کیا تبدیلی جنم دے گی یہ دھرتی؟

Print Friendly, PDF & Email

abdul razaq shareefپاکستان میں آج کل تبدیلی کا بڑا چرچہ ہے اور خاص طور پر نو جوان نسل کا محبوب موضوع بھی کیونکہ وہ سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں اور لاروں سے مایوس نظر آتے ہیں لیکن تبدیلی ہے کہ آکے ہی نہیں دے رہی۔لیکن تبدیلی کسی بھی معاشرے کے لئے جزو لازم کی حییثت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف صدیوں سے معاشرے پر چھائے ہوئے جمود کو توڑ نے کا باعث بنتی ہے بلکہ معاشرے کی ترقی کی ضمانت بھی دیتی ہے،پرانے نظام کو چیلنج کرتی ہے اور سٹیٹس کو کے خاتمے کا باعث بنتی ہے۔آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ تبدیلی کے ضروری محرکات کون سے ہیں اور دنیا میں اب تک تبدیلی کے ضمن میں کی جانیوالی کوششوں کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔
دانشور طبقہ،مزدور اور ملازمین،طلباء،خواتین،کسان اور اقلیتی جماعتیں تبدیلی کا جزو لازم ہیں اور امریکہ ہو یا روس برطانیہ ہو یا فرانس ،تبدیلی کے ان محرکات کی اہمیت مسلم ہے۔اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات ہم پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کس طرح یہ لوگ حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور نظام کی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔یہ لوگ نہ صرف صدیوں سے جاری خیالات کو بدل دیتے ہیں بلکہ جمہوری اداروں کی ترقی اور بقا کے لئے قابل قدر حصہ ڈالتے ہیں۔انہی شرکاء نے یورپ میں نہ صرف فلاحی ریاستوں کی بنیاد رکھی بلکہ رنگ و نسل اور مذہبی تشدد کے خلاف ایک طویل لڑائی لڑی ۔تبدیلی معاشرے کے اسی تناظر میںآٰٗئیے پاکستان میں تبدیلی کے لیئے کی جانے والی کوششوں پہ ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔
پاکستان میں معاشرے اور سوچ کی تبدیلی میں سب سے اہم کردار دانشوروں کا ہے پر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ حبیب جالب،فیض احمد فیض اور چند دوسرے شعرا ء کرام کے علاوہ کسی نے کوئی قابل قدر حصہ نہیں ڈالا کیونکہ اس دور کے مصنفین رائیٹرز گلڈ ایسوسی ایشن اور اکیڈمی آف لیٹرز جیسے قائم کردہ اداروں کی وجہ سے حکومت کے کاسہ لیس بن گئے اور تاریخ کا دھارا موڑنے والے مفکرین روسو،دستو واسکی،رسل اور مارٹن لوتھر جیسا کردار ادا نہ کر سکے اور تبدیلی کا یہ اہم محرک بری طرح فلاپ ہو گیا۔
تبدیلی کا دوسرا اہم محرک صحافی اور کالم نگار جو لوگوں میں شعور جگانے کا باعث بنتے ہیں زرد صحافت کا شکار ہو گئے اور بجائے تعمیری تنقید کے تنقید برائے تنقید ،بلیک میلنگ اور کرپشن کو اپنا خدا بنایا اور معاشرے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر تمام تر توجہ علمی اور قانونی موشگافیوں اور با عزت لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے پر مرکوز رکھی جسکا نتیجہ پہلے محرک سے زیادہ مختلف نہ نکلا اور معاشرہ جوں کا توں انجماد کا شکار بنا رہایونیورسٹیاں جو کہ تبدیی کا اگلا اہم محرک ہیں اور یورپ میں جن کا کردار بڑا تحقیقی اور تعمیری ہے ،پاکستان میں سیاست کا گڑھ ثابت ہوئیں اور جن نوجوانوں پہ تکیہ تھا وہی سیاست دانوں اور جرائم پیشہ عناصرکے ہاتھوں میں کھلونا بن گئے اور ملک دشمن عناصر نے شطرنج کے مہروں کی طرح ان کااستعمال کیا۔انگریزوں سے وراثت میں ملنے والا نظام تعلیم آ زادی کے بعد بھی رائج رہا اور جغرافیائی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم فکری آزادی نہ حاصل کر پائے۔طلباء تنظیمیں جن کے قیام کا مقصد طلباء میں اپنے حقوق کا شور بیدار کرنااور زندگیوں میں نظم و ضبط پیدا کرنا تھاایوبی مارشل لاء کا شکار بنی اور پرواز سے پہلے ہی ان کے پر کاٹ دیے گئے۔
لیبر یونینز جو روس میں تو تبدیلی کی روح رواں بنیں پاکستان میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوئیں،مارشل لاٗء کی مدد سے ان کو غیر متحرک کر دیا گیا اور ان کی جگہ خود ساختہ یونینز نے لے لی اور مزدوروں کے لیئے رحمت ثابت ہونے کی بجائے زحمت کا باعث ثابت ہوئیں۔
خواتین جن کو قائد اعظم معاشرے کی کامیابی کے لیئے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی تلقین کرتے تھے ضیاء الحق کے نافذکردہ اسلامی نظام کی وجہ سے گھروں تک محدود ہو کر رہ گیءں اور اعلیٰ تعلیم اور ذہانت خداد کے باوجود عضو معطل ثابت ہوئیں۔مذہبی اقلیتوں اور کسان یونینز کا کردار بھی کچھ خاص اہمیت کا حامل نہیں رہا اور ان کو قیام پاکستان کے آغاز سے ہی جاگیر دار طبقے نے ایسا دبایا کہ ان کو احساس ہو گیا کہ ان کے آقا تبدیل ہوئے ہیں جبکہ نظام وہی پرانا ہے جبکہ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کی وجہ سے ان میں مایوسی اور بد دلی پھیل گئی جس کی واضح مثال جوگندر ناتھ منڈل کا پاکستان کا وزیر قانون ہونے کے باوجود انڈیا ہجرت کرنا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہاں مذہبی شدت پسندوں کی وجہ سے اقلیتوں کے حقوق کبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
دور حاضرمیں میڈیا کے حد سے زیادہ متحرک ہونے اور سیاسی ،علمی اور تحقیقاتی مباحثے کروانے کی وجہ سے اس سے عوام نے تبدیلی کی بہت سی امیدیں وابستہ کر لیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ،کیونکہ بحث مباحثہ کے ذریعے یہ لوگوں کی علمی و فکری سطح تو بلند کر سکتا ہے مگر اس کے پاس بھی ایسا کوئی اختیا ر نہیں جسکی وجہ سے یہ معاشرتی تبدیلی کا کوئی پروگرام نافذ کر سکے اس پر مستزاد یہ کہ ہر وقت انقلاب کی باتیں اور مہدی آخر الزماںؑ جیسے رہنماء کی آس میں قوم پتہ نہیں کب تک نظریں لگائے بیٹھی رہے گی۔

Views All Time
Views All Time
425
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   افسوس صد افسوس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: