Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

امیدِ بہار

Print Friendly, PDF & Email

اس نے پورا مہینہ بڑی محنت اور دل جمعی سے میرے میڈیکل اسٹور پر کام کیا تھا، بہت کم گو اور ذمہ دارلڑکا تھا، پورے مہینے مجھے کوئی شکایت کا موقع نہیں دیا، میں نے جب تنخواہ اس کے ہاتھ پہ رکھی تو اس کا چہرہ کھل اٹھا، اس نے ایک پرچی اور کچھ روپے مجھے تھماکر باقی جیب میں ڈال لیے
"یہ کیا؟ ” میں نے تعجب سے پوچھا.

"سر میری ماں کی دواؤں کی پرچی اور ان کے پیسے، ایک ماہ کی دوائیاں پیک کر دیں” اس نے جواب دیا
"اور باقی پیسوں کا کیا کرو گے؟” سوال بنتا نہیں تھا مگر میں نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا.
"راشن والے کا حساب بے باق کرکے اگلے مہینے کا راشن لوںگا، چھوٹی بہن کیلئے ایک اونی جرسی خریدنی ہے، لنڈے سےاچھی اور سستی مل جائے گی، سردی بڑھ گئی ہے نا، صبح اسکول چھوڑنے جاتا ہوں تو ٹھٹھر رہی ہوتی ہے اور اور…” وہ روانی میں کچھ کہتے کہتے رک سا گیا.

"اور کیا؟” میں نے بے اختیار پوچھا، اس نے آج پہلی بار اپنے بارے میں کچھ بتایا تھا، میرا تجسس بڑھ گیا، میں نے اصرار کیا "اورکیا؟ بتاؤ نا بیٹا”  "اور اپنے لئے کتابیں خریدوں گا، تین ماہ سے روز رات کو ایک دوست سے کتابیں لے کر ساری رات پڑھائی کرتا ہوں تاکہ امتحان میں ٹاپ کرسکوں، اب اس نے بھی کتابیں واپس لے لی ہیں کیونکہ امتحان سر پر آگئے ہیں نا””اچھا، تو تم ٹاپ کرنا چاہتے ہو، مگر کیوں؟” میں اس کی سادگی پر ہنس پڑا.

"کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ٹاپ کرنے والے طالب علموں کو حکومت بھاری انعام دیتی ہے اور میں ان پیسوں سے اپنی ماں کا علاج کرواؤں گا، کیونکہ جس مخصوص ہسپتال میں میری ماں کا علاج ہونا ممکن ہے وہ بہت پیسے مانگتے ہیں اور ہمیں مستحق بھی نہیں سمجھتے کہ مفت علاج کردیں” اس نے سپاٹ لہجے میں کہا تو میں سناٹے میں آگیا
"کیا بیماری ہے تمہاری ماں کو؟” میں نے سرسراتی ہوئی آواز میں پوچھا.
"کینسر” اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا.

Views All Time
Views All Time
220
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بادشاہ ' وزیر اور حجام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: