Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

صوبائی حکومت ،تین برس کاسفر

Print Friendly, PDF & Email

wisal khanخیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے قیام کوتین سال کاعرصہ پوراہوچکاہے 11مئی 2013کے عام انتخابات کے نتیجے میں اکثریت حاصل کرنیوالی تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے 31مئی کوگورنرانجینئرشوکت اللہ سے حلف لیکرصوبے کی بھاگ ڈورسنبھالی ان تین برسوں میں صوبے کے عوام نے کیاکھویااورحکومت نے کیاپایایہ ایک لمبی بحث ہوسکتی ہے لیکن یہاں ہم سرسری طورپہ ان تین برسوں میں حکومتی کارکردگی کاایک مختصرساجائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اس عرصے میں صوبائی حکومت عوام کی زندگی میں واقعی وہ تبدیلی لانے میں کامیاب رہی ہے جس کاوعدہ پارٹی کے انتخابی منشورمیں کیاگیاتھایاجس کے بلند بانگ دعوے اوروعدے کئے گئے تھے گزشتہ تین برسوں پہ نظردوڑانے سے یہ بات بلاخوف وترددکہی جاسکتی ہے کہ حکومت نے محض نعرہ بازی اوراخباری بیانات سے کام چلانے کی کوشش کی ہے قانون سازی کے شعبے میں اگرچہ کچھ نہ کچھ ہلچل نظرآئی مگراسکاکوئی فیض بھی عوام کونہ مل سکارائٹ ٹو سروسزاوررائٹ ٹوانفارمیشن قوانین کی منظوری پرحکومت نے خوشی کے شادیانے بجائے مگراسکے پیچیدہ طریقہء کار،بڑھتی ہوئی آبادی اورحکومتی مشینری کی نااہلی کی وجہ سے ان قوانین کاعوام کوبراہ راست کوئی فائدہ نہیں ہوا صوبائی احتساب کمیشن کے قیام پربھی حکومت نے عوام کی جانب دادطلب نظروں سے دیکھاایک صوبائی وزیرکی گرفتاری پرکمیشن سے توقعات بھی وابستہ کی گئی تھیں مگراسی ایک وزیرکے احتساب شکنجے میں آنے پرحکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اوراسکے قوانین میں ترمیم کرکے اسے بے دست وپاکردیاگیاصوبے کے مخصوص علاقوں کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کیلئے فنگراٹینڈنس کا نظام وضع کیاگیاجواب کہیں بھی موجودنہیں یااگرموجودہے تواس کاسکولوں کی کارکردگی پرکوئی مثبت فرق نہیں پڑاگزشتہ کی طرح اب بھی بورڈکے کسی امتحان میں ٹاپ20میں کوئی سرکاری طالبعلم جگہ نہیں بناپاتانوہزارسکولوں میں بجلی،پانی اورٹائلٹ جیسی بنیادی ضروریات دستیاب نہیں اوراتنے ہی چاردیواری سے محروم ہیں جس سے تعلیمی میدان میں انقلاب کی باتیں سراب ہی لگتی ہیں صحت کے شعبے میں انقلاب کے دعوے بھی دعوے ہی ثابت ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں دوائی موجودہے اورناہی علاج معالجے کامعیاربہترہوااکثرسرکاری ہسپتالوں میں سرنج اورپٹی تک دستیاب نہیں وہاں صفائی کی صورتحال بھی پہلے سے ابترہوچکی ہے آبادی میں روزافزوں اضافے کے پیش نظران تین برسوں میں کوئی بڑاہسپتال نہیں بنایاگیاپہلے سے موجودہسپتالوں میں سہولیات مہیانہیں کی گئیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے کوئی آثارنظرنہیں آئے آبادی پرکنٹرول کیلئے اقدامات نہ ہونے کے برابرہیں محکمہ بہبودآبادی کی کارکردگی بھی صفررہی محکمے کے پاس صوبے کے تمام اضلاع میں میچورکوارڈینیٹرزتک موجودنہیں اس محکمے کاانچارج ایک وکیل ایم پی اے ہیں جنہیں محکمے کے حوالے سے ابتدائی معلومات تک نہیں تیرہ اورچودہ گریڈکے من پسند ملازمین ضلعی کوارڈینیٹرزبنائے گئے ہیں جبکہ پہلے سے موجودتجربہ کارافرادکاتبادلہ دوردرازکے اضلاع میں کردیاگیاہے محکمے کی بھاگ ڈورغلط ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے آبادی پرکنٹرول یاآبادی کی بہبودکاکوئی نیامنصوبہ نہیں دیاجاسکاکرپشن کے ڈرسے پہلے دوسال تک ترقیاتی کام ٹھپ کئے گئے جس کی وجہ سے گزشتہ تین برسوں میں اڑھائی سوارب روپے کے فنڈزلیپس ہوگئے مرکزکے ساتھ بجلی منافعے کامسئلہ درست اندازمیں نہیں اٹھایاگیاکچھ وفاقی حکومت کامعاندانہ روئیہ اورکچھ صوبائی حکومت تدبرسے عاری ،جسکی وجہ سے وفاق کے ساتھ صوبے کے تعلقات کشیدگی کاشکاررہے ان تین برسوں میں صوبائی حکومت خودکوحکومت کم اوروفاق کی اپوزیشن زیادہ سمجھتی رہی وزیراعلیٰ اوروزراوزیراعظم کے خلاف بیانات دیتے رہے جس کالازمی نتیجہ وفاق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت برآمدہواصوبے میں لاتعدادپن بجلی کے فیزیبلیٹی رپورٹس تیارہونے کے باوجودایک میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل نہ ہوسکی گزشتہ صوبائی حکومت نے اپنے آخری ایام میں 2100میگاواٹ کے پن بجلی منصوبوں کی بنیادرکھی تھی جسکے بارے میں کوئی خیرخبرموصول نہ ہوسکی آیاان پرکام جاری ہے یاانہیں سابقہ حکومت کے منصوبے سمجھ کرکھڈے لائن لگادیاگیاہے صوبائی حکومت کواس عرصے میں تین گورنرزکے ساتھ کام کرناپڑاجبکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین سینئیروزرابنائے گئے اہم وزارتیں اتحادیوں کے پاس رہیں بلدیات،خزانہ،زکواۃاورصحت جیسے محکمے حکومتی اتحادیوں کے قبضے میں رہے وزارت اطلاعات ونشریات تک کاقلمدان تحریک انصاف کاکوئی کارکن سنبھال نہ سکااوراس کیلئے پارٹی میں شامل ہونیوالے آزادرکن اسمبلی کاانتخاب عمل میں لایاگیابلدیات جیسے اہم وزارت کوجماعت اسلامی کے رحم وکرم پہ چھوڑاگیاتین ماہ میں بلدیاتی انتخابات کاوعدہ کرنے والی حکومت دوسال بعدانتخابات کاانعقادکرسکی مگریہ بھی مشکوک انتخابات ٹھہرے اس میں لڑائی جھگڑوں سمیت دھاندلی کی لاتعدادشکایات سامنے آئیں انتخابات کے انعقادکوایک سال کاعرصہ گزرچکاہے مگربلدیاتی نظام فعالیت سے کوسوں دورہے ڈسٹرکٹ ناظمین سمیت ویلیج کونسل نمائندے احتجاج کرتے نظرآرہے ہیں ان انتخابات میں حسب سابق بڑے سیاستدانوں کے رشتے دارہی منتخب ہوئے نوشہرہ میں وزیراعلیٰ کے بھائی ضلع ناظم بنے ہیں جبکہ انکے خاندان سے چارخواتین مخصوص نشستوں پرممبران پارلیمنٹ اور داماد ایم این اے بن چکے ہیں ان مثالوں سے تحریک انصاف کے وراثتی سیاست کے خاتمے والے نعرے کوزبردست دھچکہ لگاوزیراعلیٰ نے اپنے اختیارات کاکلہاڑاچلاکراپوزیشن کے ضلعی ناظم مردان کے حمایت مایارکومعطل کیاجنہیں ہائی کورٹ سے بحالی کاپروانہ ملابلدیاتی نظام کے ثمرات عوام کومنتقل نہ ہوسکے تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی میں فارورڈبلاک بھی سامنے آیاجنہیں روایتی طورپہ عہدے وغیرہ دیکررام کیاگیا رکن اسمبلی جاویدنسیم نے وزیراعلیٰ کیخلاف پشاورکی سڑکوں پرگوخٹک گوکے نعرے لگائے ۔ امن وامان کی صورتحال ناگفتہ بہہ رہی اغوابرائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ ،رہزنی اورقتل مقاتلے کی وارداتوں میں کمی نہ آسکی دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات رونماہوئے جن میں پشاورچرچ ،آرمی پبلک سکول ،باچاخان یونیورسٹی چارسدہ اورملازمین کی بسوں میں دھماکے قابل ذکرہیں ڈی آئی خان جیل پرحملہ ہواجس کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک منظرعام پہ نہ آسکی احتساب اورکرپشن کی روک تھام کے نعرے اس وقت ہواہوئے جب احتساب کمیشن کے قوانین میں ترامیم کرکے اسے احتساب ڈائیریکٹریٹ میں تبدیل کردیاگیااوراسے رواں ترقیاتی سکیموں میں مداخلت نہ کرنے کاپابندبنادیاگیاکمیشن 5کروڑسے کم کرپشن کیس میں مداخلت کامجازنہیں ہوگایعنی اتنی رقم کی کرپشن جائزسمجھی جائیگی سرکاری اداروں میں سیاسی کارکنوں کی مداخلت جاری ہے شیرگڑھ میں پارٹی کارکنوں کی جانب سے امتحان ہال میں لڑکیوں کی جامہ تلاشی نے گھمبیرصورتحال پیداکی پارٹی کے مشہورراہنماکی ایک ہی دن میں پرچے اوردوسرے دن رزلٹ نے بھی شفافیت کے نعروں کے کھوکھلے پن سے پردہ اٹھایاصوبائی اپوزیشن سے حکومت کے تعلقات کشیدہ رہے اوراسے دبانے کاعمل جاری رہاایک سال سے زائدعرصے تک ڈپٹی سپیکرکاانتخاب لٹکتارہاقومی وطن پارٹی کے وزراکوکرپشن کے الزام لگاکربرطرف کیاگیامگربعدازاں انہیں دوبارہ حکومت میں شامل کیاگیاقومی وطن پارٹی کی انیسہ زیب اس حکومت کی پہلی خاتون وزیرٹھہریں جبکہ تحریک انصاف کے کسی خاتون کووزارت نصیب نہ ہوسکی ہاں مہرتاج روغانی صوبائی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی سپیکرضرورمنتخب ہوئیں حکومت کی بیشترتوانائی سابقہ حکومتوں پرتنقیداوراخباری بیانات میں صرف ہوئی مثالی کہلانے والی پولیس بھی شکایات کی زدمیں ہے الغرض گزشتہ تین سال کاتفصیلی جائزہ تو بہت مشکل ہے مگر سرسری طورپہ یہ کہاجاسکتاہے کہ ان تین برسوں میں حکومت انتظامی، قانونی اورسیاسی طورپہ کاہائے نمایاں انجام دینے سے قاصررہی اوراسکی جھولی میں بے شمارچھیدموجودہیں جنہیں آئندہ دوبرس کی بہترکارکردگی سے رفوکیاجاسکتاہے ورنہ شاعرسے معذرت کیساتھ
آوزادے کے دیکھ لو شائدوہ مل جائے
ورنہ یہ ’’تین برس ‘‘کاسفررائیگاں توہے

Views All Time
Views All Time
318
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہمارے ووٹ کی حق دار سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ اچھے امیدوار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: