Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تو کھینچ میری فوٹو

by مئی 13, 2016 بلاگ
تو کھینچ میری فوٹو
Print Friendly, PDF & Email

Laiba Zainabکچھ دن پہلے میں اپنے سکول گئی۔بہت عرصے بعد چکر لگا تو میری ایک ٹیچر نے پوچھا کہ کیا کر رہی ہو آج کل۔میں نے بتایا جی یونیورسٹی سے ماس کام کر رہی ہوں۔اُنہوں نے کہا مجھے پہلے ہی معلوم تھا تم ڈاکٹر نہیں بنو گی تم نے تیسری جماعت میں ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر نہیں بننا۔میں ہنس دی اُن کی اس بات پر۔میرے گھر والے یہی چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنوں مگر حقیقت یہی تھی کہ مجھے ایک صحافی بننا تھا۔گو کہ مشکلیں پڑ پڑ کر آسان ہو گئیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔
ابھی تو شاید میری صحافت کا سفر (اردو اور انگریزی دونوں والا) صحیح طرح سے شروع بھی نہیں ہوا مگر سیکھنے کا ارادہ کر لیا ہے تو کبھی نہ کبھی سیکھ ہی جائیں گے۔مجھے ایک رپورٹر ہونے کے ناطے مختلف جگہوں پر جانا پڑتا ہے،کبھی دن میں اور کبھی شام ڈھلے تقریبات پر رپورٹس بنانی پڑتی ہیں۔وہاں کوئی فوٹوگرافر دوست مل جائے تو اُس سے یہی تقاضہ ہوتا ہے کہ اچھی سی تصویر بنا دو ڈی پی ہی بدل لوں گی۔اکثر سیلفی بنانے کا دور بھی چلتا ہے۔نیز یہ کہ مجھے تصویریں بنانا اور بنوانا اچھا لگتا ہے۔
یہ سب تمہید باندھنے کا مقصد صرف اتنا بتانا تھا کہ مجھے تصویریں بنوانے پر کبھی اعتراض نہیں ہوتا مگر پچھلے دنوں ایک واقعہ ایسا ہوا کہ میرا بس نہیں چلا خود پر اور ایک شخص نے اپنی عزت افزائی کروا لی۔ہوا کچھ یوں کہ ہم ایک تقریب میں بیٹھے تھے کہ مجھے ایک عجیب سی الجھن محسوس ہونا شروع ہوئی۔پہلے مجھے لگا میرا کوئی وہم ہے مگر کچھ دیر بعد سامنے دیکھا تو ایک موصوف اپنی تمام تر توانائیاں اپنا موبائل پکڑے تصویریں کھینچنے میں صَرف کر رہے تھے۔پہلے پہل تو مجھے لگا کہ میری غلط فہمی ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہی تھی۔جب بات میری برداشت سے باہر ہوئی تو بالآخر میں موصوف کے پاس گئی اور ان سے پوچھ ہی لیا کہ مسئلہ کیا ہے؟پہلے تو جناب نے غصہ دکھانے کی کوشش کی کہ آپکو غلط فہمی ہوئی ہے مگر جب میں زرا غصے سے بولی کہ مجھے اچھی طرح اس بات کا احساس ہے کہ میں کوئی حور پری نہیں ہوں جو مر مٹو لیکن جو تمہاری آنکھوں سے گھٹیا وحشت ٹپک رہی ہے وہ صاف بتا رہی ہے کہ کیا بے غیرتی کر رہے ہو۔آگے سے موصوف نے ڈھٹائی سے فرمایا کہ آپ تو رپورٹر ہیں جہاں اتنے لوگوں کے پاس آپکی تصویریں اورویڈیوز ہیں وہاں ایک میرے پاس ہونگی تو کیا فرق پڑتا ہے۔بس پھر جو میرا دماغ گھوما اور اُس نواب زادے کو سنائی میں نے اُسکی سات نسلیں تو یاد رکھیں گی ہی۔اپنی کیا میں نے اُسکے موبائل کی ساری تصویریں اُسکا موبائل توڑ کر کھڈے لائن لگا دیں۔
گو کہ ایسی گھٹیا ذہنیت کے لوگ اکثر ملتے رہتے ہیں اور بہت حد تک عادت بھی ہو گئی ہے ایسی باتوں کی مگر کبھی کبھی بہت غصہ آتا ہے کہ کیا یہاں ایک لڑکی کا اپنی دنیا میں خوش ہونا اتنا بُرا ہے کہ لوگ ہر طرح کی بکواس کر دیں۔
اگر اتنا ہی شوق ہے تو جا کر اپنے گھر میں موجود بیبیوں کی تصویریں کھینچیں اور شوق سے دنیا کو دکھائیں۔
میں نے نہ کبھی کہا اور نہ کبھی چاہا کہ اخلاقی اقدار سے کوسوں دور کسی بے غیرت کو کہوں
تو کھینچ میری فوٹو

Views All Time
Views All Time
1435
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیا عید صرف بچوں کی ہوتی ہے؟
Previous
Next

One commentcomments2

  1. Atif Iqbal Chaudhry

    یہ فوٹو گرافی سے زیادہ کسی خاتون کو ‘ہراساں’ کرنے کا واقعہ معلوم ہوتا ہے، قانونی طور پر پبلک مقام پر تصاویر بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ اُس تصویر کو چھاپنے یا پبلش کرنے پر اجازت درکار ہوتی ہے، آپ کا اُس شخص کے موبائل سے اپنی تصاویر کو ڈیلیٹ کرنا اور اُسکی اخلاقی غلطی کو پوائنٹ آوٹ کرنا ایک اچھا اقدام تھا لیکن اگر غصہ میں آپ نے اُس کا موبائل ہی توڑ دیا تو کیا یہاں آپ نے قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیا ؟

  2. Well, laiba, I agree with the whole totality of your mentality with prudence, in fact, not only you, almost majority of girls has to pass through such types of hideous experiences in all type of mix gathering, u did good, I really salute your courage and hardness in this regard. . .
    Always bad is derived from Evil..
    God always be with you..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: