Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

شوہروں کی چند اقسام

Print Friendly, PDF & Email

دُنیا میں ہر کسی حیوان کی مختلف النوع اقسام ہو تی ہیں جیسے شیر، چیتا ، تیندوا اور بلی ایک ہی نوع سے ترقی یا تنزلی کر کے اپنے اپنے موجودہ انجام کو پہنچے ہیں اسی طرح شوہر بھی شیر سے لے کر بلی تک کسی بھی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اس پر ماہرین ارتقاء نے ابھی تک کوئی تحقیق نہیں کی کیونکہ ابھی تک لاکھوں سال پُرانے کسی شوہر کے فوسلزنہیں مل سکے یا ان کی بیویوں نے رہنے نہیں دئیے ۔ اس لئے یہ بھاری بوجھ ہم نے اپنے جھکے ہوئے کندھوں پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں پہلے ہی دو فرشتے بیٹھے ہمارے اعمال نامے کا فارم پُر کرنے میں مصروف ہیں ۔ کبھی کبھی ذہن میں آتا ہے کہ شادی شدہ سزایافتہ انسانوں کے اعمال لکھنے کے لئے فرشتوں کی کیا ضرورت ہے کیونکہ بیوی اپنے شوہر کی پہلے دن سے لے کر ’’تا دم مرگ‘‘ ایک ایک پائی اور لمحے کا حساب زبانی یادرکھتی ہے( مرگ شوہر کی، کیونکہ اکثر شوہر بیویوں سے پہلے گزر جاتے ہیں اس لئے معاشرے میں بیواؤں کے لئے فلاحی اقدامات کئے جاتے ہیں، رنڈووں کے لئے نہیں) ۔ لیکن کاتب تقدیر کی کوئی حکمت ضرورہو گی جو ابھی تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی ۔
ذیل میں شوہروں کی چند اقسام کا تجزیہ پیش خدمت ہے حسب احوال کوئی بھی ٹائٹل خود پہ چسپاں کیا جا سکتا ہے ۔

2۔ نکمے شوہر
اس قبیل کے شوہر کام کرنے سے نہیں گھبراتے ، صرف انہیں اپنے معیار کا کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ملتا ۔ شوہروں کی یہ قسم ہوائی قلعے میں رہتی ہے اور خیالی پُلاؤ پکاتی ہے جسے بسا اوقات خود ہی کھانا پڑ جاتا ہے کیونکہ گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہو تا ۔ان شوہروں کی اکثریت شاعروں، دانشوروں یا خیالی کاروباری حضرات پر مشتمل ہو تی ہے ۔ کئیوں کے پاس کاروبار کرنے کے ایسے ایسے اچھوتے منصوبے ہو تے ہیں کہ سو روپیہ لگا کے دو سو گنوایا جا سکتا ہے۔ اگر شاعر ہے تو جو مہمان ہتھے چڑھ جائے، اُسے مال گاڑی سے بھی طویل غزلیں سُنا کرجان بخشی کے عوض اُدھار مانگ لیتے ہیں ۔اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ جو دوست رشتہ دارایک بار بھُولے سے گھرآجائے ساری عمر دوبارہ اُس محلے سے نہیں گزرتا بشرطیکہ ملنے ولا خود شاعر نہ ہو ۔ ایک بار گلی میں دو آدمیوں کو آگے پیچھے دوڑتے دیکھا ۔ تحقیق پر معلوم ہوا ایک شاعر اپنی غزل سُنا کر بھاگ رہا ہے اور دوسرا دیوان ہاتھ میں پکڑے ، پیچھے پیچھے بھاگتے شعر پڑھ رہا ہے۔ ان میں سے اکثر دانشور بھی ہوتے ہیں ۔مُلک سنوارنے ، دُنیا میں خوش حالی لانے اور تقدیر بدلنے کے نادر نسخے ان کی زبان کی نوک پر موجود رہتے ہیں اور وہیں رہ جاتے ہیں ۔ ایسے شوہر کو اکثر کام والی بیوی مل جاتی ہیں جس سے پیٹ کا تندور اور دماغ کا گودام ( حاسد کباڑ خانہ کہتے ہیں) بھرتا رہتا ہے ۔ یہ شوہر آپ کومحلے کے تھڑوںیا پان والی دکان کے سامنے حکومت کو مشورے دیتے یا ااپوزیشن کی غلطیاں نکالتے اکثر نظر آئیں گے ۔جس دن نظر نہ آئیں ، سمجھ لیں یا تو بیمار ہیں یا پھر گزر گئے ۔

2۔ محنتی شوہر
یہ شوہروں کی انتہائی اہم قسم ہے ۔ یہ نہ صرف اپنے گھر کے کام بلکہ دوسروں کے گھروں کے کام بھی دوڑ کے کرتے ہیں ۔ ایک نوکری کے اوپر اکثر دوسری نوکری بھی ضرور کرتے ہیں ورنہ ان کا ایک ہی کام دو تین کے برابر ہوتاہے ۔ اس سے دود فائدے ہیں ایک تو بندہ بیوی سے زیادہ دیر دور رہتا ہے دوسرے زائد آمدنی اور طبیعت میں بشاشت پیدا ہو تی ہے ۔ ایسے شوہر عموماََ رشتہ داروں قریبی عزیزوں کو برسوں کے وقفے کے بعد اچانک ملتے ہیں وہ بھی کہیں راہ چلتے یا طبیعت خراب ہو اور گھر میں پڑے ہوں ۔ بعضے شوہر ہفتوں، مہینوں ، بلکہ برسوں گھر سے دور کہیں دوسرے مُلک یا شہر میں نوکری پذیررہتے ہیں ۔کبھی کبھار گھر کا چکر بھی لگاتے ہیں جیسے سرکاری آدمی کسی برانچ کی چیکنگ پہ نکلا ہو۔ ایسا شوہر صرف کماتا ہے خرچ اُس کے بیوی بچے انتہائی سرعت سے کرتے ہیں ۔ ان کو ساری عمر پتہ ہی نہیں چلتا کب جوانی ختم ہوئی اور بڑھاپا شروع ہوکراختتام پذیر بھی ہو نے کے قریب ہے ۔ کئی ایک کو تو یہ بھی خبر نہیں ہو تی کب وہ کام کرتے کرتے مر گئے ۔ ایسوں سے فرشتے بھی حساب کتاب کرنے آئیں یہ اپنے حساب سے فارغ ہو کے اُن کے ساتھ بطور اسسٹنٹ اگلی قبر کا حساب لینے چلے جاتے ہیں ۔ کیونکہ مرنے کے بعد بھی فارغ نہیں لیٹ سکتے ۔

یہ بھی پڑھئے:   پانی پانی کرگئی مجھ کو ’جاپانی ‘کی یہ بات - گل نوخیز اختر

3۔ گھریلو شوہر
یہ لوگ قدرے بیوی نما شوہر ہوتے ہیں ۔ انہیں باہر کے کاموں سے زیادہ گھر کے کاموں میں سرور ملتا ہے ۔ گھر داماد بھی اکثر اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ ان کے اندر ایک گرہستن عورت پائی جاتی ہے جو بیوی کو شوہر کادرجہ دے کر اُس کی خدمت کار ثواب سمجھتے ہیں۔ صبح بیوی سے بہت پہلے اٹھتے ہیں ۔ گھرکی صفائی جھاڑ پونچھ سے فارغ ہو کر ناشتہ بنانا، بچوں کے یونی فارم استری اور بوٹ پالش کر کے انہیں سکول بھیجنا ، اوربیوی کو ناشتہ کرانے کے بعدخود تیار ہو کر دفتر جانا ان کے روزمرہ کے کارہائے شوہری میں شامل ہے ۔ اگر آپ کو صبح سویرے کوئی شخص گھر کے دروازے پر جھاڑو دیتا نظر آئے یا گھر کی چھت پر کپڑے نچوڑ کر دیوار پر پھیلاتا نظر آئے تو سمجھ لیں یہی وہ عظیم آدمی ہے جسے گھریلو شوہر کہا جاتا ہے۔ایسا شوہر اپنی بیوی سمیت پورے سُسرال کی آنکھ کا تارہ ہوتا ہے جبکہ ہم زلف اس سے ہمیشہ نالاں رہتے ہیں ، کیونکہ اس ایک گھریلو بہنوئی کی مثالیں دے دے کر سالیاں اپنے شوہروں کا جینا حرام کر دیتی ہیں ۔ گھریلو شوہر فارغ نہیں بیٹھ سکتا بلکہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا ۔ گھر میں بھی ہر وقت اس کے ہاتھ میں کپڑا نظر آئے گا جس سے وہ کوئی نہ کوئی میز ، الماری یا دروازے صاف کرتا رہے گا ۔ پہلی بار آئے مہمانوں کو بیوی بڑے غرور سے بتاتی ہے یہ یہ میں نے نوکر نہیں، شوہر رکھا ہے ۔ عام لوگ جلن سے ایسے شوہروں کو رن مُرید کہتے ہیں لیکن اگر بیوی کو پیر مان کر گھر میں عزت بنتی ہے تو ایسا کرنا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو بیوی کے پیروں تلے بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا ۔

4۔ اداکار شوہر
یہ شوہر ذرا وکھرے ٹائپ کے ہوتے ہیں ۔ اداکار نہیں بن پاتے لیکن ساری عمر اداکاری کرنے میں گزر جاتی ہے ۔ اپنے سوٹ بوٹ ، بالوں کی تراش خراش اور چہرے کی خوبصورتی کا لڑکیوں سے زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔ گھر میں بھی ایسے نظر آئیں گے جیسے یہاں کسی ڈرامے کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ ان کے سونے کے لباس سے لے کر کسی دعوت یا پارٹی کے لباس تک انتہائی سٹائلش ہو تے ہیں جبکہ لنڈا بازر ان کی مرغوب جگہ ہے جہاں یہ کپڑوں کے ڈھیر میں غوطے لگا کر اپنے ذائقے اور سائز کا پہننے کے قابل کوئی نہ کوئی موتی ضرور نکال لیتے ہیں ۔ اداکاری میںا تنے ماہر ہوتے ہیں کہ اپنی ذاتی بیوی کے ساتھ بھی رومانٹک ہو جاتے ہیں ۔ جبکہ مشتاق احمد یوسفی نے کہا ہے ’’ اپنی بیوی کے ساتھ رومانس کرنا ایسا ہی ہے جیسے بندہ وہاں خارش کرے جہاں ہو نہ رہی ہو ‘‘ ۔ لیکن ہمارے خیال میں اپنی بیوی سے رومانٹک ہونے کا کم از کم یہ فائدہ توہوتا ہے کہ بیوی حیرت سے اپنے شکوے گلے بھول جاتی ہے اور بار بار موبائل فون بھی چیک نہیں کرتی ۔ انتہائی خوش اخلاق ہوتے ہیں ۔ اور اپنے دوستوں سے زیادہ بیوی کی سہیلیوں کے نام بمعہ فون نمبر زبانی یاد ہوتے ہیں ۔ خواتین کی محفلوں میں زیادہ خوش رہتے ہیں جبکہ مردوں کی محفل میں ایسا منہ نکل آتا ہے، جیسے دعوت پر نہیں کسی فوتگی پر آئے ہوں ۔

یہ بھی پڑھئے:   خواتین کیلئے گھریلو بجٹ ایک چیلنج-عارف عزیز (انڈیا) - قلم کار

5۔ لڑاکے شوہر
لڑاکے شوہر ہمارے معاشرے میں خاصی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیوی کے علاوہ کسی سے نہیں لڑتے کیونکہ گھر سے باہر لڑنا ناقابل علاج و ضمانت بھی ہو سکتا ہے ۔ ایسے شوہر دفتر جاتے ہوئے لڑکے جاتے ہیں اور دفتر سے واپس آ کر بھی بیوی سے پٹتے ہیں کیونکہ اکثر بیویاں بھی مار کھا کھا کر اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ گھونسے تھپڑ کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوتی۔یہ بچاؤ کا بہانہ کر کے اپنے لمبے ناخنوں کے استعمال سے شوہر کے چہرے پر کشمیر کا نقشہ بنا دیتی ہیں ۔جس سے آزاد ہونے اور برادری میں منہ دکھانے کے لئے ڈیٹول کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ لوگ کھانا ہضم کرنے کے لئے واک کرتے ہیں ،یہ جھگڑتے ہیں ۔ جھگڑنا ان کے لئے وٹامن کی طرح ہے جس کی قیمت پورا گھر ادا کرتا ہے۔ کبھی چائے پینے پلانے پہ جھگڑا ، کبھی دال پھیکی پکانے پہ جھگڑا ایسے گھروں کے بچے پھر بڑے ہو کے باپ سے لڑتے ہیں اور پھر باپ دوبارہ بیوی سے لڑتا ہے کہ بچوں کو تمیز نہیں سکھائی ۔

6۔ مظلوم شوہر
یہ وہ شوہر ہوتا ہے جسے زندگی میں کبھی سچا پیار نہیں ملا ۔ اس لئے یہ ہر قابل دسترس خاتون میں سچا پیار یوں تلاش کرتے ہیں جیسے سیل میں سستا جوتا تلاش کیا جاتا ہے۔ گھر کے بجٹ سے زیادہ ان کی رقم، سچے پیار کو پانے میں خرچ ہو تی ہے ۔ کیونکہ ایسا سچا پیار بار بارکھانے پلانے، مہنگے جوڑوں اورمتفرق قیمتی ضروریات کا محتاج ہو تا ہے۔ کوئی مچھلی ، سوری لڑکی ان کے سچے پیار کے کانٹے میں پھنس جائے ، یہ اپنی ازدواجی ناہمواری کا نقشہ کھول کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ جواب میں لڑکی اپنی فرمائشوں کا بل نکال کے سامنے رکھ دیتی ہے ۔ فرمائشوں کا بل اگر ان کی مالی برداشت سے میچ(Match) کر جائے تو سچا پیار بانس کے درخت کی طرح تیزی سے اُگنا شروع ہو جاتا ہے ۔ایسے انسان کی چار شادیاں بھی ہو جائیں سچا پیار اندھے کو روشنی کی مانند کبھی نہیں دکھائی دیتا۔ ان کا مطلوبہ سچا پیار ہمیشہ گھر سے باہر پایا جاتا ہے ۔ جو گھر میں داخلہو تے ہی بیوی کا روپ دھار لیتا ہے اور بیوی صرف اُس بندے کو اچھی لگتی ہے جس کی اپنی نہ ہو ۔
اس کے علاوہ بھی شوہرو ں کی مزید اقسام پائی جاتی ہیں لیکن کچھ کام دوسرے دانشوروں کے لئے بھی چھوڑ دینا چاہئیے کیونکہ ہمارا برتن دھونے کا وقت ہو گیا ہے اور ابھی کپڑے بھی دھو کر چھت پر پھیلانے ہیں ۔

Views All Time
Views All Time
190
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: