وطن سے محبت کی تدریس

Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newاگست کا مہینہ پاکستان کے عوام کو آزادی کی خوشیاں بھی دیتا ہے اور جدوجہد اور آزاد ملک کے لئے قربانیوں کی داستانیں بھی دہراتا ہے لیڈروں اور سیاستدانوں کے کارنامے اور سیاسی معرکہ آرائیاں بھی بیان ہوتی ہیں‘ ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر دانشور‘ ادیب اور صحافی اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تلخ یادوں کا تذکرہ نہیں ہوتا…. انسانی تاریخ کی جو سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی‘ انسانوں نے مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو لوٹا‘ ان کا قتل عام کیا‘ عورتوں کی عصمتیں تاراج ہوئیں‘ بچوں نے نیزوں‘ بھالوں اور برچھیوں پر جھولے جھولے‘ یہ سب کچھ پاکستان اور ایک آزاد ملک کی خواہش پر برداشت کیا گیا- پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر مٹی کو بھی چوما اور سجدہ شکر ادا کیا کہ اپنے ملک‘ اپنے وطن پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی اپنی بادشاہی اور حکومت ہوگی‘نہ انگریز کی غلامی ہوگی نہ ہندو کی معاشی بالادستی اور نہ ہی کسی اور کی بادشاہی…… اپنی رائے ہوگی اور اپنے فیصلے….. سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی‘ کہیں عدم مساوات نہیں ہوگی لیکن افسوس70 ویں سالگرہ منائی گئی- خوشی کے نغمے سنائے گئے‘ وطن سے محب کے ترانے بجائے گئے‘ اس محبت کی تجدید کی تدریس بھی کی گئی‘ منافقوں اور مشرکوں کو مسلمان بننے کے لئے کہا گیا- اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا ہم ایسے لوگ بھلا کیا کہہ سکتے ہیں‘ اس کا جواب تو پالیسی ساز اور صاحب اختیار ہی دے سکتے ہیں‘ ہم تو اپنے معیار‘ سوچ اور مشاہدے کے مطابق بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں‘ پاکستان کے شہروں میں جو پاسپورٹ آفس بنائے گئے ہیں ان میں اتنا رش کیو ں ہے‘ ان میں پاسپورٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد ہر روز کیوں بڑھتی ہے اور نئے پاسپورٹ آفس بنانے کے مطالبے کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟؟ حکومت کو یہ آفس کیو ں بنانا پڑ رہے ہیں؟؟ یہ محض آمدنی میں اضافہ کا ہی ذ ریعہ نہیں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کا بھی فرض ہے-
لیکن….کیا یہ سچ نہیں کہ…. پاسپورٹ حاصل کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے‘ کیا یہ ملک چھوڑنے کی خواہش یا پھر وقت اور حالات کے جبر میں فرار کی کوشش نہیں؟؟ نوجوان نسل اپنی صلاحیت اپنی محنت بیرون ملک بیچنا اور اس کے بدلے میں معاشی سہولتیں حاصل کرکے اپنی اور احباب کی زندگی آسان بنانا چاہتی ہے اپنے اور اپنے عزیزو اقارب کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتی ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو خواہشوں کو عزائم میں بدلنے کی کوششوں میں پاسپورٹ کو اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں‘ بے شمار ایسے لوگ ہیں جن کی خواہشیں ان سے بھی بڑی ہیں مگر وہ پاسپورٹ کے خود کو قابل نہیں سمجھتے‘ بس زندگی کے اسی دائرے میں کولہو کے بیل کی طرح گھومتے رہتے اور اس کو وطن کی محبت قرار دے کر خود کو تسلی دیتے ہیں….. یہ الگ بات کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ بغیر پروں کے بھی اڑ جائیں‘ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوچنا حکمرانوں کا کام ہوتا ہے اور ان کے لئے حکمت عملی بنانا پالیسی سازوں اور عملدرآمد کرنا حکومت اور اس کے اداروں کا فرض ہوتا ہے مگر افسوس کہیں بھی اپنے فرض کا احساس نہیں‘ محض مفادات ہیں اور ان کا تحفظ یا پھر اسے یقینی بنانے کی خواہش بلکہ اسے سے بھی آگے اختیارات اور وسائل بروئے کار لا کر محفوظ بنانے کی کوشش خواہ اس کے لئے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے؟؟ جائز ناجائز کچھ ناجائز نہیں سب جائز ہے؟؟
یہی داستان ہے‘69 سال کی آزادی کی اور یہی ثمر ہے اس آزاد گلستان کا …. صرف دو فیصد نے98 فیصد کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں حشرات الارض بنا دیا ہے جو صرف پاؤں تلے روندنے کے لئے ہوتے ہیں‘ یہی تو وہ دو فیصد قابض حکمران ہیں جن کی وجہ سے آج60 فیصد بے چارے مجبور اور بے بس عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے‘ محرومیوں اور لاچارگی کی دلدل میں گرے ہوئے ہیں بیس فیصد آبادی یعنی چار کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں انہیں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا کہیں موقع نہیں مل رہا‘ انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کہاں جائیں کس کنویں میں چھلانگ لگائیں‘ زندہ بھی رہیں یا نہیں‘ اگر زندہ رہیں تو کس کے لئے اور کیوں؟؟ زندگی تو ویسے ہی قدم قدم خودکشی اور آہستہ آہستہ زہرخورانی ہے‘ تو پھر کیوں نہ….؟؟؟؟
صاحبو ! افسوس‘ اس تمام کچھ کے باوجود حکمرانوں کی بے حسی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ 69 سال کے اختیارات صرف انہی کے لئے ثمرآور ہوئے ہیں‘69 سال کی آزادی نے98فیصد کو تو محرومیوں‘ مجبوریوں‘ بے بسیوں اور لاچارگی نے صرف دو وقت کی روٹی ہی تو دی ہے‘ ستم بالائے ستم کہ وطن سے محب کی تدریس بھی انہی کے لئے ہے-

Views All Time
Views All Time
328
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شہرِ مادرِ مہربان ملتان میں دو دن | حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: