کھلونا

Print Friendly, PDF & Email

Faiz muhammadاندھیری رات میں جھلملاتے ہوئے ستارے عارفہ کے چمکتے ہوئے چہرے کو دیکھ رہے تھے وہ جو سہمی ہوئی گھر کی چھت پر ٹھہری ہوئی تھی اور نیچے سبزہ زار کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل جب اداس ہوجاتا وہ چھت پر چلی آتی۔ آج بھی وہ وہیں ٹھہری ہوئی تھی کبھی آسمان کی طرف دیکھتی تو کبھی زمین کی طرف۔ یونہی خاموشی سے باہر تکتے تکتے اچانک اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ایک خوبرو جوان لڑکا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے سبزہ زار تک آیا.عارفہ اسے بغور دیکھتی رہی. اس لڑکے نے اپنے قدم اس مخصوص کمرے کی جانب بڑھا دیئے جس کے قریب سے بھی عارفہ اب گزرتی نہیں تھی۔ بچپن میں ہی اس نے وہ مناظر دیکھے جو اسکی روح تک کو چھلنی کر دیتے اس کا جسم کانپ سا جاتا ۔
اسے اس مخصوص کمرے سے اور اس کمرے میں جانے والے ہر شخص سے نفرت ہوجاتی اور سب سے زیادہ نفرت اسے اپنے ہی بابا سے تھی جس نے وہ کمرہ آباد کیا تھا۔وہ بابا جسے بچپن سے ہی اس نے اپنا ہیرو سمجھا تھا اپنا آئیڈیل مانا تھا۔ وہ نفرت کرتی تھی مگر اپنی نفرت ظاہر نہیں کرپاتی تھی وہ اپنے ہی بابا سے بھلا کیسے نفرت کا اظہار کرتی؟
آنسوؤں کے گولے اس کے حلق میں پھنس گئے چشم نم ہونے لگی اشک مژگاں کو چھوڑ کر عارض چومتے ہوئے نیچے گرنے لگے۔
اس نے اتنی نفرتوں کے بعد ہی تو اپنے دل میں محبت کو پالا تھا۔ ایک ارمش ہی تو تھا جسے اس نے اپنی جان حوالے کر دی۔ تو کیا آج سے وہ اس سے بھی نفرت کرے گی؟
نہیں نہیں۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی جلدی سے زینے اترتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور بستر پر ڈھے سی گئی۔ وہ جی بھر کے روئی مگر ایک ایسا چشمہ جاری تھا جو ساری شب نہ رک پایا۔
کچھ دنوں تک اسکی طبیعت ناساز رہی۔
جب وہ ٹھیک ہوگئی تو جامعہ چلی گئی۔ اس نے دل میں دعا کی کہ آج ارمش سے سامنا نہ ہو۔ مگر اس کی دعا قبول نہ ہوئی وہ اسکے سامنے ہی آکر ٹھہر گیا۔
"کہاں تھی تم اتنے دن؟ نہ جامعہ آرہی تھی نہ فون پر بات کر رہی تھی؟”
"بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی” عارفہ نے بے رخی سے کہا مزید کچھ اور سنے بغیر ہی وہ چلی گئی۔اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب وہ دوبارہ یہاں نہیں آئے گی۔ ایک ہی شخص تھا جو اسکے دل کا مکین تھا اب وہ اس سے بھی نظر ملا نہیں پارہی تھی۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا مگر اس کے لیے تو ہرایک لمحہ عذاب بنتا گیا۔ کبھی کبھی جی چاہتا کہ وہ اپنی اس اذیت بھری زندگی کو خود ہی ختم کر دے۔ مگر پھر حرام موت کا خیال آجاتا کہ یہ دنیا تو اسکے لیے عذاب ہے شاید دوسری دنیا میں ہی خدا اس پر رحم کرے اور وہ دنیا اسکے لیے راحت کا سبب بنے۔
اسے یاد تھا جب کچھ عرصہ پہلے ارمش نے اس سے کہا تھا”چلو ہم بھاگ چلتے ہیں اگر ہمارے والدین ہماری خوشی میں خوش نہیں ہیں”
"ارمش آپ کو کیا لگتا ہے؟ ہم پھر بھی خوش رہ پائیں گے؟ مجھے اپنے گھر کی عزت پیاری ہے میں اپنی محبت قربان کرسکتی ہوں پر گھر نہیں چھوڑ سکتی”
اس دن کے بعد ارمش نے دوبارہ ایسی کوئی بات نہیں کی۔
وہ روز رات چھت پر جا ٹھہرتی اور دیر تک باہر دیکھتی رہتی مگر وہ اسے دوبارہ نظر نہ آیا۔
"بیٹا بیٹھک کی جا کر صفائی تو کرو "بابا کی آواز پر وہ چونکی۔
"نازیہ نہیں ہے کیا بابا؟”
"نہیں وہ اب چلی گئی ہے اس لیے تم جا کر کمرے کو ٹھیک کرو میرے کچھ مہمان آئیں گے”بابا حکم دے کر سگریٹ کے دھویں اڑاتے ہوئے چلا گیا.
وہ جھجھکتے ہوئے اس کمرے میں چلی گئی جہاں وہ کبھی بھی نہیں جانا چاہتی تھی مگر آج اس کی مجبوری تھی ۔ وہ کمرے میں جا کر چیزیں سمیٹ کر ٹھیک کرنے لگی صفائی کرنے لگی تو اچانک ہی باہر سے دروازہ بند ہوگیا۔ اسکی سانس اٹک گئی وہ لرز سی گئی وہ زور زور سے دروازے کو کھٹکھٹانے لگی "دروازہ کھولیں پلیز دروازہ کھولیں بابا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کوئی تو دروازہ کھولے میں مر جاوں گی” وہ چیختی رہی چلاتی رہی روتی رہی گڑگڑاتی رہی مگر دروازہ دوبارہ نہ کھلا
"کان کھول کر سن لو آج سے تم یہیں رہو گی اور اب نازیہ کی جگہ تم سنبھالوگی اب تم بچی نہیں رہی ہو” بابا کی آواز اسےتپتے ہوئے شعلے کی طرح لگی جو اس کے کانوں کو جلانے لگے۔
"بابا میں تو آپ کی بیٹی ہوں. اپنی بیٹی کی عزت کو تارتار نہ کریں خداکا واسطہ ہے بابا میں جیتےجی مر جاوں گی”روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
"کہاں کی بیٹی ہو تم؟ ہم نے صرف پالا ہے تمہیں. ہسپتال سے اٹھاکر لائے تھے نہ جانے کس کا گندا خون ہو تم۔ میرے احسانات بھلادوگی اب؟”وہ مزید تڑپ کر رہ گئی وہ وہیں بستر پر غش کھا کے بے ہوش ہو گئی ۔
کبھی کبھی قسمت ہمیں نہ جانے کیسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے نہ جانے کیسا کھیل کھیلتی ہے یہ قسمت۔
نہیں نہیں قسمت کا کوئی قصورنہیں ہوتا یہ انسان ہی انسان کو کھلونا بنا لیتے ہیں۔ جب جس کا جیسے جی چاہے کھیلا جاتا ہے جب جی بھر جائے تو اٹھاو پھینکو ٹکڑے ٹکڑے کردو۔
رات کا نہ جانے کون سا وقت تھا دروازہ کھلنے کی آواز ہوئی تو اسکی آنکھ کھل گئی کوئی ہلکے ہلکے قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آرہا تھا۔ عارفہ جلدی سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ کسی نے اسکے کاندھوں کو پکڑ لیا۔
"مجھے ہاتھ نہ لگائیں مجھے مت چھوئیں میں ۔۔ میں ۔۔۔ میں طوائف نہیں ۔۔ پلیز چھوڑ دیجئے مجھے ۔۔ میں مجبور ہوں۔۔ میں مجروح ہوں” وہ چیختے ہوئے کہنے لگی اسکی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
"دیکھو میں ارمش ہوں ڈرو مت”ارمش نے اس کا چہرہ اوپر کیا تو عارفہ کی جان میں جان آئی اور وہ اسکے سینے سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسے اپنی پناہ گاہ مل گئی تھی۔
"نہیں نہیں تم بھی دور رہو تم بھی برے ہو تم بھی اپنی گندی پیاس بجھانے یہاں آئے تھے نا پر میں دریا نہیں اک اجڑا بیابان ہوں مجھ سے کچھ نہیں ملے گا چلے جاو میں کہتی ہوں چلے جاو ”
"مجھے غلط نہ سمجھو مجھے نازیہ نے پہلے ہی بتادیا تھا اس لیے میں نے اس سے ملاقات کی یہاں آیا ہم دونوں کو اس دن کا ہی خدشہ تھا آخرکار وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہ تو بھلا ہو نازیہ کا جس نے مجھے فورا اطلاع کر دی کہ آج تمہیں سولی پر چڑھایا جائے گا اس لیے میں گاہک بن کر آگیا آج۔” ارمش کہتے کہتے اب رونے لگا تھا۔”اب دیر نہ کرو جلدی میرے ساتھ میرے گھر چلو”
"تم نہیں آتے تو میں آج سچ میں مر چکی ہوتی ارمش۔ مجھے معاف کرنا تمہیں غلط سمجھتی رہی”
بہت دیر تک وہ اسے دلاسے دیتا رہا تسلی دیتا رہا اور خاموش کراتا رہا کہ اب وہ بالکل نہ روئے پھر وہ دونوں ایک ساتھ کمرے سے نکلنے ہی والے تھے کہ باہر گولی کی آواز سن کر وہیں رک گئے باہر کچھ شور تھا۔ جب شور ختم ہوا اور سناٹا چھا گیا تو وہ باہر نکل آئے اور گھر کے اندر ایک کمرے میں چلے گئے ایک تجوری کھلی پڑی تھی جو اب بالکل خالی تھی اور نیچے دو لاشیں خون میں تر تھیں بکھری پڑی تھیں ایک اسکے بابا کی اور ایک مما کی۔
آہ کسی معصوم کےساتھ کھیلنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے.

Views All Time
Views All Time
393
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   خالہ | شاہانہ جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: