اوہ پیسہ بڑا اے ۔۔ ہا ہا ہا

Print Friendly, PDF & Email

noor-darweshپاک بھارت کشیدگی کی جو لہر اس وقت جاری ہے کیا ایسا حالیہ برسوں میں پہلی بار ہوا ہے؟
قطعا ََنہیں۔سنہ2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی۔ بھارت نے حسبِ معمول حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ، جیشِ محمد پر عائد کرتے ہوئے پاکستان کو اِس کا مورد الزام ٹہرایا۔ تند و تیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔ بھارت نے5 لاکھ کے قریب فوج بمعہ جنگی ساز و سامان بارڈر پر پہنچا دیا جس کے جواب میں پاکستان نے 3 لاکھ کی نفری بارڈر پر بھیج دی۔ غالباََ پنجاب بارڈر پر بھی فوجیں آمنے سامنے تھیں۔
اس کے بعد دونوں ملکوں نے بلاسٹک میزائل بھی بارڈر پر نصب کر دئے۔دسمبر 2001سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ بلآخر اکتوبر 2002 میں ختم ہوگیا اور پھر نومبر تک دونوں ملکوں نے اپنی اپنی فوجیں لپیٹ کر واپس رکھ لیں۔ اِس عرصے کے دوران دونوں جانب سے بیان بازیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور "نِمی نِمی” سی جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔ پرویز مشرف اور بھارت کی طرف سے منموہن سنگھ کے بیان سامنے آتے رہے اور پھر قومی ترانہ سنا دیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ اِس کشیدگی پر بھارت کا کُل خرچہ تین اعشاریہ دو بلین ڈالرز اور پاکستان کو ایک اعشاریہ چار بلین ڈالرز آیا۔ حاصل وصول تو معلوم نہیں کیا ہوا البتہ پنجابی کو وہ مشہور ڈائیلاگ ضرور یاد آگیا جو انکل سرگم کے پروگرام میں چوانی سیٹھ لگایا کرتا تھا:
"اوہ پیسہ بڑا اے ۔۔ ہا ہا ہا”
یہی کچھ2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دیکھنے کو ملا۔ اس بار بھی الزام پاکستان پر لگایا گیا۔ بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کی باتیں کی جانے لگیں۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے مطابق اُنہوں نے تقریبا پانچ ہزار مقامات کی نشاندہی کی جہاں وہ سرجیکل سٹرائیکس کا ارادہ رکھتے تھے۔ پاک فضائیہ کو سٹینڈ بائے کر دیا گیا اور بھارت کی طرف سے بھی تیاری مکمل کر لی گئی۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے لاہور کے مضافاتی علاقوں میں پروازیں بھی شروع کر دیں۔ غالباََ راجھستان والی سائیڈ پر بھارت نے فوجی نفری بھی جمع کردی تھی اور ایسا ہی کچھ ہم نے بھی مختلف بارڈرز پر کیا۔ نیوی والے بھی کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہوگئے۔
حسبِ معمول تند و تیز بیانات کا سلسلہ چلتا رہا۔ ‘خون کے آخری خطرے تک لڑیں گے’کا عزم دہرایا گیا۔ پاکستانی عوام کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔
یہاں ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ تحریک طالبان جسے عام طور پر ہم را کا ایجنٹ کہتے ہیں، اُس نے اس جنگ میں بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔
اور اب 2016 میں ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں حملہ ہوا،17 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ ذمہ داری لشکر طیبہ جیش محمد پر عائد کرکے الزام پاکستان پر عائد کردیا گیا اور ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیکس اور پاکستان پر حملے کی باتیں دہرائی جانے لگیں۔ تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور عوام کا جوش و خروش ایک بار پھر عروج پر ہے۔
میں نے 2001 اور2008 میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور اُس دوران ہونے والے واقعات کو اِن دنوں جاری کشیدگی سے موازنہ کیا تو یقین کریں مجھے تو کچھ بھی فرق نظر نہیں آیا سوائے اس کے کہ اس وقت سوشل میڈیا پہلے سے زیادہ موثر ہے۔ ورنہ وہی بھارتی میڈیا ہے، وہی ہمارا میڈیا ہے، وہی بیانات ہیں اور وہی جنگی جنون۔
تو کیا اِس کشیدگی کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو اِس سے پہلے نکلتا آیا؟ کیا پہلے کی طرح فوجیں آمنے سامنے آئیں گی، جنگی جہاز پروازیں کریں گے اور ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دی جائیں گی؟ تو کیا اِس بار بھی کچھ عرصے بعد اِس کشیدگی کا تخمینہ بلین ڈالرز کی صورت میں برآمد ہوگا؟
اگر میری حب الوطنی خطرے میں نہ پڑے تو عرض کروں گا کہ اِس بار بھی کچھ ویسا ہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ "نِمّی نِمّی” سی جھڑپیں ہونگی، بارڈر پر رہنےو الوں کو نقل مکانی کرنی پڑے گی، فوجیں آمنے سامنے آئیں گی اور پھر آخر میں قومی ترانہ ہوجائےگا۔
جوش و خروش سے کانپی ہوئی عوام کو البتہ ایک فلک شگاف نعرہ ضرور سنائی دے گا۔
"اوہ پیسہ بڑا اے ۔۔ ہا ہا ہا”

Views All Time
Views All Time
1143
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بےحسی کی ماری ہوئی قوم | زری اشرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: