Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا – ام رباب

by فروری 13, 2017 بلاگ
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا – ام رباب
Print Friendly, PDF & Email

فروری کا مہینہ شروع ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ ہر طرف ویلنٹائین ڈے کے خلاف ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔اس دن کو بے حیائی سے تعبیر کرتے ہوئے ایسے ایسے لوگ بھی اسے حیا ڈے کے طور پر منانے کا اعلان فرماتے ہیں ،شرم و حیا جن کے قریب سے بھی نہیں گزری ہوتی۔مجھے بھی یہ دن منانا پسند نہیں، بھلا ہم ان موئے کافروں کا دن کیوں منائیں؟اور سچ تو یہ ہے کہ محبت سے ہمارا کیا لینا دینا۔ہم تو نفرتیں بانٹنے اس دنیا میں آئے ہیں، کافر کافر کھیلنے آئے ہیں اور یہ نگوڑ مارے فرنگی محبت کے دن کو بھی تہوار کی طرح مناتے ہیں۔
اور ہم اپنے تہوار کون سا مناتے ہیں جو غیروں کے دن اور تہوار بھی منانا شروع کر دیں۔ہم تو اپنے علاقائی اور ثقافتی تہواروں تک کو مذہب میں لپیٹ کر بدعت قرار دے چکے ہیں۔بسنت اور بیساکھی جیسے ثقافتی تہوار جو صدیوں سے یہاں رائج تھے ،ہم نے انہیں ہندوؤں سے منسوب کر دیا۔چلئے ، بسنت اور بیساکھی تو نام بھی ہندوانہ سے لگتے ہیں، اپنے تیوہاروں کی بات کیجئے۔لے دے کے ہمارے پاس منانے کو دو ہی عیدیں بچتی ہیں، عیدالفطر اور عید الاضحی، وہ بھی تو چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اختلافی مسئلے کی نذر ہو جاتی ہیں۔
بات دراصل یہ ہے جناب کہ جب کسی دل میں نفرت اور کدورت ہی بھری ہو تو محبت کہاں سے آسکتی ہے۔حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ نفرتیں بانٹنے والے ہر بات کو مذہب سے جوڑ دیتے ہیں، اس مذہب سے جس کے نام لیوا اسے سب سے پر امن مذہب گردانتے ہیں،اس نبی کا نام لینے والے جسے خدا نے تمام عالم کے لئے سراپا رحمت اور محبت بنا کر بھیجا تھا۔
کہتے ہیں خدا ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے پھر ستر ہزار ماؤں کی گود اجاڑ دینے پرجنت ملنے کی توقع کیوں کر رکھی جائے؟پھر ستر ہزار خاندانوں کو زندہ درگور کرنے پر خدا کیوں کر خوش ہو گا؟ وہ کیوں ہم سے اتنا ہی پیار کرے گا؟وہ بھی کیا دن تھے جب ہم سب نے ایک دوسرے کوکافر قرار دینا شروع نہیں کیا تھا،جب ہم سب آپس میں ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے تھے اپنے جیسا انسان سمجھتے تھے۔سب کے دلوں میں ایک دوسرے کا احترام اور انسانیت تھی۔یہی انسانیت ہی دراصل محبت ہے۔اب ہم اس انسانیت سے دور ہو چکے ہیں۔ثقافت کو ، تہواروں کومذہب کا رنگ دے کر بلا وجہ کی نفرتیں دلوں میں پال لی ہیں۔
اب تو یہ عالم ہے کہ اس دور کے بچے بقول شاعرسہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے کی تصویر بن چکے ہیں۔ہم کیوں ان بچوں کو ،ان نوجوانوں کو خوشی کا اظہار کرنے سے روکتے ہیں؟کسی کو محبت کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ان بچوں کو ، نوجوانوں کو خوش ہونے کا حق حاصل ہے،ان سے یہ حق ہر گز چھینا نہیں جا سکتا، نہ ہی چھینا جانا چاہئیے۔جب آپ انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانے سے روکیں گے وہ خوشیاں جو آپس میں پیار، محبت اور رواداری بڑھاتی ہیں تو ان کے ذہن نفرتوں کی طرف ہی آمادہ ہوں گے۔ روکنا ہی ہے توشدت پسندی کو روکیں، دہشت گردی کو روکیں، دلوں میں نفرتیں بونے اور نفرتیں بانٹننے والوں کو روکیں،شدت پسندوں کو روکیں ،کرپشن کو روکیں۔ان زمینی خداؤں کو روکیں جنہوں نے جزا و سزا کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔ مجھے اس دور کے نوجوانوں پر ترس آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ یوم آزادی منانے،کرکٹ میچ جیتنے یا عید کا چاند نظر آنے جیسی چھوٹی چھوٹی خوشی کی باتوں پر خوشی کا اظہارفائرنگ کر کے کرتے ہیں۔
محبت ،انسان کے انسان سے اچھے برتاؤ کا نام ہے۔حسن سلوک کا نام ہے۔رواداری کا نام ہے۔محبت صرف آئی لو یو کہنے سے نہیں ہوتی۔محبت ایک عملی جذبہ ہے۔ہمیں خدا نے بہت مختصر زندگی دی ہے۔ہمیں ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہنا۔اچھنبے کی بات تو یہ ہے کہ اس مختصر سی زندگی میں بھی لوگ نفرتوں اور شدت پسندی کے لئے وقت نکال لیتے ہیں۔شدت پسندی کو روکنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔اب بھی کچھ نہیں بگڑا،ہم نفرت پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کریں تو اب بھی یہ معاشرہ وہی مقام حاصل کر سکتا ہے جہاں بات بے بات کفر کے فتوے نہ بانٹے جائیں۔اپنی ثقافتی اور علاقائی رسومات کو خوشی سے منانے دیا جائے کہ ہمیں خوش ہونے ،خوشی منانے کے لئے غیروں کے دن اور تہوار نہ منانے پڑیں۔وہ تمام رسمیں جو بدعت کے نام پر ہمیں زبردستی بھولنے پر مجبور کر دیا گیا ہے مثلاً عید پر سویاں اور شب برات پر گھروں میں حلوہ بانٹنا،کونڈوں کی نذر، محرم کی حلیم اور عاشورہ کے روز سنی شیعہ کے فرق سے بے نیاز ہوکر کھلے دل سے ہر رسم میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہونا،سب کچھ پہلے کی طرح ہو جب دلوں میں نفرتوں کا خیال تک نہ آتا تھا۔اپنے عیسائی بھائیوں کو کرسمس کی اورہندوؤں کو ہولی، دیوالی کی کھلے دل سے مبارک باد دی جائے۔
آئیں ہم سب مل کر محبتوں کو فروغ دیں اس طرح کہ ہر شخص کہہ اٹھے کہ
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
تمام محبت کرنے والوں کو ہیپی ویلنٹائین ڈے

Views All Time
Views All Time
1478
Views Today
Views Today
2
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ویلنٹائن ڈے - ناصر خان ناصر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: