تصویر کائنات میں رنگ | ام رباب

Print Friendly, PDF & Email

ٹیلی وژن پر دودھ کے ایک اشتہار کی ٹیگ لائن دیکھی ، بونز(Bones) اسٹرانگ تو میں اسٹرانگ، سوچا یہ کیا بات ہوئی، طاقت کیا صرف ہڈیوں میں ہوتی ہے؟اس وقت تو اس پر اتنا غور نہیں کیا مگر تقریباً ایک ماہ قبل پاؤ ں میں ایک معمولی سی چوٹ لگی اور پیر کی دو انگلیاں متاثر ہوئیں، گو چوٹ بہت معمولی تھی مگر ہوش ٹھکانے لانے کو کافی تھی یوں بونز اسٹرانگ تو میں اسٹرانگ کا جملہ بھی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا۔
ہمارے جسم کا ہر عضو نہایت قیمتی ہے۔ دل ، جگر، گردے، پھیپھڑے، آنکھ، ناک، کان، کھال اور سب سے بڑھ کر ہماری ہڈیاں جن پر ہمارے بدن کا یہ ڈھانچہ قائم ہے۔آج 20 اکتوبر عالمی اوسٹو پوروسس ڈے (WOD) کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اوسٹوپوروسس کے معنے ہیں ہڈیوں کا بھربھرا پن۔ یعنی یہ ایسی بیماری ہے جس میں جسم میں کیلشیم کی کمی کے باعث ہڈیوں میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور ہڈیاں کم زور ہو جاتی ہیں اور بے قدراں نال یاری لگانے کی طرح معمولی سی چوٹ سے بھی تڑک کر کے ٹوٹ سکتی ہیں بلکہ بعض دفعہ تو وزن اٹھانے، دباؤ پڑنے، چھینکنے اور کھانسنے سے بھی فریکچر کا احتمال ہوتا ہے۔
یہ بیماری یوں تو مرد و عورت دونوں کو ہوتی ہے مگر عورتیں اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔اللہ نے تخلیق جیسے مشکل کام کی ذمہ دار ی عورت کو سونپی ہے۔ دوران حمل بچے کی غذائی ضروریات ماں کے جسم سے ہی پوری ہوتی ہیں یوں بچے کی پیدائش کے ساتھ ماں کے جسم میں کیلشیم کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے اور زچگی کے بعدبچے کو دودھ پلانے کے زمانے میں بھی کیلشم کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ہاں عورتیں کئی کئی بچے پیدا کرتی ہیں مگر اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ نہ صرف یہ بلکہ خواتین اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں اپنی صحت کی طرف سے بالکل غافل ہو جاتی ہیں۔ اول تو ہمارا لائف اسٹائل ہی اتنا بدل چکا ہے کہ ہم ہیلتھی ایٹنگ (متوازن غذا) کے تصور سے ہی نا آشنا ہیں۔ جسمانی سر گرمیوں میں بھی وقت کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے۔ غیر معیاری اشیائے خوردونوش مثلاًفاسٹ فوڈ، کولڈ درنکس اور انرجی ڈرنکس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
اس بیماری میں کیلشیم کے ساتھ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے۔ہڈیوں کی مضبوطی میں وٹامن ڈی کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے جس کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ دھوپ ہے۔آج کل تو لوگ بند گھروں میں رہتے ہیں جہاں دھوپ کا گزر ہی نہیں ہے۔ آج کل کے بچے ان ڈور سرگرمیوں کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور موبائل فون میں ہی مصروف رہتے ہیں باہر نکل کر کھیلنے کا ٹرینڈ تقریباً ختم ہی ہو گیا ہے۔ خواتین بھی دھوپ میں نکلنے سے کتراتی ہیں حالانکہ روزانہ صرف پانچ سے پندرہ منٹ دھوپ میں گزاریں تو جسم روزانہ کی وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار خود ہی حاصل کر لیتا ہے۔ کیلشیم کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ دودھ ہے۔ وٹامن ڈی کے بغیر کیلشیم ہڈیوں میں جذب نہیں ہوتی۔بچوں کو خصوصاً لڑکیوں کوشروع سے ہی دودھ پینے کی عادت ڈالیں۔اکثر بچے سادہ دودھ پینا پسند نہیں کرتے تو انہیں اس میں مائلو یا اوولٹین یا ان کی پسند کا کوئی فلیور ملا کے دیں یا شیک بنا کر پلائیں تاکہ انہیں دودھ پینے کی عادت ہو۔ہمارے ہاں مائیں لڑکوں کے کھانے پینے کا توخصوصی خیال رکھتی ہیں مگر لڑکیوں کی طرف ان کا انداز لا پرواہی کا سا ہوتا ہے۔ جب کہ میں سمجھتی ہوں کہ زیادہ خیال لڑکیوں کا رکھا جانا چاہئیے کہ انہیں تخلیق جیسے مشکل مرحلے سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔
اس مرض کی علامات یوں تو ظاہر نہیں ہوتیں۔یہ خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتا رہتا ہے۔اس کی علامات میں کمر درد، تھکاوٹ اور ہڈیوں کا مڑنا جیسے ریڑھ کی ہڈی کا مڑنا بھی شامل ہیں۔جب کوئی ہڈی اچانک ٹوٹ جائے تب اس مرض کا انکشاف ہوتا ہے، یہ مرض بڑھاپے کا مرض نہیں ہے، کوئی بھی کسی بھی عمر میں اس مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔ خواتین میں اس مرض کی ابتدا 45سے55سال کی عمر میں ہوتی ہے جب وہ سن یاس (مینوپاز) کے مرحلے سے گزرتی ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اس مرض سے آگاہی بہت کم ہے۔اس مرض سے بچنے کا بہترین طریقہ ورزش ہے۔بچوں کو بچپن سے ہی ورزش کرنے کی عادت ڈالیں، روزانہ کم از کم آدھہ گھنٹہ واک ضرور کریں۔ بچوں کو جنک فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کی عادت نہ ہونے دیں۔انہیں متوازن اور غیر متوازن غذا کا فرق سمجھائیں۔صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔40 سال کی عمر کر بعدہر شخص خصوصاً خواتین کو اپنا طبی معائنہ ہر پانچ سال بعد ضرور کرواتے رہنا چاہئیے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدارسپلیمنٹس کے ذریعے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اپنا خیال رکھئیے، ہمارا جسم اللہ کی نعمت ہے ۔جان ہے تو جہان ہے۔ اپنی ہڈیوں سے پیار کیجیئے تاکہ آپ بھی کہہ سکیں کہ”بونز اسٹرانگ تو میں اسٹرانگ”

Views All Time
Views All Time
583
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   میرا خدا مت چھینو
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: