باتیں‌مریم اسماعیل کی

Print Friendly, PDF & Email

maryam ismaeel 1مریم اسماعیل نیو ٹی وی کی پروگرام اینکر سے محمد الیاس کا خصوصی ا نٹر ویو
پروگرام اینکر نیو ٹی وی مریم اسماعیل پچھلے بارہ سال سے ٹی وی نیوز میڈیا سے منسلک ہیں نہ صرف مریم اسماعیل بلکہ اُن کے شوہر بھی نیوز میڈیا کی جانی پُہچانی شخصیت ہیں مریم اسماعیل نے فنانس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بزنس پلس ٹی وی سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ پھر حالا ت کی نزاکت اور وقت کی ضرورت کو بھا نپتے ہوئے انھوں نے نیوز میڈیا کا رخ کیا ۔اس وقت مریم اسماعیل نہ صرف نیو ٹی وی پر’نیو پاکستان’ کے نام سے پروگرام کر رہی ہیں بلکہ ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔آج کے اس انٹرویو میں مریم اسماعیل یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ نیوز میڈیا میں کیسے آئیں؟ کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور یہ فیلڈ خواتین کے لئے کیسی ہے ؟
س: آپ نے نیوز میڈیا جوائن کیوں کیا؟
ج: میری دلچسپی بینکنگ اور فنانس تھی ۔ اس لیے میں نے فنانس میں ماسٹر کرنے کے بعد بزنس پلس جوائن کیا ۔ بزنس پلس میں لوگوں کی دلچسپی کم تھی تو ہمیں بے روزگار نہیں ہونا تھاتو اس لئے ترجیحات تبدیل ہو گئیں اور میں اس نیوز میڈیا کی طرف چل پڑی ۔
س: اس فیلڈ میں آپ کی دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
ج: ہر چیز معیشت پر انحصار کرتی ہے ۔ تو ہم یہاں اپنی معیشت بہتر کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں جب آپ کسی بھی فیلڈ میں مسلسل کام کرتے ہیں تو آپ کی دلچسپی بن ہی جاتی ہے
س: کیا آپ کے فیملی کا کوئی اور ممبر میڈیا سے منسلک ہے ؟
ج: جی ہاں کافی زیادہ ہیں لیکن وہ نیوز میڈیا سے نہیں بلکہ انٹرٹینمنٹ میڈیا سے منسلک ہیں ۔
س: جب آپ نے نیوز میڈیا جوائن کیا تو آپ کی فیملی کا کیا ردِ عمل تھا؟
ج: بہت سپورٹنگ تھا۔خاص طور پر میرے والد نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔
س: نیوزمیڈیا جوائن کرنے کے بعد آپ کو گھر میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ؟
ج: نیوز میڈیا میں آنے کے بعد مجھے میرے گھر والوں کی طرف سے کسی بھی ایشو کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
س: آپ اپنے میل کولیگز اور باس کے رو یے کو کیسے بیان کریں گی؟
ج: مرد ہر جگہ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ کسی اور فیلڈ میں خواتین کو دیکھتے ہی نہیں یا لائن نہیں کرواتے ۔ تو منفی اور مثبت رویہ ہر جگہ اور ہر فیلڈ میں ہی ہوتا ہے یہ FemaleپرDependکرتا ہے کہ وہ کیسے ہینڈل کرتی ہیں ۔
س: خواتین کے لئے نیوز میڈیامیں کیابیرئیر ہیں؟
ج: پڑھی لکھی خواتین کے لئے یہ ایک بہت بڑا بیرئیر ہے اگر وہ خوبصورت نہیں ہیں تو وہ میڈیا پر نہیں آسکتیں. ایک وقت تھا جب میڈیا میں ڈگری کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن ابھی اچھی شکل کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔
س: کیا آپ سمجھتی ہیں کے غیر شادی شُدہ خواتین جرنلسٹ اپنا کام زیادہ محنت اور لگن سے کرتیں ہیں نسبتا شادی شدہ فیمیل جرنلسٹ سے ؟
ج: ہماری فیلڈ کی لڑکیوں سے وہی مرد شادی کرتے ہیں جو ہمارے کام کی نوعیت کو سمجھتے ہیں ۔محنت اور لگن دونوں صورتوں میں ایک جیسی ہوتی ہے۔
س: کیا آپ سمجھتی ہیں‌کہ خاتون جرنلسٹ کی پروفیشنل لائف اُس کی ازدواجی زندگی میں لڑائی جھگڑوں کا سبب بنتی ہے ؟
ج: جی ہاں باکل ،ایسے بہت سارے کیسز دیکھنے کو ملے ہیں ۔وہ لڑکیاں جو شادی سے پہلے نیوزمیڈیا میں کام کرتی تھیں ، شادی کے بعد اُن کے شوہر نہیں چاہتے کہ اُن کی بیویاں باہر فیلڈ میں جاکر لوگوں کے درمیان کام کریں۔اسی طرح شادی کے بعد ایوننگ اورنائٹ شفٹ کرنے کے بھی ایشوز ہوتے ہیں۔
س: کیا آپ سمجھتی ہیں کے نیوز میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کو شادی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: ہماری سوسائٹی کا ایک یہ بھی المیہ ہے کہ یہ نیوز میڈیا کو بھی شوبز سمجھتے ہیں۔تو ایسی وجوہات کی بنا پرتھوڑی مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے ۔
س: کیافی میل جرنلسٹ اپنی فزیکل Appearenceکو زیادہ اہمیت دیتی ہیں نسبتََامردوں کے؟
ج: جی ہاں یہ عنصر بہت زیادہ پایا جاتاہے ۔
س: کیا میڈیا آرگنائزیشنز ہائرنگ کے وقت خواتین کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں نسبتََامردوں کے؟
ج: جی ہاں ایسا ہی ہے یہ مردوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے ۔مردوں کو تنخواہیں بھی کم دی جاتیں ہیں خواتین کی نسبت،آج کل ادارے Credibilityنہیں دیکھتے بلکہ عورتوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔
س: میڈیا انٹری کے وقت فی میل کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: اور بھی بہت سارے مسائل ہو سکتے ہیں لیکن سب سے بڑا مسائل Harassment
کا ہے ، نہ صرف لڑکیوں کو بلکہ لڑکوں کو بھی Harassment جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔
س: کیا آپ کی آرگنائزیشنزآپ سے Requireکرتی ہے کہ آپ اپنی خوبصورتی اور فزیکل ExpressionسےAudienceکوAttractکریں؟
ج: ایسابراہِ راست تو نہیں کہا جاتا لیکن بلاواسطہ بولاجا سکتا ہے ۔جیساکہ کہتے ہیں کہ گلیمر لائیں ۔ڈپٹے کی ایک چھوٹی سی پٹی گلے پر رکھ سکتے ہیں یا ایک سائیڈ پر لٹکا سکتے ہیں. یہ بھی تو ایک Harassment ہی کی ایک قسم ہے ۔میں نے ایک نیوز آرگنائزیشن میں کام کرتے ہوئے MD کو ای میل کی تھی کہ میں سر پر ڈوپٹہ اوڑھنا چاہتی ہوں۔ توانہوں نے کہا نہیں اگر آپ کو سکرین پر کام کرنا ہے تو آپ کو ایسے ہی کرنا پڑے گا ۔
س: آپ اپنے شوق کی وجہ سے کام کر رہی ہیں یا معاشی مسائل کی وجہ سے؟
ج: معاشی ضروریات کی وجہ سے ہی کر رہی ہوں مفت میں تو کسی کو بھی گھر سے نکلنے کا شوق نہیں ہوتا ۔
س: اگر نیوز میڈیا کے علاوہ آپ کو کسی او ر فیلڈ سے اچھی تنخواہ کے ساتھ جاب کی آفر ہو تو کیا آپ نیوز میڈیا کو خیر باد کہہ دیں گی؟
ج: میں اب یہ لائف ہینڈل نہیں کر پارہی شاید یہ ملک ہی چھوڑ کر چلی جاؤں
س: کیا آپ نیوز میڈیا جوائن کرنے سے پہلے سر پر ڈوپٹہ یا حجاب اُوڑتی تھی ؟
ج: نہیں میں ایسی ہی تھی جیسی ہوں ۔
س: نیوز میڈیا میں ٹا پ پوزیشنز پر فی میل کی تعداد اتنی کم کیوں ہے وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جو انہیں ٹاپ پوزیشنز پر جانے سے روکتی ہیں؟
ج: یہ میل ڈومینٹنگ سوسائٹی ہے امریکا بھی ہیلری کلنٹن کو صدر نہیں چنےگا۔ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ مرد ٹاپ پوزیشنز پر عورتوں کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں
maryam ismaeel 2س: کیاٹاپ پوزیشنز پر جانے کے لئے خواتین جرنلسٹ اپنی خوبصوتی اور فزیکل ایکسپریشن کا استعمال کرتیں ہیں؟
ج: جی ہاں بالکل ایسا ہے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بہت ساری جرنلسٹ جو اب ٹاپ پوزیشنز پر ہیں سب کو پتہ ہے کہ وہ کیسے آئیں تھیں اور کیسے ٹاپ پوزیشنز پر پہنچ گئیں۔
س: کیا لڑکیوں کو نیوز میڈیا جوائن کرنا چاہیے؟
ج: جی ہاں بالکل کرنا چاہیے۔
س: کیا آپ کی فیملی آپ کو اجازت دیتی ہے کہ آپ رات دیر گے تک کام کریں ؟
ج: جی ہاں ایسا کوئی ایشو نہیں ہے فیملی کی طرف سے۔
س: کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ میں یہ قابلیت ہے کہ آپ لیٹ نائٹ اور پچیدہ ایشوز کو کور کر سکتی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں؟
ج: جی ہاں بالکل ، قابلیت بھی ہے اور کرنا بھی چاہتی ہوں ۔
س: کیا نیوز شوز کی کوریج کے لحاظ سے Gender Matterکرتی ہے ؟
ج: میرے خیال میں مردوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے ۔کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ لڑکیاں تو ٹک ہی جائیں گی۔کچھ ادائیں دیکھا کر اور کچھ خوبصوتی کے بل بوتے پر۔
س: جرنلزم پروفیشن کے لیے مرد زیادہ موزوں ہیں یا عورتیں ؟
ج: دونوں ہی برابر ہیں ۔
س: کیا ہماری سوسائٹی فیملی جرنلسٹ کے بارے میں منفی سوچ رکھتی ہے؟
ج: تھوڑی بہت منفی سوچ ابھی بھی ہے لیکن پہلے سے بہت بہتر ہے۔
س: فیملی جرنلسٹ کے امیج کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے؟
ج: میڈیا آرگنائزیشنز کو چاہے کہ وہ معتبر خواتین کو ہائیر کریں ۔ یہ سستی شہرت کے چکروں سے نکل آئے۔کوالٹی پر توجہ دے نہ کہ پیسہ بنانے پر. عورتوں کو بے بی ڈول کے طور پر استعمال کرنا بند کردے ۔ میڈیا آرگنائزیشنز اُن خواتین کو ہائیر کر لیتی ہیں جن کا نہ تو ڈگری سے تعق ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھائی لکھائی سے بس صرف اور صرف خوبصورتی کو اہمیت دی جاتی ہے
س: آپ جرنلسٹ کے طور پر اپنا سکوپ کیا دیکھتی ہیں ؟
ج: لانگ ٹرم تو نہیں دیکھتی یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ بی بی سی نیوز کے لئے کم ازکم پینتیس سال کی عمر درکار ہوتی ہے نیوز اینکر کے لیے جبکہ ہمارے ہاں پینتیس
سال کی عمر کے بعد نیوز اینکر کو سکرین پر نہیں دیکھایا جاتا ۔
س: کیا آپ اسی ماحول سے خوش ہیں کو آپکی آرگنائزیشن نے آپ کو مہیا کیا ہے ؟
ج: جی ہاں میں اسی ماحول سے بالکل خو ش ہوں ۔
س: کیا آپ اپنی آرگنائزیشن کو اس ماحول کے حوالے سے کوئی مشورہ دینا چاہتی ہیں ؟
ج: زیروToleranceپالیسی ہونی چاہیے Harassmentکی۔ جوکہ نیو (NEO) میں ہے۔
س: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بناؤ سنگھار کے حوالے سے وومن جرنلسٹ کیمرہ کے سامنے زیادہ پریشر محسوس کرتیں ہیں نسبتََا مردوں کے ؟
ج: میں خاص طور پر رپورٹرز کے حوالے سے بات کروں گی ۔ فی میل رپورٹرزکو دھکے بھی کھانے پڑتے ہیں اور لوگ فیلڈ میں Touchبھی کرتے ہیں ۔اُن کی Perception ہی بہت غلط بن جاتی ہے ۔اُن کے رشتے بہت مشکل سے آتے ہیں
تو آخر پرمرد رپورٹر ہی فی میل رپورٹر سے شادی کرتے ہیں.
س: آپ اپنی جاب سے خوش ہیں ؟
ج: جی ہاں۔
س: اُن خواتین اور لڑکیوں کے لیے آپ کا کیا مشورہ ہے جو میڈیاجوائن کرنا چاہتی ہیں؟
ج: رزق حلال کمائیں ،پڑھیں اور چیزوں کا Analysis کریں ،کام کی بنیاد پر آگے آئیں جو خوبصورتی اور دکھاوے کے بل بوتے پر آگے نہ بڑھے یہ سب بہت عارضی ہے۔

Views All Time
Views All Time
624
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   کیا منٹو بھی ’نعرے بازی‘ کے نشے میں گرفتار تھا؟

9 thoughts on “باتیں‌مریم اسماعیل کی

  • 15/06/2016 at 6:03 شام
    Permalink

    Journalists logo ka interviews krtay hain, lakin ap nay tu journalists ko e kathray mein khara kr lia…Appreciate

    Reply
  • 15/06/2016 at 6:07 شام
    Permalink

    Boht aala Ilyas Bahi, Kamal topic choose kia….

    Reply
  • 15/06/2016 at 6:15 شام
    Permalink

    Madam Marium nay tu Media houses ki watt laga di

    Reply
  • 16/06/2016 at 6:11 صبح
    Permalink

    Batain marium ismail ki jga journalism and journalist topic ziada acha hai

    Reply
  • 16/06/2016 at 6:19 صبح
    Permalink

    Media organizations ko in cheezo ko dour krnay ki har mumkin koshesh krni chahiay jo marium ismail nay nashandahi ki hai…………

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: