Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عمر بھر جلنے کا اتنا تو صلہ پائیں گے ہم – ام رباب

by جنوری 31, 2017 بلاگ
عمر بھر جلنے کا اتنا تو صلہ پائیں گے ہم – ام رباب
Print Friendly, PDF & Email

کئی سال قبل کی بات ہے میرا بھتیجا باہر سے کھیلتے ہوئے ہانپتا کانپتا گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنے دادا کے کمرے میں گیا اور ان سے پوچھا دادا ابو دادا ابو ہم نے ہوم ورک کر لیا کیا؟یہ سوال سن کے مجھے ایک دم حیرت ہوئی مگر دوسرے ہی لمحے میرا ہنسی سے برا حال ہو گیا۔دراصل بچوں کے دادا ہر روز باقاعدگی سے ہر شام بچوں کو ہوم ورک کرواتے تھے ،اس کے بعد بچوں کو باہر کھیلنے کی اجازت ملا کرتی تھی، یعنی بچوں کی بے فکری کا یہ عالم تھا کہ ہوم ورک کی فکر بھی دادا ابو کا درد سر تھی ان کی نہیں۔

گھر میں بزرگوں کے ہونے سے سے نہ صرف برکت ہوتی ہے بلکہ کئی معاملات میں بے فکری بھی ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے مسائل جن میں آپ ذہنی طور پر الجھ جائیں اور ان کا کوئی حل آپ کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو،ان کا حل گھر کے بزرگوں کے پاس ہوتا ہے۔اس دور کا المیہ یہ ہے جب گھر میں کوئی ایسا فرد ،جو بزرگ ہو یا جسمانی طور پر تندرست نہ ہو ، اسے مصیبت سمجھا جانے لگتا ہے۔کبھی سوچا ہے کہ آج جو یہ لوگ ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط یا صحتمند نہیں ہیں خواہ وہ آپ کے والدین ہوں یاآپ کے والدین کے والدین، کیا ہمیشہ سے ایسے ہی تھے؟نہیں نا؟یہ وہ لوگ تھے کہ جب آپ ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور تھے ،جب آپ بچے تھے تب انہوں نے اپنی تمام تر ذہنی اور جسمانی توانائیاں آپ میں منتقل کر دیں اور اب آپ طاقتور ہیں اور وہ کمزور۔تو جب انہوں نے اس وقت آپ کی ہر بات برداشت کی، آپ کا ہر لمحے خیال رکھاتو اب آپ انہیں کیوں برداشت نہیں کر سکتے ؟ان کا خیال کیوں نہیں رکھ سکتے۔ یہی وہ وقت ہے جب انہیں ان کی زندگی بھر کی محنت کا صلہ ملے۔آپ انہیں کوئی سند، کوئی میڈل یا کوئی تمغہ نہیں دے سکتے، یہ صلہ آپ انہیں صرف اپنی توجہ اور پیار سے دے سکتے ہیں وہی توجہ اور پیار جو انہوں نے آپ کو دیا۔

گھر میں بزرگوں کی موجودگی سے اکائی قائم رہتی ہے۔ان کے ہوتے ہوئے سب مل جل کر رہتے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ والدین کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے،سب تتر بتر ہو جاتا ہے۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب انہیں بڑھاپے میں نظرانداز کیا جاتا ہے اور انہیں مصیبت سمجھ کر کسی اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہ درست ہے کہ اس عمر میں معمر افراد کے اعصاب اتنے مضبوط نہیں رہتے اور وہ کچھ چڑچڑے اور بد مزاج ہو جاتے ہیں۔مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ سے ایسے نہیں ہوتے، اپنی پوری زندگی انہوں نے اپنے خاندان ،اپنے بچوں کے لئے کیا کیا صعوبتیں برداشت نہیں کی ہوتیں۔ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انہیں ہر مزاج کے ساتھ برداشت کریں،ان کے ساتھ نرمی اور پیار سے پیش آئیں کہ ہمارا مذہب بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔اگر لڑکیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے ساس سسر سے ساتھ عزت اور اچھے برتاؤ سے پیش آئیں تو یہی بات لڑکوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ والدین کے ساتھ ساتھ آپ کے ساس سسر بھی آپ کے والدین کی طرح ہی ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ بد تمیزی یا بد تہذیبی سے پیش آنا کسی طور مناسب نہیں۔

یہ تمام معمر افراد اپنی جوانی کا ہر لمحہ اپنے بچوں کو معاشرے میں ایک اہم مقام تک پہنچانے میں صرف کرتے ہیں تو اس عمر تک پہنچ کر وہ بھی اتنا حق تو رکھتے ہیں کہ انہیں بھی بھر پور توجہ حاصل ہو۔ انہیں بے کار سمجھ کر لمحہ بہ لمحہ موت کا انتظار کرنے کے لئے چھوڑ دینا ہر گز جائز نہیں۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کام کرنے کی عمر ختم ہو گئی اور انہیں ہمہ وقت لیٹے رہ کر صرف آرام کرنا چاہئیے تو دراصل آپ ان سے ہمدردی نہیں بلکہ دشمنی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ ان کی مشقت کرنے کی عمر تو ختم ہو جاتی ہے مگر پھر بھی انہیں ان کی جسمانی توانائی اور سکت کے مطابق کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھنا چاہئیے۔مثلاً میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جن چھوٹے بچوں کا اسکول گھر سے قریب ہو ان کے نانا یا دادا بچوں کو اسکول لانے یا لے جانے کا کام بخوشی انجام دے رہے ہوتے ہیں یوں ان کی واک بھی ہو جاتی ہے جو اس عمر میں ان کے لئے ضروری بھی ہوتی ہے۔ ورنہ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے وقت میں سے صرف آدھا گھنٹہ نکال کر ان کے ساتھ چہل قدمی یا واک ضرور کریں۔اس کے علاوہ یہ بزرگ بچوں کو پڑھائی میں مدد دے سکتے ہیں خصوصاً چھوٹے بچوں کو ،جنہیں اسکول سے ہوم ورک ملتا ہے۔جب کہ آج کے مصروف دور میں لوگ ٹیوشن اور ٹیوٹر پر انحصار کرتے ہیں۔اس کے علاوہ انہیں دوسرے مشاغل کی ترغیب دینی چاہئیے مثلاً باغبانی جو ایک دلچسپ اور فائدہ مند مشغلہ ہے۔

اگر انہیں صحت کے حوالے سے مسائل لاحق ہوں تو ان کی غذا اور دوا کا بھر پور خیال رکھنا چاہئیے اور ڈاکٹر سے چیک اپ بھی کرواتے رہنا چاہئیے۔ اس عمر میں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہوتا ہے ا ور یہ تنہائی ہی انہیں زندہ درگور کر دیتی ہے۔ بہتر ہے کہ ہم سب اپنے مصروف وقت میں سے کچھ وقت اپنے بڑوں کے لئے بھی نکالیں۔ چند گھڑی بیٹھ کر ان سے باتیں کریں۔ بزرگوں کے پاس تجربے اور معلومات کا خزانہ ہوتا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس عمر میں چند لمحوں کی توجہ اور محبت انہیں بھر پور خوشی دے گی اور ان کے دل سے نکلنے والی دعائیں ہی ہمیں دنیا اور آخرت میں سرخرو کریں گی۔

Views All Time
Views All Time
675
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   جھلی سہیلی کا ایک خط - حمیرا نقوی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: