Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ٹریکٹر، ٹرالی اور ٹرک کی بتی

ٹریکٹر، ٹرالی اور ٹرک کی بتی
Print Friendly, PDF & Email

maaz bin mahmoodرمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آغاز سے چند دن قبل سوشل میڈیا پہ ایک کرخت شیطانی چہرے کا ظہور ہوا. یہ وہی چہرہ تھا جسے دیکھ کر "آم کھائے گا؟” اور "بڑی نازک صورتحال ہے” ذہن میں آتے ہیں لیکن اب کی بار مسئلہ کچھ الگ تھا. شیطانیت سے بھرپور یہ چہرہ اس بار ایک فوجی کی وردی میں موت کو گلے لگاتا مارکیٹ میں پیش کیا گیا. بحیثیت ایک محب وطن پاکستانی، فوجی وردی اور موت کا اختلاط میرے لیے شہادت کے تاثر کو جنم دیتا ہے لیکن موصوف کے چہرے کی شیطانیت کا عالم یہ تھا کہ بندہ احقر کم از کم لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنے شہادت والے احساسات ایکٹیویٹ نہ کر پایا اور یوں کہانی کا اختتام ہمیشہ کی طرح لعنت ملامت پر ہی ہوا. قارئین کرام، میرا تعلق اس بدقسمت قوم سے ہے جہاں آج کل روزانہ کی بنیاد پر یہ شیطانی چہرہ میری عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے پھرتا ہے. میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اپنی سوچ کو مثبت جانب موڑ سکوں لیکن ایسا ہو تو کیسے کہ یہاں تو سب ہی مجھے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش میں ہیں.
پارلیمان ویسے تو ایک مقدس ادارہ ہے لیکن ہمارے یہاں ضریح قائد کی تقدیس بھی جسم فروشی کے آگے پکوڑے تلتی ہے. چھوٹا بھائی جب ابا مرحوم سے ناراض ہو کر بات نہ کرنے کی تڑی لگاتا تو ابا مرحوم جیب سے دس کا نوٹ نکال کر بھائی کو "ٹیبل ٹاک” پہ لاتے اور یہ مذاکرات بلا محنت جیت جاتے. باپ بیٹے کا پیار یہ تھا کہ 10 روپے لیتے ہی بھائی کی "کھی کھی کھی کھی” نکل جاتی اور ابا مرحوم نعرہ لگاتے "بےغیرت 10 روپے لے کہ مطالبات سے ہٹ گیا”. ابا مرحوم اب خواب میں آتے ہیں تو اکثر ان کے ساتھ ایسے بے غیرتوں کا ذکر چھڑتا ہے جو اسی مقدس پارلیمان کو جعلی اسمبلی کہتے نہ تھکتے تھے لیکن جب اسی پارلیمان نے 6 ماہ کی تنخواہ کا دانہ ڈالا تو سارے "بےغیرت” "کھی کھی” کرتے واپس آگئے. اس کے بعد جو ہوا اسے تاریخ "کوئی شرم کوئی حیاء” کے نام سے جانتی ہے.
تقدس کا ذکر چھڑ ہی چلا ہے تو پیروں کا ذکر بھی ہو جائے اور انہی پیروں تلے عدلیہ کے رلنے کی بات بھی ہو جائے. ازمنہ جدید میں ایک والیِ میانوالی گزرے ہیں بلکہ گزرے کیا، گزر رہے ہیں، جنہیں افتخارِ عدلیہ نے اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا. اس حاضری سے پہلے والیِ میانوالی افتخارِ عدلیہ کو بے شرمی کے طعنے دیتے نہ تھکتے. جہاں موقع ملتا "امپائر ملا ہوا ہے” کا طنز مارا کرتے. غرضیکہ عدلیہ کا احترام اپنے مور جیسے پیروں تلے روندا کرتے. تاریخ گواہ ہے کو موصوف کے سر پہ جب توہین عدالت کی تلوار لٹکی تو بھری عدالت غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے تاریخ ساز فقرہ ادا کیا "جج صاحب، بے شرم بھی بھلا کوئی گالی ہے… ارے آپ تو برا ہی مان گئے..اب جانے بھی دیجیے”.
بات ہو رہی تھی تقدیس و توقیر کی. عشرہ قبل کسی نجی محفل میں ذکر چل رہا تھا چند جرنیلوں کا. محفل کے حاضرین مکمل وجدان کا مزا لے رہے تھے کہ حالت وجد میں صدر صاحب کی زبان سے بےساختہ چند جرنیلوں کے پیشاب خطا ہونے کی بات نکل گئی. مزید ظلم یہ کہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بھی ہو گئی. اللہ جانتا ہے کہ کس کس فوجی کا وقار مجروح ہوا اور کون کون سا جوان اس بات کو "ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں” پی گیا کیونکہ بعد ازاں کسی جوان نے صدر صاحب کو وزیراعظم بنانے سے انکار کیا تو کسی نے دھرنا دینے پہ آمادہ. ملک اور قوم کا وسیع تر مفاد. واللہ عالم بالصواب.
ویسے اگر آپ کی زوجہ محترمہ آپ کے "ٹائیگرز” یعنی کہ آپ کے کتوں سے ڈرتی ہیں یا انہیں ناپسند کرتی ہیں اور آپ اس کے باوجود بھی اپنے کتوں کو بیڈروم میں سلاتے ہیں تو یا تو آپ کا ازدواجی رشتہ اتنا مضبوط نہیں جتنا ہونا چاہیے یا پھر آپ کا حیوانی رشتہ اتنا مضبوط ہے جتنا نہیں ہونا چاہیے. دونوں ہی صورتوں میں آپ اپنی زوجہ کے حقوق پامال کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں. ہاں آپ چونکہ مہاتما ہیں، مقدس مثل نبی اور وقت کے ولی اللہ ہیں تو ہم ایمان لاتے ہیں کہ یہ عورت ذات کے تقدس کی پامالی نہیں. واللہ ہر گز نہیں.
میرے ملک کی "یوتھ” کو ایمان مزاری نامی خاتون کا علم تو ہوگا. محترمہ چند برس پہلے اپنے ذاتی بلاگ میں تحریر کرتی ہیں:”اپنے لیے تحریک انصاف کی جانب سے طوائف کہلایا جانا یا اپنے مرحوم بزرگان کے بارے میں بکواسات سننا میرے لیے ناقابل قبول ہے.”.
قارئین کرام ایمان مزاری، رکن قومی اسمبلی جنابہ شیریں مزاری کی دختر نیک اندیش ہیں. محترمہ شیریں مزاری وہی بدقسمت خاتون ہیں جن کی بیٹی کو انہی کی جماعت آج بھی طوائف کہہ پکارتی ہے. یہ وہی بدقسمت خاتون ہیں جنہیں چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھری پارلیمان کے سامنے خواجہ آصف نے "ٹریکٹر ٹرالی” کہہ کہ پکارا. قارئین کرام کسی انسان کا نام بگاڑنا ناقابل قبول ہے. خواجہ آصف کی اس حرکت کی مذمت نہ کرنا زیادتی ہے لیکن اس سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آپ خواجہ آصف کو پکڑ کر رگڑتے رہیں اور ایمان مزاری، محمود اچکزئی، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے نام بگاڑنے والوں پہ عش عش کرنے والے تماش بین بنے رہیں. فی الوقت آپ بےشک عشقِ نواز یا ایمان باالعمران میں کتنے ہی غرق ہوں، ایک وقت آئے گا جب آپ یہ مان رہے ہوں گے کہ یہ تمام دنیاوی خدا ہمیں ٹیکسی، ٹریکٹر، ٹرالی اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے میں مصروف ہیں. ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں یہ موقع ہم خود فراہم کرتے ہیں.

Views All Time
Views All Time
488
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   گوادر کس نے ایجاد کیا؟ - نذیر ناجی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: