Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کس قیامت کے یہ نامے

by مارچ 20, 2018 کتب
کس قیامت کے یہ نامے
Print Friendly, PDF & Email

گئے وقتوں میں خط کوآدھی ملاقات کہا جاتا تھا۔دوردراز اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اور پیاروں سے رابطے کا ذریعہ یہی خطوط ہی ہوا کرتے تھے۔خط نویسی بھی ایک آرٹ ایک فن ہے۔پرانے وقتوں میں خطوط نہ صرف رابطے کا بلکہ زبان،تہذیب اور لب ولہجہ سیکھنے کا بھی ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ لوگ سالہا سال خطوط کو سنبھال کر رکھا کرتے تھے۔خطوں کا اپنا ایک رومانس ہوتا ہے،جنہوں نے زندگی میں کبھی بھی کسی کو خط لکھا ہے وہ اس رومان سے واقف ہوں گے۔اس مشینی دور میں آج کے لوگ اس چیز کا لطف محسوس نہیں کر سکتے کہ اب ای میل کا زمانہ ہے،ہر لکھی چیز ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے، کچھ بھی محفوظ نہیں رہتا حتیٰ کہ یادداشت سے بھی محو ہو جاتا ہے۔

ایسا شاید کوئی بھی شخص نہ ہو جس نے اوائل جوانی میں اپنی محبوبہ یا محبوب کو محبت نامہ لکھنے کی کوشش نہ کی ہو یا سوچا نہ ہو۔محبت نامے لکھنا بھی ایک آرٹ ہے۔غالب کے خطوط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خط کو مکالمہ بنا دیا۔محبت نامے بھی کئی بڑے اور معروف لوگوں نے لکھے۔اختر شیرانی کے سلمیٰ کے نام خط،سارتر،سیمون ڈی بووار،کافکا اور بھی کئی بڑے نام جن کے محبت نامے مشہور ہوئے اور شاہکار کہلائے۔

ایسے میں عامر حسینی نے ساری کے نام خطوط لکھے۔ایک ایسا شخص جو رہین ستم ہائے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی محبوبہ کے خیال سے غافل بھی نہیں ہے اور اسے ہر ستم میں ساتھ لے کر بھی چلتا ہے۔زمانے بھر کے غم محبوبہ کے غم میں ملا کرسبھی کچھ محبوبہ کو سناتا بھی ہے۔ایسا شخص جو سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کی تفسیر بنااپنے تمام درد اپنی محبوبہ سے شئیر کرتا ہے۔ساری کے نام خطوط میں ایک درد منددل رکھنے والے شخص نے جو خود پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے کا معاملہ اختیار کرتے ہوئے ساری کو اپنے ساتھ ہر اس معاملے میں شریک کیا جس میں وہ خود گرفتار ہے۔یہ خطوط محبت اور درد کی ایک ملی جلی کیفیت ہیں جس میں عامر حسینی نے اپنے قارئین کو ایک منفرد اسلوب سے روشناس کروایا۔ان خطوط میں قاری کو سیاست، حالات حاضرہ، فلسفہ، درد اور محبت سبھی کچھ ایک ساتھ حاصل ہوتا ہے اور قاری کو ایک سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ ساری کے نام خطوط میں سے ایک خط سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیئے

یہ بھی پڑھئے:   آئی ایم ملالہ پر اٹھائے گئے اعتراضات اور انکے جوابات

"تمہیں ہر بار یہ لکھنا مجھے بور نہیں کرتا کہ مجھے تمہاری چاہ بہت ہے-لیکن مجھے ایسا کیوں لگتا ہے ، جیسے تم مری اس بے قراری کے اظہار اور ہر مرتبہ ایک جیسے جملے لکھنے پہ مجھ سے کہہ رہی ہو ، کہ مرد سب سے بڑے بزدل ہوتے ہیں-تم ٹھیک کہتی ہو کہ اکر میں تمہارے لئے اتنا ہی بےتاب ہوتا تو تمہارے پاس آنے ، تمہارے لئے دن رات ایک کرنے کی بجائے ہزاروں میل دور جاکر نہ بیٹھ جاتا ہے-تم نے ٹھیک ہی کہا کہ بے قرار ، بے چینی آجکل لفظوں میں ہی مشہود ہوتی ہے اور اس کا مادی اظہار کہیں نہیں ہوتا-ویسے یہ فیس بک کا میسنجر اور فیس بک کی وال چھونے ، محسوس کرنے اور ایک دوسرے کے وجود کے ساتھ ملنے کی سب سے بڑی دشمن ہے،مجھے تم سے ایک اور اعتراف بھی کرنا ہے-اور وہ اعتراف یہ ہے کہ پہلے میں یہ سمجھا کرتا تھا کہ مرد و عورت کے باہمی تعلقات میں یہ عورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ ججمنٹل ہوجاتی ہے-فیصلے سناتی ہے اور ایسا میں کیوں سوچتا تھا؟

اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ اس کا مقصد مردانہ شاؤنزم کے تحت سارے الزام عورت پہ دھرنا ہوتا تھا-لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ایسے فیصلے مرد سناتے ہيں اور وہ بہت ججمنٹل ہوکر بات کرتے ہيں-تم مجھ سے پوچھ سکتی ہو کہ میں اس نتیجے پہ پہنچا کیسے؟تو اس کا جواب بہت سیدھا سادا ہے کہ میں نے اپنے زندگی کے افئیرز اور ان کے بریک اپ پہ غور کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے سنے ہوئے تجربات کو جب اکٹھا کرکے میں نے طوفان گزرجانے کے بعد شانت لمحوں میں ان پہ غور کیا تو مجھے پتا چلا کہ عورت تو تعلقات کے باب میں ایبسرڈٹیمہملیت کے سخت بادلوں کی اوٹ میں اپنے تعلق کو گم ہونے نہیں دیتی اور وہ کہیں بھی ججمنٹل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہم ہوتے ہیں جو اس کو ججمنٹل ہونے پہ مصر ہوتے ہیں-اور ایبسرڈیٹی کے موسم میں یہ ہماری برداشت ہے جو جواب دے جاتی ہے۔”

یہ بھی پڑھئے:   انور عباس انور کی کتاب ’’خاص لوگ‘‘کی تقریب رونمائی

انتیس خطوط پر مشتمل عکس پبلی کیشنز کی شائع کردہ یہ کتاب ایک منفرد کتاب ہے۔مجھے اس کتاب کی ایڈیٹنگ/پروف ریڈنگ کا شرف حاصل ہوا ہے میں اس کتاب کو پڑھنے کی پرزور تائید کرتی ہوں۔مجھے یقین ہے جس طرح ساری ان خطوط سے لطف اندوز ہوئی ہوگی قاری بھی ہوں گے

Views All Time
Views All Time
333
Views Today
Views Today
2
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: