Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کہانی میرے پڑوسی کی

by مئی 24, 2016 کالم
کہانی میرے پڑوسی کی
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliمیرے گھر کے دائیں جانب کے مکان میں ایک اُڈھیر عمر کے صاحب اپنی نو عمر بیوی کے ساتھ بسیرا کرتے ہیں۔کسی زمانے میں دور اُفتادہ قصبوں میں کچھ دینِ خداوندی کی اِشاعت کی خاطر ،اور زیادہ شکم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے واسطے، مارے مارے پھر ا کرتے ہیں۔ اب ضُعف اور اپنی طبعی اِستراحت پسندی کے سبب سے ،اُن تمام مشاغل سے جن میں رتی برابر بھی مشقت کا اِحتمال ہو ، کنارہ کشی اختیار کر کے، فارغ اُلبالی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ بیوی قسمت کی ماری، بڑے گھروں میں چھوٹے موٹے کام کر کے ،جو چار پیسے کما لاتی ہے، وہ مہینہ بھر یوں کفایت کرتے ہیں کہ ہر تیسرے روز گھر بھر کو فاقہ جھیلنا پڑتا ہے۔موصوف خود ایک عدد چھاپہ خانے کے مالک ہیں، جس میں جنت اور دوزج کے ٹکٹ چھپ کر مستحقین میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ نیز ایمان کے سرٹیفیکٹ بھی آرڈر پر چھاپے جاتے ہیں۔
یہ صاحب بفضلِ خدا اپنی شبانہ روز انتھک محنت کا ثمر اب تک درجن بھر بچوں کی پیدائش کی صورت میں پا چکے ہیں۔ کُل بچوں کی گنتی غالباََ سترہ تک پہنچتی ہے، اگراُن پانچ بچوں کو بھی شمار کیا جائے ،جو پیدا ہوتے ہی مر گئے تھے۔ پچھلے تین سال سے ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ہمیں اس غیر متوقع توقف کی وجہ سمجھ میں ہرگز نہ آسکتی ،اگر ہم اُنہیں، چھپ چھپ کر دیواروں پر جلّی حُروف میں لکھے امراضِ مخصوصہ کے اشتہارت پڑھتے نہ دیکھ لیتے۔ ضبطِ تولید کے سخت خِلاف ہیں اور اسے اولاد کا قتل قرار دیتے ہوئے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی بچہ بھوک سے بلک بلک کر مر جائے یا کسی بھرے بازار میں گم ہو جائے کہ اس فوجِ ظفر موج کا شمار رکھنا خاصا کٹھن کام ہے، یا کسی بیماری کے ہاتھوں چل بسے ،تو دوسری بات ہے۔ اس صورت میں ان پر ہرگزکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ یہ تو محض رب کی منشا ہے۔ اُس کریم کے کھیل وہ جانے۔
یہ صاحب بڑ ے فخر سے ،ہر آدمی کو یہ بتاتے ہیں کہ آج تک ان سے کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اور اس قابل ِستائش کارنامے کے ثُبوت کے طور پر ماتھے پر پڑا نشان سب کو دکھاتے پھرتے ہیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دن بھر اور اکثر رات کے آخری پہر بیوی کو گالیاں دینا،اُن کے محبوب ترین مشاغل میں سے ایک ہے۔ ان کی گالیوں میں انسانی اعضا ئے مخصوصہ کا استعمال اس قدر آزادانہ اور اِفراط سے ہوتا ہے کہ بعض دفعہ گالیاں فصاحت و بلاغت کے درجے سے گر کر بیالیوجی کا سبق بن جاتی ہیں۔ ایسی ننگی گالیاں سننے والے کے لیے بھی دلچسپی اور لطف کا عنصر کھو دیتی ہیں۔ جناب مشتاق یوسفی کے الفاظ میں کہوں تو گالی کیا دیتے ہیں بس جغرافیہ سا کھینچ دیتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیوی کو ایک طویل اور پرپیچ گالی سے نوازا ہے اور پھر کُلی کرنے صحن میں لگے نل کے طرف لپکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر گالی دینے کے فوراََ بعد کُلی کر لی جائے تو وضو ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔
موصوف امورِ خانہ داری میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ بیوی کو کڑی ہدایت دے رکھی ہے کہ بینگن اور آلو چھیلتے وقت خاص دھیان رکھا جائے اور اگر کسی آلو یا بینگن میں اللہ کا نام لکھا نظر آئے تو فوراَََ ان کو اطلاع دی جائے۔اگر کبھی اتفاق سے کسی آلو یا بینگن میں اللہ کا نام لکھا ہوا دریافت ہو جائے ،اور ایسے حسین اتفاقات اکثر ہوتے رہتے ہیں، تو مارے فرطِ مسرت کے وہ سبزی اُٹھا کر باہر گلی میں نکل جاتے ہیں اور دوسروں کو دکھا کر اُن کا ایمان بھی تازہ کرتے ہیں اورخود بھی مفت میں ثواب کماتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اِدھر بیوی توے پر روٹی ڈالتی ہے، ادھر یہ لپک کر چولہے کے پاس آ ن بیٹھتے ہیں تاکہ روٹی پر ربِ کائنات کا با برکت نام تلاش کر سکیں ۔ اس کے علاوہ بھری دوپہروں میں سارا سارا د ن ادوائن کی چارپائی پر لیٹ کر، آسمان کے دامن میں پھیلی بدلیوں کی بنتی بگڑی اشکال میں اسمائے باری تعالی اور کلمہ شریف کھوجتے رہتے ہیں۔
اگر کبھی کوئی سر پھر ا ہمت کر کے کہہ دے کہ”یا حضرت! آسمان پر رب کا نام تلاش کرنا چھورئیے کہ اُس کی ذاتِ اطہر تو اس کائنات کے ذرّے ذرّے میں دل بن کر دھڑکتی ہے ، وہ تو خود کو آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب بتلاتا ہے اور بالفرض اگر کسی شے پر اُس کا نام لکھا ہوا نظر آ بھی جائے تو کونسی بڑی بات ہے۔ وہ جو فقط ایک لفظ”کن "سے اِس جہانِ رنگ و بو کو وجود میں لا سکتا ہے ، جو کنواری مریمؑ سے عیسیؑ کو پیدا کرو ا سکتا ہے، جو وقت کو صرف ایک نقطے پر ٹھہرا کر رُسولِ پاکﷺ کو سات آسمانوں کی سیر کروا سکتا ہے ، جو سلیمان ؑ کو ہواؤں، جنوں اور کل چرند پرند پر قدرت بخش سکتا ہے ، اُس کے لیے کسی سبزی، یا شہد کے چھتے یا کسی درخت کی چھال پر اپنا اسم ِمبارک کندہ کر دینا کونسا محال ہے؟ اپنے شکستہ گھر پر نظر کریں۔ بال بچوں کی سوکھے تن دیکھیں۔ اپنی بیوی کی آنکھوں میں جل چکی تمناؤں کی راکھ دیکھیں۔ رزق کے لیے کچھ ہاتھ پیر چلائیں۔” یہ استدلال سن کر کچھ کھسیانے سے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمارا کام ہے قدرت کی نشانیوں پر غور کرنا (یعنی موسمی پھلوں اور سبزیوں پر خُدا کا نام ڈھونڈنا)، رِزق کی ذمّہ داری، اُس کی ہے جو پتھر میں کیڑےکو بھی بھوکا نہیں مرنے دیتا ۔ یہ ایمان افروز جواب سن نصحیت کرنے والا ،اُنہیں من و سلویٰ کا منتظر چھوڑ ،کف ِافسوس ملتا اپنی راہ لیتا ہے۔
ہمارے اکثر لوگوں کی طرح یہ حضرت بھی یہود و ہنود کو بدعائیں دینا اور اُن کو نیست و نابود کر دینے کی قسمیں کھانا ، اپنا قومی و مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ موسمی تبدیلیاں ہوں ، کوئی زلزلہ سیلا ب وغیرہ ہو، یا چاہے گلی میں کھیلتے کسی بچے کے گر جانے یا خود اُن کے کسی غلیظ نالی میں پیر رپٹ جانے کا دِلدوز واقعہ ہو، تمام واقعات کی کڑی کسی نہ کسی صورت یہودی یا امریکی سازش سے جاملاتے ہیں۔ بھارت میں کسی مسلمان کے ساتھ وہاں کی ہندو اکثریت کی جانب سے کوئی زیادتی کا واقعہ ہو جائے تو غصہ سے لال بھبھوکا ہو جاتے ہیں اور اپنی فوج کو ملامت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں کہ کیوں اب تک ہماری افواج بھارت پر نہ چڑھ دوڑیں ، مگر یوحنا آباد میں پوری مسیحی بستی جلا دی جائے تو اُف تک نہیں کرتے۔ عیسائی جوڑے کو بھٹی میں زندہ جلا دیا جائے ،تو اس کام کو درست تصور کرتے ہوئے ، مجرمین کی ستائش میں ربط اللسان ہو جاتے ہیں۔ سندھ سے، ہزاروں ہندو اکثریت کےاستحصال سے تنگ آکر سرحد پار کوچ کر جائیں تو ان کو اور ان کے بھائی بندوں کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔
یہ حضرت محض ایک خیالی کر دار نہیں، جنہیں میں نے محض اپنے تخیل کے بل بوتے پر گھڑ لیا ہو، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہمارا روبہ زوال معاشرہ دو انتہاؤں میں مُنقسم ہے جن میں سے ایک انتہا پر یہ حضرت ہیں اور دوسری انتہا پر "موم بتی والی سرکار” فائز ہیں۔ "موم بتی مافیا” کا ذکر انشااللہ کسی آئندہ مضمون میں ہوگا۔ یہ دونوں کردار چکی کے دو پاٹ ہیں جن کے بیچ یہ معاشرہ پس کر رہ گیا ہے۔ لکھنا تو بہت کچھ چاہ رہا ہوں مگر ان موصوف کا ذکرِ خیر جو چلے گا ،تو زلفِ جاناں کی طرح طول ہی کھینچتا جائے گا ۔سو یہاں لکھنے کا سلسلہ موقوف کرتا ہوں ۔ تھوڑے کو بہت جانیں اور کہانی کی باقی جزائیت ، اپنے اردگرد کے مشاہدے سے مکمل کر لیں۔

Views All Time
Views All Time
1259
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   ایتھے رکھ ! - وسعت اللہ خان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: