Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ | ام رباب

by مئی 29, 2017 بلاگ
تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ | ام رباب
ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا، غالباً کسی سیاسی جلسے کی تھی۔ جلسے کے اختتام سے قبل ہی اراکین جلسہ نے ایک جانب دوڑ لگا دی، مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں ٓیا کہ آخرہواکیا ہے؟ نہ کہیں گولی چلنے کی آواز آئی نہ ہی کوئی دھماکہ ہوا پھر آخر یہ بھگڈر کیوں مچی؟کچھ دیر دیکھنے پر معلوم ہواکہ پورے ہجوم نے کھانا دیکھتے ہی دوڑ لگا دی تھی۔ پھر تو کیا قیامت خیز منظر تھا۔ لوگ گرتے پڑتے ایک دوسرے کو دھکے دیتے کھانے پر ٹوٹ پڑنے کو بے تاب تھے، کوئی چاولوں سے بھری ہوئی پرات لئے بھاگا جا رہا ہے، کسی نے بہت سی روٹیاں اپنے قبضے میں کر رکھی ہیں اور دوسری سمت دوڑا جا رہا ہے اور چھیننے والے چھینا جھپٹی میں مصروف ہیں، اسی دھکم پیل میں لوگ گرے، چوٹیں لگیں ، کپڑے پھٹے اور اسی بدتمیزی میں تمام کھانا الٹ گیا مٹی میں مل گیا، شاید ہی کسی کے ہاتھ کچھ آیا ہو۔
یہ تو ایک سیاسی جلسے کی "وڈیو دیکھی”منظر کشی تھی جنہیں شاید جلسے کے شرکا میں اضافہ دکھانے کی خاطرایک پلیٹ بریانی یا ایک وقت کے اچھے کھانے کا لالچ دیا گیا ہو گا۔ لیکن کیا یہ ہمارا عمومی رویہ نہیں ہے؟کوئی ادبی محفل ہو، مذہبی اجتماع ہو، سیاسی جلسہ ہو، شادی بیاہ ہو، حتیٰ کہ کسی کا سوئم یا چالیسواں ہو، کھانا دیکھتے ہی بہت سوں کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور وہ کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں گویا یہ کھانا زندگی میں پہلی بار نصیب ہو رہا ہے یا شاید آخری بار۔ ان کی پلیٹوں میں "کوہ طعام”دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔کھانے کے سلسلے میں ہم میں اعتدال بالکل بھی نہیں ہے جب کہ ارشاد نبوی ہے کہ کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا چاہئیے پیٹ بھر کر نہیں۔اسی لئے کہتے ہیں "کم کھاؤ زیادہ جیو، زیادہ کھاؤ کم جیو”
ہمیں تو صحت مند (Healthy) اور غیر صحت مند (Unhealthy) کھانے کا فرق بھی معلوم نہیں ہے۔ ہم تو قورمہ، بریانی اور تمام مرغن کھانوں کو اچھا کھانا سمجھتے ہیں۔ جب کہ مرغن کھانا کھانے والے در اصل کھانے کے نا م پر اپنے اندر زہر انڈیل رہے ہوتے ہیں۔ صحت مند اور متوازن خوراک پروٹین، حیاتین (وٹامن)، نشاستہ، آئرن اور جسم کو توانائی پہنچانے تمام اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے جس سے نہ صرف آپ کی غذائی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ آپ غیر ضروری چکنائی اور دیگر مضر صحت اشیاء سے دور رہتے ہیں۔
اس دور میں جب ہمارا لائف اسٹائل بالکل بدل گیا ہے، کھانے پینے کے طور طریقے بدل گئے ہیں، جسمانی مشقت کم ہو گئی ہے، زیادہ تر وقت بیٹھ کر دفتری کام یا ٹیلی وژن دیکھ کر گزارتے ہیں، کہیں بھی آنے جانے کے لئے پیدل جانے کے بجائے کار یا موٹر سائیکل پر جانے کو ترجیح دیتے ہیں چاہے کہیں قریب ہی کیوں نہ جانا ہو۔ جسمانی مشقت کا خیال ہی ناپید ہوا جا رہا ہے اور اس سب میں ورزش یا ایکسر سائز کا کوئی تصورہے ہی نہیں۔ایک وقت تھا کہ بچوں کو کھیلنے کے لئے وقت اور جگہ کی تنگی کا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا کہ کھیل اور بھاگ دوڑ سے بہتر کوئی ایکسرسائز ہی نہیں۔ مگر اب تو بچے پورا دن گھروں میں بند رہتے ہیں۔ موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر پرفلمیں اور وڈیو گیمز دیکھتے اور کھیلتے ہیں، مسلسل کئی گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھ کر وقت گزار دیتے ہیں اور بر گر، پزا اور چپس ان کی پسندیدہ خوراک ہے۔
یہی حال خواتین کا بھی ہے کہ وہ اکثر موٹاپے سے پریشان رہتی ہیں لیکن اگر انہیں کھانا کم کھانے کا مشورہ دیا جائے تو کہتی ہیں کہ ہم کھانا کم نہیں کر سکتے اور ورزش کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اورکچھ حضرات تو ماشااللہ اتنی وافر توند رکھتے ہیں کہ ان کی توند، ان سے دو منٹ پہلے کمرے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے مگر یہی لوگ صرف آدھا گھنٹہ واک کو بھی مصیبت سمجھتے ہیں۔
یہ صرف ہمار ا ہی مسئلہ نہیں، دنیا بھر میں بسیار خوری کی عادت لوگوں میں موٹاپے اور شدید موٹاپے (Obesity) کا سبب بن رہی ہے اور یہ شدید موٹاپا بیماریوں کا سبب بن رہا ہے جن میں دل کے امراض، ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ذیا بیطس، فالج اور ہڈیوں کے امراض شامل ہیں۔ان سب پر قابو پانے اور اپنی صحت کو برقرار رکھنے کا بہترین حل ورزش ہے۔ ہمارا جسم بھی ایک مشین ہے جسے خرابی سے بچانے کے لئے حرکت میں رکھنا ضروری ہے اور یہ حرکت ورزش سے ہی ممکن ہے۔ورزش کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔ بچپن، لڑکپن تک آپ اسکول کالج کے زمانے میں کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لے لیتے ہیں تھوڑی بہت بھاگ دوڑ کر لیتے ہیں مگر جونہی آپ پریکٹیکل لائف میں آتے ہیں آپ کی جسمانی مشقت کم ہو جاتی ہے اور بالآخر ادھیڑ عمر میں پہنچتے ہی بیماریاں آپ کو گھیر لیتی ہیں اور جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر آپ کو دواؤں کے ساتھ ورزش کا مشورہ بھی ضرور دیتا ہے۔
میں نے ذیا بیطس اور بلڈ پریشر کے ایسے مریضوں کوبھی دیکھا ہے جو پرہیز تو بالکل بھی نہیں کرتے البتہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ورزش کرنے کو ایک فاضل کام تصور کرتے ہیںیعنی اگر ڈاکٹر انہیں صرف واک کرنے کو بھی کہیں تو واک کے لئے وقت نکالنے کے بجائے دواؤں پر انحصار کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اگر ورزش کی عادت شروع سے ہی ڈال لی جائے تو آپ آگے کی زندگی میں بہت سی بیماریوں اور مشکلات سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ شہروں میں تو آج کل جگہ جگہ جم بھی کھل گئے ہیں، دن بھر میں سے کسی بھی غیر ضروری مصروفیت کو ترک کر کے صرف ایک گھنٹہ جم جانے کے لئے نکالا جا سکتا ہے۔
ورزش سے آپ نہ صرف صحت مند اور تندرست رہیں گے بلکہ بیماریوں سے بھی بچیں گے۔ ہو سکے تو ہر روز صرف آدھا گھنٹہ واک کو بھی اپنا معمول بنا لیں توکسی اور پر نہیں خود پر احسان کریں گے۔ آخر میں یہی کہوں گی کہ بسیار خوری کی عادت کو کنٹرول کر نے کے ساتھ ورزش کی عادت کو بھی اپنائیے۔ ورزش میں آپ کے پاس بہت سے آپشن اور چوائس ہے۔ آپ صبح یا شام کی واک کو اپنا لیں ، یوگا کریں، جم جائیں، ہلکی پھلکی ویٹ لفٹنگ یا ویٹ ایکسرسائز کریں۔ یاد رکھیئے ہم کھانے کے لئے زندہ نہیں رہتے،زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں کیوں کہ جان ہے تو جہان ہے۔
تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ
تندرستی ہزار نعمت ہے
mm
ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔
Views All Time
Views All Time
406
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: