Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا – ام رباب

by جنوری 8, 2017 بلاگ
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا – ام رباب
Print Friendly, PDF & Email

کئی ماہ ہو گئے، کچھ عجیب سی فضا ہے، یوں تو اس ملک میں آئے دن کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے مگر اب جو رات کو سوئیں تو خیر کی دعا مانگ کر سوتے ہیں کہ یا خدا نئی صبح جو بھی خبر ہو خیر کی خبر ہو۔ پھر کچھ اپنی ذاتی، گھریلو اور پیشہ ورانہ مصروفیات بھی ایسی کہ جن میں نہ دن کا چین اور نہ رات کا آرام۔ یعنی یہ حال تھا کہ دن بھر میں کون کیا کہہ رہا تھا؟ کسی نے کیا بات کی؟کچھ کچھ غائب دماغی کچھ حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے باتوں کو یاد رکھنے کی کوشش میں عجیب گنجلک صورت حال ہو جایا کرتی تھی کہ رات کے کسی پہر آنکھ کھلنے پر الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھانے کی طرح ایک ایک بات یاد آتی جاتی اور گویا گتھیاں سلجھتی جاتیں۔
اسی دوران کئی بار سوچا کہ چلو کچھ لکھتے ہیں بلکہ وہ جو ادھورا ادھورا لکھا رکھا ہے اسے مکمل ہی کر لیں مگر وقت عجیب طور سے گزرا چلا جا رہا تھا کہ جیسے پر لگا کر اڑ رہا ہو۔دوست احباب بھی بار بار سوال کئے جائیں کہ بھئی لکھ کیوں نہیں رہی ہو؟ لکھنا چھوڑ دیا کیا؟ ہم نے کہا چھوڑا تو نہیں مگر ہم کون سا نامی گرامی لکھاری ہیں کہ لکھنا چھوڑ دیں گے تو قوم کی صحت پر کوئی فرق پڑے گا۔اس جواب پر وہ بے تکلف دوست جو بلا تکلف ڈانٹ ڈپٹ بھی کر دیا کرتے ہیں سختی سے زور دیا کہ خبردار جو لکھنا چھوڑاورنہ۔۔۔۔اس سے آگے وہ دھمکیاں تھیں جو کبھی کارگر نہیں ہوتیں۔
ہمارے ملک میں ہر روز ایک نئی بات ایک نئی ناگہانی ہوتی ہے، نئی خبر آتے ہی جو ایک طوفان سا بپا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔کوئی ایک موضوع ہاتھ آ جائے چاہے وہ خوشی کی خبر ہو یا غم کی،کوئی دل چسپ واقعہ ہو یا حالات حاضرہ سے متعلق کوئی بات ہو یا مذہب سے جڑی کوئی بات، تبصروں ، تنقید اور دنیا جہان کی باتوں کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ایک ہی موضوع کو کئی کئی دن تک اتنا گھسیٹا جاتا ہے کہ وہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ کسی کے مرنے پر بھی ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ جی چاہتا ہے کانوں میں روئی ٹھونس لیں، کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں یا شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو جائیں کہ بس کر دو ظالمو ہمیں اب کچھ نہیں سننا۔
اسی طوفان بدتمیزی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی خاطر لکھنے کا کام موئخر کر رکھا تھامگر چند دوستوں کی پیار بھری ڈانٹ سن کرسوچا کہ اب صرف انہی موضوعات پر لکھیں گے جو ہماری پسند کے ہوں گے۔یوں بھی لکھنے کے لئے مسائل کا ہونا ضروری نہیں، مسائل پر بہت سے دوست لکھ رہے ہیں اور بہت اچھا لکھ رہے ہیں، ہزاروں اور موضوعات ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی عہد کیا کہ حالات حاضرہ پر لکھنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں گے، البتہ دوستوں کے لکھے کو لائک ضرور کریں گے کہ ان کا حق ہے۔ دوستوں کے لکھے پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہوئی تو مختصر الفاظ میں تبصرہ کریں گے ۔لکھنے کو تو بہت کچھ ہے، بہت سی باتیں ،بہت سے موضوعات دل و دماغ میں گردش کر رہے ہوتے ہیں جو اپنی مصروفیات کی بنا پر بات کرنے یا لکھے جانے سے محروم رہ جاتے ہیں، موقع ملے اور دوستوں کی حوصلہ افزائی اور ساتھ رہے تو انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے

Views All Time
Views All Time
478
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   انسان کے رنگ پروفیسر - محمد عبداللہ بھٹی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: