زندان کی چیخ – پینتیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedکافی دیر تک نیند یا نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا۔ لانگری بھیا کی آواز پر احساس ہوا کہ وہ شام کا کھانا لے کر کوٹھڑی کے باہر کھڑا تھا۔ بہت مشکل محسوس ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر جنگلے تک جانے اور کھانا لینے میں۔ کھانا لے کر دوبارہ لیٹ گیا۔ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ جب سے گرفتار ہوا تھا مجھ پر تشدد ہو رہا تھا۔ یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ بہت سخت جان تھا۔ وحشیانہ تشدد ہنس کر برداشت کر لیا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ تشدد سے بچنے کے لئے جو راستہ تھا وہ کم ظرفوں اور بے نسبوں کا راستہ تھا۔ فوجی حکومت کی مخالفت پر کوئی شرمندگی نہیں تھی اس لئے سب سہنا پڑا۔ البتہ مجھے حیرانی ضرور تھی کہ ابھی اک دو دن قبل جمیل بھٹی مجھے کچھ اور کہہ کر گیا تھا اور عمل کسی دوسرے انداز میں ہوا تھا۔ مجھے اس سوال کا جواب بھی اپنے اندر سے ملا۔ تفتیشی حکام دوہرا کھیل کھیل رہے تھے۔ ایک طرف ترغیب اور دوسری طرف تشدد۔ ان کا خیال ہو گا کہ اس طرح ٹوٹ جاؤں گا اور ان کے لئے اپنی بات منوانے میں آسانی ہو جائے گی۔کافی دیر بعد یہ سوچ کر کھانا زہر مار کیا کہ کھانا اگر بالکل ٹھنڈا ہو گیاتو کھایا بھی نہیں جائے گا۔ یہاں کون سااماں ابا لاڈ اٹھانے کے لئے بیٹھے تھے یا بہنیں موجود تھیں جو واری صدقے ہوتے ہوئے کھانا گرم کر دیتیں۔ ماحضر تناول فرما چکا تو یادوں کا ہجوم در آیا۔ تنہائی وہ بھی قید اور شاہی قلعہ کی۔ اس میں یادیں ہی سب سے مضبوط سہارا ہوئیں۔ نیند سے آنکھ مچولی جاری رہی۔ کتنی دیر یہ تو یاد نہیں البتہ صبح آنکھ فجر کی اذان پر کھلی۔ شاہی قلعہ کے سامنے ہی تو بادشاہی مسجد تھی۔صبح و شام اور عشاء کی اذانیں صاف سنائی دیتی تھیں۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر دیوار کے سہارے بیٹھنے کی خواہش ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ بائیں ٹانگ خاصی سوجھی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے یہ کل برسائی گئی محبت کا نتیجہ تھا۔ درد گو قابلِ برداشت تھا مگر ٹانگ اکٹھی (دہری) کرنے یں بہت مشکل ہو رہی تھی۔ گھٹنہ بھی سوجا ہوا تھا۔ جیسے تیسے کر کے دیوار کے سہارے بیٹھ ہی گیا۔
وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ صبح صادق کے ان لمحوں میں اپنے رب سے رجوع کرتے ہوئے یہی عرض کر پایا کہ عالمین کے جہاں پناہ! مشکل کے ان لمحوں میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما کہ میں اپنے والدین اور دوستوں کے لئے باعثِ شرمندگی نہ بنوں۔ ساڑھے تین عشروں بعد جب میں اسیری کے ان دنوں کا احوال لکھ رہا ہوں اس صبح صادق میں کی گئی دعا کی قبولیت سے عطا ہوئی سرشاری اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔ لاریب ارض و سما کے اس خالق و مالک نے اس عاجز انسان کو ہمت و حوصلہ عطا فرمایاجس کی وجہ سے موت کی دہلیز سے واپسی ہوئی وہ بھی سرخروئی اور فتح کے احساس کے ساتھ۔ دن بیدار ہونے لگا تھا۔ کوٹھڑی کے باہر کا سنتری تبدیل ہو گیا۔ کچھ دیر بعد لانگری نے چائے روٹی لا کر دی۔ بدترین حالات میں چائے روٹی کے ناشتے سے تازہ دم ہونے کا احساس ہوا۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ناشتے کے ساتھ ہی شاہی قلعہ کے قیدیوں کو سپر برانڈ کے پانچ سگریٹ ملا کرتے تھے۔ ماچس کوٹھڑی کے باہر کھڑے سنتری کی تحویل میں ہوتی تھی۔ قیدی اس سے کہتا اور وہ سگریٹ سلگوا دیتا۔ ایک عادی سگریٹ نوش کے لئے کم از کم قید کے دوران فرحت بخش لمحہ وہی ہوتا جب وہ اذیت اور دکھوں کو دھوئیں میں اڑاتا۔ چونکہ پانچ دانے (یہی قلعہ کی زبان تھی) یعنی پانچ سگریٹ ملتے تھے اس لئے بہت احتیاط کرنا پڑتی تھی تاکہ شام کے کھانے تک کوٹہ موجود رہے۔ ناشتے کے گھنٹہ ڈیڑھ بعد قلعہ کے چند اہلکار مجھے لینے آگئے۔الٹی ہتھکڑی لگا کر کوٹھڑی سے باہر نکالا گیا۔ لیکن ان کا رخ اذیت خانے کی بجائے دفتروں والے حصے کی طرف تھا۔ کرنل لغاری کے دربار میں پیشی عمل میں لائی گئی۔ ایک دو اور بھی وردی پوش افسران موجود تھے۔دو اہلکار میرے دائیں بائیں مؤدب مگر جارحانہ انداز میں کھڑے تھے۔ چند لمحوں بعد ایک وردی پوش افسر نے سوال کیا ’’ہاں بھئی کیا سوچا تم نے‘‘؟ ’’کس بارے میں جی‘‘؟ میرا جواب مکمل ہونے سے پہلے ایک زناٹے دار تھپڑ نے سلامی دی۔ سلامی کی گونج تھمی تو وہی افسر دوبارہ بولا’’تجھے معلوم نہیں کہ کیا پوچھا جا رہا ہے۔ جلدی سے بکو کیا کہتے ہو۔ اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہو یا نہیں‘‘؟ میں نے جواب میں کہا۔’’ جتنی بار بھی مجھ سے جرائم کے اعتراف بارے سوال ہوا کبھی ان سے انکار نہیں کیا ۔ میں انہیں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور آپ لوگوں کے خیال میں وہ جرائم تھے‘‘۔ دو تین لاجواب قسم کی گالیاں سناتے ہوئے اس نے کہا ’’ہمیں یہ کہانی نہیں سننی کہ میں فلاں ہفت روزہ کا ایڈیٹر تھا۔ فلاں مضمون میں نے لکھا یا فلاں تقریر میں نے کی۔ ہمیں اپنے سوالوں کا جواب چاہیے۔ صاف صاف اور تسلی بخش ۔ کہانیاں سننے کے لئے نہیں بیٹھے ہم یہاں‘‘۔ ’’مگر میں تو اپنا جواب دے چکا ہوں۔ زبانی بھی اور تحریری طور پر بھی‘‘۔ ’’ٹھیک ہے قادر اسے تین نمبر ٹیم کے حوال کر دو ۔ دیکھتے ہیں کتنا دم ہے اس میں‘‘ اس افسر نے حکم دیا۔ دائیں بائیں کھڑے اہلکاروں میں سے قادر کون تھا یا وہ تیسرا جو ان کے ساتھ مجھے کوٹھڑی سے لایا تھا۔ یہی سوچ رہا تھا کہ ساتھ کھڑے ایک اہلکار نے دھکا دیتے ہوئے چلنے کا حکم سنایا۔ کرنل کے دفتر سے نکلے اور دو تین کمرے چھوڑ کر ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے دو افراد کے سامنے انہوں نے مجھے لا کھڑا کیا۔ ’’لیں جی آپ کا مجرم حاضر ہے‘‘ میرے ساتھ آنے والے ایک اہلکار نے کہا۔ ’’اس کی فائل کہاں ہے‘‘؟ ایک افسر بولا۔ ساتھ آنے والے اہلکاروں میں سے ایک نے فائل اس کے سامنے میز پر رکھ دی۔ ’’ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ۔ ضرورت پڑی تو بلا لیں گے‘‘۔ وہ تینوں مجھے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گئے۔ کافی دیر تک وہ دونوں فائل کے اوراق الٹتے رہے۔ درمیان میں وہ ایک نگاہ سامنے کھڑے قیدی پر بھی ڈال دیتے۔ پھر بالآخر فائل کا مطالعہ ختم ہوا اور وہ مکمل طور پر میری جانب متوجہ ہوئے۔
’’نوجوان بیٹھ جاؤ‘‘ ایک نے میز کے اس طرف رکھی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ الٹی ہتھکڑی لگے قیدی کو بیٹھنے کی دعوت دینے والے افسر نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا۔ اس نے بیل بجائی۔ ایک اہلکار کمرے کے اندر آیا تو اس نے کہا قادر کو بلاؤ۔ وہ باہر سے قادر کو بلا لایا۔ کمرے کا دروازہ میری پشت کی طرف تھا۔ مجھے جی سر کی آواز سنائی دی جس سے اندازہ ہوا کہ فائل دینے والا اہلکار قادر تھا۔’’ اس کی ہتھکڑی کھول کر سامنے کی طرف لگادو‘‘۔ اسی اہلکار نے پشت کی طرف ہاتھ کر کے ہتھکڑی لگا کر ہی مجھے کوٹھڑی سے نکالا تھا۔ اس نے ہتھکڑی کھولی اور میرے ہاتھ سامنے کی طرف کر کے دوبارہ ہتھکڑی لگا دی۔ ’’ٹھیک ہے تم جاؤ‘‘ پھر اس نے مجھے دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بیٹھ جاؤ‘‘۔ میں ان کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ’’تمہاری تفتیش اب ہمارے پاس ہے۔ ہماری تم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ کچھ سوالات ہیں۔ ان کے جوابات سوچ سمجھ کر دینا تاکہ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو‘‘۔ ’’جی بہتر‘‘ میں نے جواب دیا۔ ان کا پہلا سوال تھا کہ میں ایک ایسی حکومت کی مخالفت کیوں کر رہا ہوں جس نے ملک کو خانہ جنگی سے بچایا؟ جواباََ کہا کہ خانہ جنگی حالات تو نہیں تھے۔ ایک دو جگہ اگر پیپلز پارٹی نے جلوس نکالے بھی تھے تو یہ ان کا جمہوری حق تھا۔ سوال کرنے والے کے بائیں طرف بیٹھے دوسرے شخص نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ پیپلز پارٹی جس طرح اپنے کارکنوں کو مسلح کر رہی تھی اس سے خانہ جنگی ہو سکتی تھی‘‘؟ ’’جی نہیں۔ میری معلومات کے مطابق پیپلز پارٹی نہیں بلکہ قومی اتحاد کی جماعتیں اپنے کارکنوں کو مسلح کر رہی تھیں۔ ملتان ، حیدرآباد، لاہور اور چند دیگر مقامات پر قومی اتحاد کے کارکنوں نے اسلحہ کی نمائش کی تھی جس کے جواب میں پیپلز پارٹی نے جلوس نکالے‘‘۔’’لیکن حیدر تم تو پیپلز پارٹی کے مخالف کیمپ میں رہے پھر مارشل لاء لگنے کے بعد پیپلز پارٹی کے حامی کیسے بن گئے‘‘؟ سوال ختم ہوا تو میں نے کہا ’’اس بات کی وضاحت میں پہلے بھی کر چکا ہوں ہوں کہ پیپلز پارٹی یا اس کی حکومت سے اختلاف یہ تھا کہ وہ ترقی پسندانہ نظریات سے ہٹ کر رجعت پسندی پر مبنی پالیسیاں اپنانے لگی ہے۔ ایک سیاسی حکومت وہ بھی پیپلز پارٹی ، کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ اپنے بنیادی نظریات کے بالکل برعکس رجعت پسندانہ افکار کی ترویج کے لئے اقدامات اٹھائے۔ لیکن اس صاف ستھرے سیاسی اختلافات میں ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ پھر پیپلز پارٹی کو عوام نے منتخب کیا تھا‘‘۔ سوال کرنے والے نے لقمہ دیا ’’دھاندلی کو عوامی تائید نہیں قرار دیا جاسکتا‘‘۔ میرا جواب تھا ’’انتخابات کی مجموعی ساکھ پر نہیں قومی اتحاد کو دو درجن کے قریب قومی اسمبلی کی نشتوں کے نتائج پر اعتراض تھا۔ حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے۔ پھر اچانک مارشل لاء نافذ کر دیا گیا‘‘۔
جاری ہے۔۔۔

Views All Time
Views All Time
898
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔ قسط نمبرچھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: