Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار | ام رباب

by اکتوبر 24, 2017 بلاگ
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار | ام رباب
Print Friendly, PDF & Email
اللہ کے نناوے نام اس کی صفات ہیں۔یہ وہ صفات ہیں جو اس نے اپنے مظاہر قدرت میں بھی نمایاں کی ہیں۔لاکھوں اقسام کے پھول، پرندے، جانور، تتلیاں اور مچھلیاں اس کی مصورانہ صفت کو ظاہر کرتی ہیں۔اللہ جمیل و یحب الجمال، خدا خود حسین ہے اور حسن کو پسند کرتا ہے۔پرندوں کو اس نے خوش الحان بنایا یعنی اسے خوب صورت آوازیں بھی پسند ہیں۔خدا خود ایک لازوال کتاب کا مصنف ہے۔اس جیسی کتاب کوئی انسان لکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ سب صفات اس کی تخلیق کے مظاہر ہیں۔
اپنی انہی صفات کا تھوڑا تھوڑا حصہ اس نے انسانوں کو بھی ودیعت کیا ہے۔کچھ کو مصوری، شاعری، گلوکاری، موسیقی اور لکھنے کی صلاحیت سے نوازا۔یاد رہے یہاں ہم یہ بحث نہیں کر رہے ہیں کہ ہمارے مذہب میں کیا حرام ہے اور کیا حلال۔یہاں صرف اللہ تعالیٰ کی وہ خوبیاں بیان کرنا مقصود ہیں جو اس نے انسانوں کو ودیعت کی ہیں اور انسان کو اشرف المخلوقات اس لئے بنایا کہ وہ ان خوبیوں اور صلاحیتوں کا استعمال کر سکے۔
اللہ کی تقسیم کا بھی اپنا ہی ایک نظام ہے۔وہ کسی کو چھپڑ پھاڑ کے دیتا ہے ،کسی کو کم اور کسی کو محروم رکھتا ہے جو اس کی مصلحت ہے اور مصلحت کو صرف وہی جانتا ہے۔یہی تقسیم کا نظام اس نے اپنی صفات کو تقسیم کرتے ہوئے بھی اپنایاہے یعنی جو بھی صفت یا صلاحیت عطا کی کسی کو کم اور کسی کو بے انتہا۔یعنی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ اگر ایک شخص با کمال مصور ہے اور دوسرا اس کمال کو نہیں پہنچ پاتا تو یہ کوئی بری بات نہیں کیوں کہ صفت تو دونوں کو عطا ہوئی ہے اور دونوں اپنے اپنے طور پر اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ان خوبیوں اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں انسان کی اپنی محنت اور ذہانت کا دخل ہوتا ہے کہ جو زیادہ محنت کرے اسے اس کا صلہ بھی ملتا ہے۔
ہم اپنی زندگی میں اکثر سوچتے کچھ ہیں اور عملی زندگی میں کر کچھ اور رہے ہوتے ہیں ۔بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو عملی زندگی میں وہی کر رہے ہوں جو وہ دل سے چاہتے تھے یااپنے شوق یا مشغلہ کو اپنا سکتے ہوں۔مجھے ہمیشہ سے شوق تھا کہ میں مصنفہ بنوں ،ناول، کہانیاں،افسانے لکھوں۔زمانہ طالب علمی میں ہلکی پھلکی تحریریں لکھ کر شوق پورا بھی کیامگر ایک فل ٹائم جاب اور زندگی کی دیگر مصروفیتیں اس شوق پر حاوی آگئیں اور یہ سلسلہ بالکل منقطع ہو گیا۔ایک طویل وقفے کے بعد فیس بک کے ذریعے لکھنے کا یہ شوق پورا کرنے کا موقع ملا۔چونکہ درمیان میں ایک طویل وقفہ حائل ہے لہذا تحریر میں وہ ربط اور پختگی تو آنا ممکن نہیں مگر شوق کی تکمیل تو کی جا سکتی ہے۔
ان تمام مصروفیتوں کے باوجود کتاب سے ناطہ نہیں توڑا،کتابیں پڑھنا جاری رکھا۔ کتابیں پڑھتے ہوئے آپ کو اکثر کوئی ایک مصنف یا کسی مصنف کا انداز تحریر یا کوئی خاص اسلوب بہت پر کشش لگتا ہے اور آپ اس کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں۔مجھے بھی کئی لکھنے والے اور ان کا انداز تحریر پسند ہے۔فیس بک پر جب قلم کارویب سائٹ کے لئے لکھنا شروع کیا تو ویب سائٹ پر وزٹ کرتے ہوئے ایک افسانہ نظر سے گزراجو بالکل میرے پسندیدہ انداز میں لکھا گیا تھا۔پھر یکے بعد دیگرے اسی ویب سائٹ پر ان کے کئی افسانے اور تحریریں پڑھنے کو ملیں۔صاحب تحریر پر بہت رشک آیا۔کچھ حسد بھی ہوئی کہ کاش اللہ مجھے بھی یہ خوبی اور وقت عنایت کرتا مگر پھر دل کو تسلی اور صبر ہو گیا کہ یہ تو اس کی تقسیم کا نظام ہے اور یہی اس کی مصلحت۔
وہ لکھنے والے کوئی اور نہیں میرے بہت اچھے دوست محمد عامر حسینی ہیں۔میں ان سے کبھی ملی تو نہیں مگر ان کی تحریروں سے ہی انہیں جاناکہ یہ کس قدر با علم انسان ہیں۔خدا نے انہیں صرف ایک اچھا لکھنے والا ہی نہیں بنایابلکہ ایک دردمند دل بھی عطا کیا ہے۔اقلیتوں کی بات ہو، گم شدہ لوگوں کا معاملہ ہو، عورتوں کے حقوق کی بات ہویا کسی کمیونٹی کا قتل عام،عامر حسینی سب کے لئے آواز اٹھانے میں پہل کرتے ہیں۔عامر ایک نڈر اور بہادر انسان ہیں وہ نام کے ہی حسینی نہیں کام کے بھی حسینی ہیں۔ اتنا علم ہونے کو باوجود غرور نام کی کوئی چیز ان کے پاس بھی نہیں پھٹکی وہ بالکل اتنے ہی منکسر المزاج ہیں جیسا ایک عالم کو ہونا چاہئیے۔کسی نے ان کے بارے میں کیا خوب کہا ہے "کہ تم سے کتابیں پڑھ کران کو ہضم کرنے اور پھر ان پر ایسے باتیں کرنے والے ا ب کسی عجائب گھر میں ملتے ہیں”۔سیاسی موضوعات ہوں،مذہبی یا ادبی، افسانے ہوں یا شاعری، کون سا ایسا موضوع ہے جس پر عامر حسینی لکھیں اور اپنے سحر میں نہ جکڑ لیں۔
ٓآج ان کی سالگرہ پر کچھ ٹوٹے پھوٹے الفا ظ ان کی نذر کر رہی ہوں، گو کہ شایان شان نہیں پھر بھی گر قبول افتد۔۔میری دعا ہے کہ خدا آپ کو لمبی زندگی دے اور آپ اسی طرح لکھتے رہیں خدمت خلق کرتے رہیں اور دعائیں سمیٹتے رہیں۔میری دعا ہے کہ خدا صائمہ بتول کا سہاگ سلامت رکھے ، شاویز، عاشور اور حاذق میاں کے سروں پر باپ کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے۔خدا آپ کو کوئی غم نہ دے سوائے غم حسین کے اور آپ کی سب دعائیں ہمیشہ "مستجاب”ہوں۔ آمین
Views All Time
Views All Time
432
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   یہ تمہاری تلخ نوائیاں کوئی اور سہہ کے دکھاۓ تو
Previous
Next

One commentcomments

  1. کیا کہنے۔ اعلیٰ تحریر ھے۔ جیتی رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: