بھارت کے ایک تیر سے تین شکار

Print Friendly, PDF & Email

Rizwan Zafar Gurmaniبھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دوره ایران کے دوران ایرانی بندرگاه چاه بہار کی توسیع سے متعلق ایران اور بھارت کے مابین 12 معاہدوں پر دستخط ہوۓ ہیں جس کیلیے ایران کو پاکستان کے اک مخالف کے طور پر پورٹریٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
کسی بھی ملک کے نزدیک سب سے اہم ملک مفادات ہوتے ہیں اور پوری دنیا کے ممالک کی خارجه پالیسی اور دوسرے ملکوں سے تعلقات کی نوعیت اسی مرکزی نقطے کے گرد گھومتی ہے مثال کے طور پر مودی کے ہمارے برادر اسلامی ملک یو اے ای کے دوره کے موقع پر سٹیڈیم کے اندر پاکستان مخالف تقریر ہو یا پھر مسلم امه کے قائد سعودی عرب کا مودی کو ایوارڈ سے نوازا جانا سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور سفارتخانے کا قیام ہمیں یه سمجھانے کے لیے کافی ہو گا که ملکی مفادات سب سے اہم ہوتے ہیں باقی عصبیتوں کی باری بعد میں آتی ہے
گوادر پورٹ کی اہمیت میں کمی افغانستان میں براه راست رسائ اور ایران کو پاکستان سے متنفر کر کے بھارت نے ایک تیر سے تین شکار کیے ہیں
وطن عزیز کی گوادر پورٹ دنیا کے کئی ممالک کی آنکھوں کا تارا ہونے کے بجائے ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی ہے اور اس کیلئے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کھینچا تانی شروع ہو چکی ہے۔ گوادر پورٹ سے ہمارے برادر ملک متحدہ عرب عمارات کی بندرگاہ دبئی کافی متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر ہم اس کو ایک سٹریٹجک اثاثے کے لحاظ سے دیکھیں تو اس کی اہمیت اور کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ سٹریٹجکلی پاکستان بحرہند میں سٹریٹ آف ہرمز کیلئے بہت اہم گیٹ وے ہے اور اسی سٹریٹ سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس سے دو اسلامی ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدیں بھی ملتی ہیں۔
گوادر پورٹ کے فعال ھونے سے پاکستان ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ اس لیے امریکہ اور چین کے ساتھ ساتھ بھارت اور خلیجی ممالک بھی رسہ کشی میں شامل ہوگئے تھے۔ یہ رسہ کشی دو سطحوں پر جاری تھی۔ ایک تو اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوسری اس کو ناکام بنانے کی۔ امریکہ اور چین قبضے کی تگ و دو میں لگ گئے جبکہ خلیجی ممالک اس کو ناکام کرنے کی ناکام کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ گوادر پورٹ کے ذریعے توانائی سے مالا مال وسط ایشیائی ممالک تک رسائی آسان ہونے کی وجہ سے اس کی سٹریٹجک اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔اسی وجہ سے ایران اور متحدہ عرب عمارات اس کو مقابلے سے نکال باہر کرنے پر جت گئے ہیں۔ اگر ہم مغربی چین اور وسط ایشیائی ممالک کو دیکھیں تو یہ قیف کی مانند ہیں اور قیف کے چوڑے حصے پر گوادر پورٹ موجود ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت فوجی لحاظ سے دیکھیں تو اس بندر گاہ سے بحیرہ عرب پر ہمارا تسلط قائم ہوتا ہے۔بھارت گوادر پورٹ کے مقابلے میں ایرانی بندرگاه چاه بہار کو فعال کرنے کی کوششیں 1990 سے کر رہا ہے صرف ایران ھی نہیں خلیجی ممالک خصوصا یو اے ای کو بھی گوادر پورٹ کے حوالے سے تحفظات ہیں ان کا ماننا ہے چونکه گوادر جغرافیائ پوزیشن اتنی آئیڈیل ہے کہ اس کے فعال ہونے سے دبئ کی مارکیٹ ویلیو گرنے کا اندیشه ہے لہزا یه فعال نہیں ہونی چاہییے حالانکه ایران پر عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہمیں ایرا کو اک اہم تجارتی منڈی کے طور پر لینا چاہیے تھا پاک ایران گیس پائپ لاین منصوبے ایران سے بجلی گیس تیل اور موٹر انڈسٹری کی تجارت ہمارے حق میں تھی مگر ایسا نھیں کیا گیا اب جب پاکستان نے خود ہی ایران سے تجارت اور لین دین سے فرار کا رویه اپنا رکھا تھا تو انہوں نے ملکی مفادات کیلیے بھارت سے ہاتھ ملانے میں دیر نہیں لگائ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں بلیم گیم کھیلنے کی بجاۓ زمینی حقائق اور ماضی میں افغانستان میں پراکسی وار کے بھیانک نتائج سے سبق حاصل کرتے ہوۓ اک نیا محاذ نہیں کھولنے کی بجاۓ خطے میں گوادر کی اہمیت برقرار رکھنے کی سعی کرنی چاہییے

Views All Time
Views All Time
1078
Views Today
Views Today
1
mm

رضوان گورمانی

رضوان ظفر گورمانی ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ تعلق کوٹ اددو سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: