Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

by مئی 30, 2016 بلاگ
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
Print Friendly, PDF & Email

Umme Rubabجیتے رہو بیٹا،اللہ عمر دراز کرے، بہت بڑے آدمی بنو۔۔ہمارے بزرگوں کی دعاؤں میں یہ سب سے پسندیدہ دعا ہوا کرتی ہے۔یوں ہمارا یہ بڑا آدمی بننے کا عمل بچپن سے شروع ہوتا ہے اور تا حیات جاری رہتا ہے اور بڑے آدمی ہم کبھی بن نہیں پاتے کیوں کہ تمام عمر ہم یہی جان نہیں پاتے کہ بڑا آدمی دراصل ہوتا کیا ہے کہ بڑا آدمی بننے سے ہماری مراد ہمیشہ دولت مند اور طاقت ور ہونا ہی ہوتا ہے۔
انسان کی ہزاروں تو کیا لاکھوں خواہشات ایسی ہوتی ہیں کہ ہر خواہش پہ اس کا دم نکلتا ہے۔خواہشات کا یہ لا متناہی سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ہم زندگی بھر بڑی بڑی چیزوں اور خواہشوں کے حصول کے پیچھے بھاگتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔اچھا گھر،اچھی نوکری،زیادہ سے زیادہ پیسہ،بہتر آسائشیں اور ایک بہترین لائف اسٹائل کے تعاقب میں دوڑتے چلے جاتے ہیں اور اس دوڑ میں روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔خوشی ایک بہت بڑا لفظ ہے اور ایک بہت بڑا جذبہ،مگر یہ خوشی ہمیں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی مل جایا کرتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ہم نے اچھا گھر،اچھی تعلیم،آسائشیں اور ایک اچھا لائف اسٹائل دے دیا ہے تو ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے۔ ہم اپنی مصروفیتوں میں خود کو اور اپنی فیملی لائف کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔سب سے اہم چیز وہ وقت ہے جو ہم انہیں دے نہیں پاتے کیوں کہ کبھی دفتر کا کوئی ضروری کام آن پڑتا ہے، کوئی اہم میٹنگ یا اسی نوعیت کے دوسرے مسائل ہمیں درپیش ہوتے ہیں۔کئی بار تو اس قسم کی مصروفیت میں ہم اپنا چھٹی کا دن بھی اپنے خاندان کے ساتھ نہیں گذار پاتے یعنی اکژ تو لنچ یا ڈنر پر موجود ہوتے ہوئے بھی سب ایک دوسرے کے ساتھ موجود نہیں ہوتے۔
کیوں نہ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، چلئے آج ایک دن سب پر پابندی لگا دی جائے کہ ڈنر کے وقت کھانے کی میز پر کوئی اپنا موبائل فون ساتھ نہیں لائے گا۔مشکل ہے نا؟ْ؟ مگر نا ممکن تو نہیں۔یاد کیجئے ،کب آپ پوری فیملی کے ساتھ پکنک منانے گئے تھے؟چلئے پکنک نہ سہی،ایک دن سب مل کر تھوڑا سا وقت نکال کر کسی پارک میں جا کر بیٹھیں،تازہ ہوا اور خوش گوار ماحول کا مزا لیں، آپس میں گپ شپ کریں ،ہنسیں بولیں، مسکرائیں، قہقہے لگائیں۔کسی دن پلان بنا کر کوئی اچھی سی فلم سینما میں دیکھنے جائیں،مہینے میں ایک بار کھانا کسی ریسٹورنٹ میں جا کر کھایا جائے۔کیا یاد ہے کہ سب اکٹھے شاپنگ کرنے کب گئے تھے؟؟چلئے ونڈو شاپنگ ہی کر کے آتے ہیں۔کسی پرانے دوست سے ہی ملنے جائیں اور پرانی یادیں تازہ کریں۔دفتر سے سالانہ چھٹیاں لے کر کسی دوسرے شہر یا دوسرے ملک کی سیر ہی کر کے آئیں۔
یہی ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم اپنی مصروفیت میں بھلا دیتے ہیں۔بڑی بڑی چیزیں تو اپنی جدوجہد اور محنت سے آپ حاصل کر ہی لیتے ہیں مگر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو آپ کو ایک دوسرے سے قریب بنائے رکھنے میں مدد دیتی ہیں،بھلا دی جاتی ہیں اور یوں سب ایک دوسرے سے بے زار اور دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
بظاہر ہم اپنے کام میں مصروف اور خوش نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اپنوں سے الگ رہ کر ہم سچی خوشی حاصل نہیں کر سکتے۔اب بھی وقت نہیں گذرا،اپنے سچے اور پر خلوص رشتوں کی قدر کیجئے، ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو حاصل کیجئے کیوں کہ انہی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے پیچھے ہمارے اپنوں کی محبتوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر ہوتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
570
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اردوئے‘معلیٰ’ کی بجائے اردوئے‘محلہ’-عبدالحنان مغل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: