Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تیسری دنیا

by اگست 20, 2016 افسانہ
تیسری دنیا
Print Friendly, PDF & Email

افسانہ برائےعالمی افسانہ میلہ teesri dunya2016
عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر 15 ” تیسری دنیا ” ۔۔
اقبال مٹ ، خانیوال ۔ پاکستان ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭۔۔
آخر کار لوگوں نے اپنے اپنے پرچے ، جن پر ان کا حساب کتاب درج تھا سنبھال لیے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ تو ایک خوب صورت گھر میں داخل ہو گئے۔ دوسرے کچھ لوگ جو بائیں ہاتھ میں اپنے اعمال نامے سنبھالے ہوئے تھے پریشان حال تھے۔ ان کو ایک طرف دشت میں دھکیل دیا گیا۔
ان کو ہانکنے والی غیر مرئی مخلوق تھی۔دشت سے یہ غیر مرئی مخلوق بائیں ہاتھ والوں کو ایک پل کی طرف ہانک رہی تھی اور پل پر چڑھتے ہی وہ لوگ کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ نیچے گہری کھائیوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے تو وہ کٹے جسم بھی ساتھ ہی بلند ہوتے۔ کھائی کے ایک طرف بورڈ پر لکھا تھا،
"دنیا سے لائی گئی ان کی اپنی آگ "۔
ان میں سے کچھ لوگ میں نے پہچان لیے جن میں میرا باپ قابیل بھی تھا ۔ ایک نسبتاََگہری کھائی میں ایک آدمی اپنے قریبی رشتے داروں کے ہمراہ سخت ترین آگ میں جل رہا تھا ۔ مجھےمیرے فیس بک کے ایک دوست نے بتایا کہ یہ فرعون اور اس کی آل ہے۔ خیر اس کے بعد مجھے یزید و شمر کو بھی دیکھنے کی شدید خواہش ہوئی مگر بتانے والے بتا رہے تھے کہ ان کا معاملہ سب سے آخر میں ہو گا اور ساری مخلوق اپنے اپنے مقام پر براہ راست دیکھے گی ۔ سقراط ،افلاطون اور ارسطو کو میں ڈھونڈ کر جا ملا ۔ گاندھی کے گرد جم غفیر تھا جن میں سرخ لباس پہنے ایک بزرگ پٹھان بھی تھا ۔ نیلسن منڈیلا بھی اسی گروپ میں تھا ۔ شاہ فیصل اور جمال ناصر کو بہت ڈھونڈا مگر ایک دیکھنے والے نے بتایا کہ وہ بڑے آرام دہ گھر کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے اور زلفی بھٹو بھی شاہ کے ساتھ تھا ۔ زلفی بار بار شاہ سے کہتے سنا گیا کہ مجھے تیسری دنیا کے پاس جانے دو مگر شاہ اسے بازو سے پکڑ کر ساتھ لے گئے ۔ ایک لڑکی جسے زلفی پنکی کہہ کر بلا رہے تھے ، پاپا، پاپا اور انکل، انکل کہتے نہ تھکتی تھی۔
غالب اور میر ہمارے ہاں سے جلد ہی کھسک گئے کہ غالب کو بادہ خوری اور میر کو غلمان ہم سے دور لے گئے۔
خیر میں آپ کو بتانا بھول رہا ہوں کہ میں خود کس طرف تھا ، میرا نام ویٹنگ لسٹ والے انہی لوگوں میں تھا ۔نہ آر نہ پار ۔ میرے ساتھ لوگوں کا اژدھام تھا ۔جب میں نے ان اپنوں کو دیکھا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں؟
دراصل میں لوگوں کو سوچتا ہوا دیکھ کر اکثر بوجھ لیتا ہوں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں ؟  میرا ڈاکٹر اسے ذہنی الرجی کہتا تھا ۔ خیر میں نے دیکھا کہ کچھ غزلیں ،نظمیں سوچ رہے تھے ،کچھ اس ماحول کو افسانوی رنگ دینے پر تلے بیٹھے تھے ۔ ایک آدمی وہاں کا درجہ حرارت کم کرنے کے بارے سوچ رہا تھا ،کچھ کو کرکٹ کھیلنے کی سوجھ رہی تھی ،چند ایک سارا نقشہ کاغذات پر منتقل کرنا چاہتے تھے ، میری نظر ایک گروپ پہ جاٹھہری جو اس صورت حال کو رپورٹ کرنا چاہتا تھا۔
ویٹنگ لسٹ والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ۔ وہ کھیل کے میدان ، ہسپتال اور دیگر منصوبوں پر کام شروع کرنا چاہتے تھے ۔ اساتذہ کیکر کے درخت کے نیچے ٹاٹ سکول کھولنے کا پروگرام ترتیب دینے اور کسان مینہ کی دعاؤں کی باریابی کے منتظر تھے۔ ان سب کے نزدیک یہ ایک بڑے ذرائع والی اور مواقع کی دنیا تھی۔
اسی اثنا غیر مرئی مخلوق قدرت کے سامنے حاضر ہوئی اور بارگاہ میں ایک رپورٹ سنانا شروع کر دی۔
سوال قدرت ۔ "کیا جملہ مقاصد پورے ہو گئے؟”
غیر مرئی مخلوق "جی ہاں”
سوال قدرت ۔ "ان ویٹنگ لسٹ والوں کو سب کچھ بتادیا ؟”
"جی سب کچھ بتا دیتے ہیں ۔”
غیر مرئی مخلوق باادب ہو کر بولی ۔ یہ سن کر قدرت بہت خوش ہو گئی اور ہم سے براہ راست مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا۔
” دراصل تم تیسری دنیا کے وارث ہو ۔” یہ سن کرہم سب بہت خوش ہو گئے اور خوشی کے اظہار کے لیے باآواز بلند نعرے لگانے شروع کردئیے۔ میرے دونوں ہاتھ فضا میں بلند تھے اور دوسروں کے نعروں کے شور میں ،میری آوازبھی شامل ہو گئی۔شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی کہ ایک عورت جو میری بیوی بھی ہے ،نے میرے بیٹے اکرم کو نیند سے جگایا اور کہا ،
” اکرم اٹھو، لگتا ہے تیرے باپ کو آج پھر پاگل پن کا دورہ پڑا ہے۔ اٹھو اور اسے سنبھالنے میں میری مدد کرو”۔ ماں بیٹے دونوں نے آگے بڑھ کر مجھے قابو کر لیا اور میں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

Views All Time
Views All Time
362
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اوور کوٹ-غلام عباس
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: