Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہذا من فضل شیطان

Print Friendly, PDF & Email

Model-Housing-Societyاردو کے مزاحیہ کالم نگاروں میں جناب نصراللہ خان اہم مقام رکهتے ہیں۔ آپ نے نصف صدی سے زیادہ کالم نگاری کی اور ریکارڑ بارہ ہزار سے زیادہ کالم لکهے۔ میں خان صاحب کا ایک کالم پیش کرکے اپنی بات آگے بڑهاتا ہوں۔ اس میں شیطان دهاڑیں مار مار کر رو رہا ہے اور انسان ہنس رہا ہے۔
"شہر کی سب سے بڑی ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک بہت بڑے بنگلے کے سامنے ایک ضعیف شخص کہ جس کی بهنویں بهی سفید تهیں، بیٹھا دهاڑیں مار مار کر رو رہا تها۔ ہمیں اس پر بڑا ترس آیا۔ قریب گئے، پوچها "بڑے میاں! تم کون ہو، کیوں رو رہے ہو؟”
وہ بولا ” اے اجنبی میرا نام شیطان ہے۔” پهر کہنے لگا: "یہ سامنے جو مالک مکان ہے، ہم نے اس کو بلیک مارکیٹنگ، بلیک میلنگ اور بلیک قسم کے جتنے بهی فن ہو سکتے تهے، سب ہی سکھا ڈالے۔ پهر اسے ہم نے اسمگلر بنایا، فرسٹ کلاس اسمگلر، پهر اسے ہم نے حاجی بنایا۔ جب یہ حج کرکے واپس لوٹا تو اپنے ساتھ دینی ثواب کی بجائے دنیاوی ثواب کے ڈهیر اٹها لایا۔ پهر اس نے یہ بنگلہ بنایا۔ یہ کہہ کر شیطان پهر رونے لگا۔ ہم نے پهر رونے کی وجہ دریافت کی تو بولا:
"دیکهو اوپر کیا لکها ہے!” ہم نے کہا ” سامنے لکها ہے ہذا من فضل ربی”
وہ بولا "کیا یہ رونے کا مقام نہیں؟ اس شخص نے اسمگلنگ ہم سے سیکهی، اسے بلیک مارکیٹنگ ہم نے سکهائی۔ بلیک میلنگ کے جدید ترین طریقے ہم نے بتائے۔ پهر دولت ہم نے اکٹهی کروائی۔ کیا اپنے مکان پر اس احسان فراموش کو یہ نہیں لکهوانا چاہیے تها ” ہذا من فضل شیطان”
اس جملے سے میرا دور پرے کا بهی کوئی تعلق نہ ہے۔ اس جملے کی شرعی حیثیت متعین کرکے فتویٰ بهی خان صاحب پر ہی لگنا چاہیے کہ مجھ میں ابهی فتویٰ کا بار اٹهانے کی ہمت نہ ہے۔
ارے خان صاحب کیا بات کرتے ہیں آپ؟ کیا آپ کو خبر نہیں کہ آج اگر اسلام کے نام لیوا موجود ہیں اور اسلام پهل پهول رہا ہے تو اس میں ہذا من فضل ربی کے ساتھ ساتھ شیطان والے عظیم لوگوں کا بهی خاص کرم شامل ہے۔
آپ کیا چاہتے ہیں کہ جو ہزاروں مدارس ان لوگوں کی زکوٰۃ خیرات سے چلتے ہیں، وہ بند ہو جائیں؟ مساجد کی تعمیرات روک دی جائے؟ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ جب یہ لوگ نذرانہ لے کر آئیں تو نذرانہ قبول کرنے سے پہلے یہ پوچها جائے کہ آپ کا ذرائع آمدن کیا ہے؟
آپ چاہتے ہیں کہ صدقہ لے آنیوالوں سے یہ کہہ کر صدقہ لینے سے انکار کردینا چاہیے کہ پہلے وضاحت کرو کہ صدقے کا مال کہاں سے آیا؟
آپ چاہتے ہیں کہ تمام سوشل اور فلاحی ادارے بند ہو جائیں؟ کیا آپ کو احساس ہے کہ اگر ویسا ہو جائے جیسا آپ چاہتے ہیں تو کیا ہوگا؟ اسلام کے عظیم مبلغین اور سپہ سالار کہ جن کے دم سے آج ہم پوری دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے بلند کیے ہوئے ہیں، وہ اپنا یہ عظیم فریضہ کیسے نبهائیں گے؟ کیا آپ کو نہیں احساس کہ پهر ان کو ڈیفنس اور اعلیٰ قسم کی ہاؤسنگ سکیموں کو چهوڑ کر عام انسانوں کی طرح عام گهروں میں رہنا پڑے گا۔ کیا آپ کو احساس نہیں کہ انهیں لگژری گاڑیاں چهوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا پڑے گا؟ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ دین کی تبلیغ کے لیے ٹی وی چینلز بهی درکار ہیں جن کا لاکهوں روپے روزانہ کا خرچ ہوتا ہے اور وہ انہی شیطان والوں کی مرہون منت ہیں؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد بهی عام لوگوں کی طرح عام مدارس میں پڑهے اور امریکہ ، کینڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگری ہولڈر نہ ہو؟ کیا آپ کو خبر نہیں کہ دین کے محافظوں کی ذاتی حفاظت کے لیے بهی سیکیورٹی درکار ہے؟ کیا آپ نے یہ سیدنا عمررض کا دور سمجها ہوا کہ جو دشمن مومن کے نام سے بهی کانپ اٹهے گا؟
ارے خان صاحب یہ جدید دور ہے۔ آپ پتہ نہیں کس زمانے کی بات کرتے ہیں۔ آپ ہیں کیا؟ آپ تو یہ بهی کہیں گے کہ 50 ہزار روپے فی گهنٹہ کے حساب سے تقریر کرنے والا مولوی دین فروش ہے؟ لاحول ولا قوت الا باللہ۔۔۔ خان صاحب فورا ََتوبہ کیجیے اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی طلب کیجیئے۔ آپ کو ابهی ان سب باتوں کا علم نہیں ہے۔ آپ کا مطالعہ محدود ہے۔ آپ دین سے بہت دور ہیں۔ صالحین کی صحبت میں آجائیں۔ آپ کے تمام خدشات خودبخود دور ہو جائیں گے۔
آپ چاہتے ہیں کہ علماء آج بهی دین کی خدمت ویسے ہی کریں جیسے صحابہ کے دور میں تهی؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ اس دور اور اس دور میں کتنا فرق ہے؟ ارے بھئی اب گزارہ نہیں ہوتا۔
آپ کے خیال میں معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ زکوٰۃ کا غیر منصفانہ نظام ہے؟ خان صاحب اگر آپ کا بس چلے تو آپ مدارس اور مساجد کو تالے ہی لگوا دو۔ آپ ہو کون؟ آپ کے پیچهے کون ہے؟ آپ کا مشن کیا ہے؟ ارے بھئی غریبوں کا کیا ہے وہ تو جیسے تیسے زندگی گزار ہی رہے ہیں نا! دو وقت کی بجائے ایک وقت کها لیتے ہیں لیکن اگر دین کی خدمت رک گئی تو جانتے ہیں کہ کتنا نقصان ہوگا؟ آپ کی بلا جانے کہ آپ ٹھہرے یہود و ہنود کے ایجنٹ۔ اگر ہر دیہات قصبہ اور شہر کے معززین اپنے اپنے علاقہ سے عشر، زکوٰۃ اور صدقات وغیرہ اکٹھے کرکے اپنے اپنے فرقے کے مرکز میں نہیں پہچائیں گے اور اپنے ہی علاقہ کے غریبوں میں تقسیم کردیں گے تو آپ سوچ بهی نہیں سکتے کہ دین کا کتنا نقصان ہو جائے گا۔
خدارا خان صاحب! آپ شریف لوگوں کو نہ چهیڑیں۔ چلو مان لیتے ہیں کہ پیسہ کمانے کے چکر میں تهوڑا بہت الٹا سیدها بهی ہوگیا ہو گا مگر اب تو حج بهی کر لیا ہے۔ داڑهی بهی رکھ لی ہے۔ زکوٰۃ بهی دیتے ہیں۔ فلاحی کاموں میں بهی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر آپ ہیں کہ مجهے معلوم ہے اب بهی دل ہی دل میں یہی کہہ رہے ہونگے کہ "نو سو چوہے کها کے بلی حج کو چلی”
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
آہ! چپ بهی رہا نہیں جاتا

Views All Time
Views All Time
776
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شوق کا کوئی مول نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: