شامی خانہ جنگی کا نیا موڑ ۔ترکی کی کھیل میں واپسی

Print Friendly, PDF & Email

PATRICK COCKBURNپیٹرک کوک برن
ترجمہ وتلخیص : عامر حسینی
نوٹ: پیٹرک کوک برن برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق اہلکار رہے ہیں اور بطور صحافی آج کل وہ برطانوی اخبار ڈیلی انڈی پینڈیٹ کے لئے مڈل ایسٹ کے امور پہ رپورٹنگ و تجزیہ کاری کرتے ہیں۔انہوں نے داعش پہ سب سے پہلے کتاب ” جہادیوں کی واپسی ” لکھی جو کہ مڈل ایسٹ افئیرز میں دلچسپی رکھنے والوں میں خاصی مقبول کتاب ثابت ہوئی۔ شام میں جاری جنگ ایک اہم فیصلہ کن موڑ پہ پہنچ چکی ہے اور یہ وہ موڑ ہے جہاں پہ پیٹرک کوک برن کے بقول اس جنگ کے امن کی طرف پلٹنے یا مزید پھیلنے کا فیصلہ ہونا ہے۔(ع-ح)
شام میں جاری کھیل کے اندر ترکی واپسی ہوچکی ہے۔ترک ٹینک اور سپیشل فورسز نے گزشتہ ہفتے اسد مخالف باغیوں سے سرحدی شہر جرابلس کو واپس لینے کے لئے ہونے والی مہم میں شرکت کرلی ہے۔2011ء میں جب سے شام میں جنگ شروع ہوئی ہے ترکی کا یہ پہلا زمینی فوجی آپریشن ہے ۔فوری اور پہلا ہدف تو اس آپریشن کا داعش ہے لیکن ترکی کے اس آپریشن میں شرکت کا اہم ترین مقصد شامی کردوں کی سیاسی اور فوجی طاقت پہ حملہ کرنا ہےجوکہ پہلے ہی جنوب میں ترک۔شام سرحد سے جڑے اکثر علاقوں پہ کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔
شام میں جاری جنگ ایک نازک مقام پہ پہنچ چکی ہے جہاں سے یہ یا تو ختم ہونے کی جانب جائے گی یا یہ اور زیادہ تشدد اور دہشت کے ساتھ پھٹ جائے گی۔امریکی سیکرٹری برائے سٹیٹ جان کیری اور روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف جمعہ کو جینیوا میں ملے اور اس ملاقات کا مقصد شام کے معاملے پہ سیاسی اور فوجی تعاون کے کسی معاہدے پہ پہنچنا تھا۔جب سرگئی لاروف سے پوچھا گیا کہ سیزفائر میں سب سے بڑی روکاوٹ کیا ہے تو انہوں نے کہا؛
"میں مذاکرات کے لئے بنی سازگار فضاء کو سبوتاژ کرنا نہیں چاہتا ” ۔ماسکو پہلے ہی الیپو میں 48۔گھنٹے کے سیز فائر کی تجویز دے چکا ہے۔
اس سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ تمام فریق شام میں اپنی پوزیشن مستحکم کررہے ہیں اس توقع کے ساتھ کہ شام میں فضا یا تو مزید جنگ کی طرف جائے گی یا مزید امن کی جانب پیش رفت ہوگی۔جس وقت جان کیری اور لاروف جینوا میں تھے تو ایمبولنس ،بسیں ، ٹرک دمشق میں درایاء کے گردنواح میں پہنچ چکے تھے جس کو بشار الاسد کی افواج نے چار سال سے محاصرے میں لے رکھا ہے۔جمعرات کو ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت چار ہزار اسد مخالف لڑاکے اور مقامی لوگ باغیوں کے قبضے میں موجود علاقے سے چلے جائیں گے۔
لیکن اسد حکومت کا کنٹرول شام میں ہرجگہ بڑھ نہیں رہا ہے،جیسا کہ شمال مشرقی صوبے کے دارالخلافہ حسکہ میں کرد جنگجوؤں نے شامی فوج اور اس کے مقامی نیم فوجی اتحادیوں سے شہر کا زیادہ تر حصّہ خالی کرالیا ہے۔
سیاسی اور فوجی لینڈسکیپ میں سب سے بڑی تبدیلی ترک مداخلت ہے ،اگرچہ اس کی حدود ابھی تک غیر واضح ہیں۔ترک مداخلت کا ایک مقصد جرابلس اور کردوں کے گڑھ افرین جوکہ مغرب میں 70 میل دور ہے کے درمیان عرب اور ترکمان پراکسیز کے زریعے سے مدافعتی ، محدود کنٹرول زون قائم کرنا ہو اور دونوں پراکسیز کو ترک افواج کی مدد فراہم کئے جانا ہو۔پہلا مقصد تو بڑی حد تک امریکی مدد ، روس کے صبر اور دمشق حکومت کی خاموش تنقید سے حاصل کیا جاچکا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان تینوں کے لئے یہ ترک ایکشن غیر متوقع نہیں تھا۔
انقرہ میں بعض حلقے یہ خیال کرتے ہیں کہ وسیع پیمانے کی ترک مداخلت ترکی کو شامی۔عراقی جنگ کی ہلاکت خیز دلدل میں دھنسانے کا سبب بن جائے گی۔ترکی شاید کردوں کی عملداری کو مستقل طور پہ دریائے فرات کے مغربی کنارے سے آگے بڑھنے سے روکنے میں کامیاب ہوجائے۔لیکن ڈی فیکٹو شامی کرد ریاست پہ حملہ کرنا بہت محتلف اور زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،جوکہ 2012ء سے شامی فوج کی دستبرداری کے بعد سے فرات و دجلہ کے درمیان کے علاقے میں خود کو پھیلارہی ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی طے ہے کہ جب تک یہ کرد نیم ریاست برقرار رہے گی ترک ریاست بھی خطرے میں رہے گی۔
مڈل ایسٹ کی سیاست کا یہ ایک آہنی اصول رہا ہے کہ یہاں ہر شخص ایک خاص لمحے میں اپنے ہاتھوں کو استطاعت سے زیادہ پھیلاتا ضرور ہے۔اسرائیلیوں نے ایسا تب کیا تھا جب انہوں نے 1982ء میں لبنان پہ حملہ کیا تھا۔امریکیوں نے اس طرح کا کام 2003ء میں صدام کا تختہ الٹانے کے بعد کیا اور انہوں نے عراق میں اپنے آپ کو واحد غالب طاقت کے طور پہ دیکھنے کی کوشش کی ۔
شامی کردوں نے اپنا فوجی افادیت اور اثر 50ہزار لڑاکوں کے ساتھ استعمال کیا اور ساتھ ساتھ ان کو بہت تباہ کن فائر پاور امریکی ائر فورس سے میسر آئی تو گزشتہ 18 ماہ سے وہ اسے شام کے شمال مشرقی حصّے کو پوری طرح سے اپنے قبضے میں لینے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔کوبانی کے ساڑھے چار سال سے جاری داعش کے محاصرے کو انہوں نے 2015ء کے شروع میں ختم کیا اور حکمران ڈیموکریٹک یونین پارٹی ۔پی وائی ڈی ، کردستان ورکرز پارٹی ترکی ۔پی کے کے کا شامی مسلح ونگ اور ان کی مضبوط پیراملٹری فورسز دی پیپلز پروٹیکشن یونٹ۔پی وائی جی نے ملکر داعش کو کئی مرتبہ شکست سے دوچار کیا ہے۔لیکن وہ بھی ایک قدم بہت آگے بڑھاچکے ہیں۔جہاں تک ان کو امریکہ اور روسی اتحادیوں کی مدد ترکی کو مداخلت سے باز رکھنے کے لئے مل سکتی تھی اس مقام سے آگے وہ بڑھے ہیں۔12 اگست 2016ء کو جب شامی ڈیموکریٹک فورسز ۔ایس ڈی ایف، وائی ایف جی کے غلبے اور قیادت کے ساتھ بنا گروپ نے جب منبج کو داعش سے چھڑالیا تو انہزں ے اسے آگے شمال میں جرابلس کی طرف حرکت کی اور مشرق میں انہوں نے داعش کے قبضے میں موجود الباب کی طرف پیش قدمی شروع کی۔اس پیش قدمی نے ترکی فوج کو آخرکار اس آپریشن کے لئے مجبور کیا جس پہ وہ ایک سال سے غور و فکر کررہا تھی۔
ترکی کو شام میں اس وقت تباہ کن صورت حال سے واسطہ پڑا جب یہ بشارالاسد کی حکومت کوگرانے میں ناکام رہا اور اس نےپی کے کے کے ایک سیکشن کو اپنی خوب مسلح ریاست کے قیام کا دروازہ کھول دیا۔ترکی کردستان ورکرز پارٹی سے 32 سال سے جنگ کررہا ہے۔شام کے شمال میں ایک محفوظ پناہ گا کے ساتھ پک کے کے جب تک چاہے ترکی کے ساتھ گوریلا جنگ لڑسکتی ہے جیسے طالبان افغانستان میں لڑرہے ہیں کیونکہ ان کے پاس پاکستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔داعش جس کی سرگرمیوں کی طرف سے ترک انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آنکھیں بند کئے رکھیں کو جب ترکی نے پوشیدہ تعاون نہ دیا تو تب سے یہ ترکی میں دہشت گرد بم دھماکے بار بار کررہی ہے۔
ایک شامی کرد ریاست جو ترکی میں گوریلا جنگ کو ایندھن فراہم کرے پہلے ہی ایک حقیقت بن چکی ہے اور ترک فوج کی مداخلت بھی بہت پہلے سے نوشتہ دیوار تھی۔ترک فوجی مداخلت میں تاخیر کا سب وائی پی جی کا شام میں طاقتور امریکہ کا اتحادی ہونا تھی۔امریکہ اور ترکی کے تعلقات خراب اس ۂئے ہوئے کہ ترکی شامی۔ترک سرحد کو داعش اور شمال سے دوسرے جہادیوں کے لئے ناقابل عبور بنانے میں ناکام رہا۔تو امریکہ شام کی سدحد کے اندر سے جنوب میں پی وائی جی کے ایسا کرنے سے خوش تھا۔
لیکن امریکہ نہیں چاہتا کہ وائی پی جی ترک ایکشن کی وجہ سے داعش سے ہٹ جائے جبکہ روس جس کے جیٹ بمبار طیارہ ترکی نے 24 نومبر 2015ء کو مارگرائے تھے بھی ترک مداخلت کے خلاف تھا۔
شش جہتی شامی جنگ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے۔شامی اور عراقی کردوں کی زمینی پیش رفت بہت زیادہ کی
ہے۔اور ان کی یہ کامیابیاں امریکی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔وائی پی جی ان دنوں ان علاقوں میں لڑرہی ہے جس میں عرب اور کرد مخلوط آبادی ہے یا جہآن کرد اقلیت میں ہیں۔عراقی کردوں نے داعش کے 2014ء میں موصل پہ قابض ہونے سے ملنے والے موقعہ سے فائدہ اٹھایا۔اور اس علاقے کا محاصرہ کرلیا جو اس کے اور عراقی حکومت کے مابین وجہ تنازع بنا ہوا تھا۔کرد رہنماء جانتے ہیں کہ ایک دن ان کے سامنے یہ سوال ضرور آئے گا کہ جب ان کے بیرونی اتحادی داعش کو خطرہ خیال کرنا چھوڑ دیں گے اور ان کو کردوں کی کی سپورٹ کی ضرورت نہیں رہے گی تو پھر وہ کیسے اپنے علاقوں پہ کنٹرول رکھ پائیں گے۔
شامی جنگ کے پیچھے کئی بیرونی مددگار ہیں ۔باغی امید کرتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن اسے تبدیل کرسکتی ہے۔ترکی ایک زمانے میں مڈل ایسٹ کی بڑی امید تھا وہ کمزور اور عدم استحکام سے دوچار ہوچکا ہے۔شام میں تمام دھڑے کم یا زیادہ غیر ملکی طاقتوں کی پراکسیز ہی ہیں۔اور وہ ان غیر ملکی طاقتوں کی پشت پناہی کے بغیر لڑائی جاری رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔یہ گروہ اس بات سے قطع نظر کہ وہ اسد نواز ہیں یا اسد مخالف، شیعہ ہیں کہ سنّی ، عرب ہیں کہ کرد اپنے غیرملکی اتحادیوں سے ساز باز کرتے ہیں مگر ان کے حوالے سے مشکوک بھی رہتے ہیں کہ کب ایک دن وہ اپنے مفادات کے لئے ان سے منحرف ہوجائیں۔لیکن شامی قوتیں اپنے ان بیرونی اتحادیوں کے بغیر نہیں رہ سکتیں: صدر اسد فتح ملنے تک لڑے گا لیکن اسے ایران ، روس ، ایران ، عراق اور لبنانی حزب اللہ کی حمایت کی ضرورت ہے۔اسد مخالف جہادی شامی حزب اختلاف میں غالب مسلح لشکر ہیں لیکن یہ ترکی، سعودیہ عرب اور قطر وغیرہ کی حمایت و مدد کے بغیر نہیں لڑسکتے۔

یہ بھی پڑھئے:   داعش کو مکمل تباہ نہ کریں

اصل تحریرکے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
796
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: