو جاتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
1138
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ویل ڈن ٹیم پاکستان کے شاہینو! عابد ایوب اعوان
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: