زندان کی چیخ چونتیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

حرامی کون ہے اور حلالی کون یہ میں ’’  جانتاہوں‘‘تقریباََ چیخ کر میں نے جواب دیا۔ وہ پھر مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے ڈنڈے میرے کوہلوں پر تازیانوں کی صورت پڑ رہے تھے۔ میری ثابت قدمی اور ہوش و حواس گم ہو گئےاور میں دوبارہ بے ہوش ہوگیا۔کتنی دیر بعد ہوش آیا یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے یا پھر وہ سفاک درندے جن کے تشدد سے بے ہوش ہوا تھا۔ البتہ مجھے یاد ہے کہ جب دوبارہ ہوش میں آیا تو فرش پر پڑا ہوا تھا۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر ایک اہلکار نے کہا ’’اوئے منڈیا! کپڑے پا لے‘‘(اوئے لڑکے کپڑے پہن لو)۔ جتنی دیر میں میں نے اپنی برہنگی کو ڈھانپا اتنی دیر میں وہ اہلکار تفتیشی افسروں کو ہال کے ساتھ بنے ہوئے دفتر سے بلا لایا۔ وہ آتے ہی کرسیوں پر براجمان ہوئے اور کہا ’’مزاج درست ہوئے یا اور خدمت کی ضرورت ہے‘‘؟ کیا جواب دیتا۔ میری خاموشی پر وہ پھر بولا ’’کیا فیصلہ کیا تم نے؟ ہمارے سوالوں کے صحیح صحیح جواب دو گے، اپنے جرائم اور غداری کا اعتراف کرو گے یا کوئی اور نسخہ استعمال کیا جائے‘‘؟

’’میں تو قیدی ہوں،بے بس اور بے وسائل ۔ جو جی میں آئے کیجئے۔ جس مبینہ جرم میں شریک ہی نہیں اس کا اعتراف کیوں کروں گا۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میمن نے سوویت یونین اور بھارت سے پیسے لینے کا اعتراف کیا ہے تو بسمہ اللہ کیجئے۔ اسے میرے سامنے لائیں میں اس کے منہ پر کہنے کو تیار ہوں کہ اگر واقعتاََ ایسا ہوتا تھا تو مجھے اس کا علم نہیں‘‘۔ تفتیشی افسران میں سے ایک نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ’’اپنے ابا کے ولیمے میں آئے ہو جو تمہاری مہمان نوازی کرتے پھریں اور فرمائشیں پوری کریں۔ ٹر ٹر کرنے کی ضرورت نہیں۔ سیدھی بات کرو ہم سے تعاون کرو گے یا نہیں‘‘؟ میں نے کسی قسم کے تعاون اور غلط بیانی سے انکار کر دیا تو انہوں نے ایک اہلکار کو کہا ’’لٹکاؤ اس حرام کی اولاد کو۔ دیکھتے ہیں کتنا بڑا سورما ہے‘‘۔ دوسرا افسر کہنے لگا ’’لگتا ہے بھارتیوں نے اس کنجر کی بڑی زبردست تربیت کی ہے۔ دو مہینے سے مار کھا رہا ہے مگر جرائم کا اقرار نہیں کر رہا‘‘۔ جواب میں پہلے افسر نے کہا ’’وحید صاحب آپ دیکھتے جائیں یہ فر فر بولے گا۔ مجھے بہت تجربہ ہے اس جیسے کمینے حرامی غداروں سے سچ اگلوانے کا‘‘

ان کی گفتگو کے دوران ہی اہلکاروں نے میری دونوں ٹانگوں میں رسیاں باندھ کر مجھے الٹا لٹکا دیا ان کے اس عمل سے میری قمیض کے دامن نے میرے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ کچھ دیر بعد مجھے اسی افسر کی آواز سنائی دی ’’چلو بھئی دیکھ کیا رہے ہو، شروع ہو جاؤ‘‘حکم ملتے ہی ایک اہلکار نے میرے کولہوں پر ڈنڈے برسانے شروع کر دیئے اور دوسرا اہلکار کسی چیز سے میری چھاتی کے چند بال نوچ لیتا۔ کافی دیر تک ان کا تشدد جاری رہا۔ پھر یکدم تشدد کا سلسلہ بند ہوگیا۔ میرے کانوں میں ایک آواز پڑی۔ کوئی تشدد کرنے والے اہلکاروں سے کہہ رہا تھا ’’اس حرام زادے کو لٹکا رہنے دو۔ دیکھتے ہیں کتنا بہادر اور تربیت یافتہ ہے‘‘۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ تشدد کی اذیت سے بڑھ کر الٹا لٹکے رہنا ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کا ظاہر ہے میرے پاس کوئی حل نہیں تھا۔ پھر میں نے ان ساری قرآنی آیات کی تلاوت شروع کر دی جو مجھے زبانی یاد تھیں۔ اس کا ایک فائدہ ہوا کہ میرا ذہن دوسری طرف مصروف ہو گیا۔ کافی دیر بعد ایک اہلکار نے میرے چہرے پر پڑے قمیض کے دامن کو ہٹاتے ہوا کہا ’’شاہ! کیوں اپنی جان گنوانے پر تلے ہوئے ہو؟ کب تک بہادری کا ڈرامہ کرو گے؟ جو بات تم نے کل یا پرسوں تسلیم کر لینی ہے وہ آج مان لو‘‘۔ ’’کچھ کیا ہوتا تو مان بھی لوں‘‘ میں نے جواب دیا۔’’مطلب صاحب ٹھیک کہتے ہیں ،تم انتہائی تربیت یافتہ ہو۔ لیکن یہاں بھی سچ اگلوانے کے سو طریقے موجود ہیں‘‘ اس اہلکار نے کہا۔

میں نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا’’منہ سے کچھ بکو بھی، تیرے باپ کے نوکر نہیں ہم‘‘ گھنٹہ ڈیڑھ کے بعد وہ تفتیشی افسران دوبارہ آئے اور اہلکاروں سے پوچھنے لگے ’’کیا کہتا ہے تعاون کرے گا یا نہیں‘‘؟ ’’بڑا سخت جان ہے۔ اب بھی وہی بکواس ہے کہ مجھے کچھ معلوم نہیں‘‘۔ ’’اتارو نیچے اسے‘‘ اس افسر نے کہا۔اہلکاروں نے مجھے نیچے اتارا۔ ٹانگوں سے بندھی رسیاں کھول کر کھڑا کیا لیکن میں اپنے زور پر ہال کے فرش پر دھڑام کر کے گر گیا۔ کافی چوٹیں آئیں اس طرح گرنے سے۔ زیادہ چوٹ میرے ماتھے پر لگی کیونکہ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں وہی گرتے وقت ماتھے پر زور سے لگیں۔ گو اس سے چہرہ فرش پر لگنے سے محفوظ رہا پھر بھی خاصی چوٹ آئی۔ چند لمحوں بعد دو اہلکاروں نے پکڑکر مجھے فرش سے اٹھایا اور کھڑا کر دیا۔ یہ مرحلہ زیادہ اذیت ناک تھا۔ مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا۔ تفتیشی افسر کہنے لگا ’’ہاں بھئی کیا ارادے ہیں ؟ تم بولتے ہو یا ہم اپنا کام کریں‘‘؟میں کیا جواب دیتا، وہی دوبارہ بولا ’’چلو دیکھتے ہیں تم کتنی دیر اور بہادر بنتے ہو۔ ویسے میرا مشورہ ہے بلاوجہ مرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ پھر اس کے اشارے پر اہلکاروں نے مجھے فرش پر گرایا اور تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ ایک بار پھر بے ہوشی مقدر ہوئی مگر اس بار ہوش میں آیا تو اپنی کوٹھڑی میں پڑا ہوا تھا۔ سارے جسم میں شدید درد تھا خصوصاََ چھاتی اور کولہوں میں۔ اٹھ کر بیٹھنا محال تھا۔ کروٹ لے کر لیٹا تو بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے۔

قیدی کے طور پر پولیس تشدد کا ذائقہ بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں بھی چکھ چکا تھا۔ لیکن یہاں تو معاملہ عجیب تھا۔ پولیس والے تشدد کرتے تھے، گالیاں بھی دیتے تھے لیکن سیاسی قیدیوں پر تشدد کرتے ہوئے غالباََ ان کے ذہن میں یہ بات بھی ہوتی تھی کہ یہ حکومت مخالف ہیں ہمارے ذاتی دشمن نہیں۔ مگر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں سیاسی قیدیوں پر اس طرح تشدد کیا جاتا جیسے قیدی تفتیشی افسر کا ذاتی دشمن ہو۔اس پر ستم یہ کہ تفتیشی افسران مارشل لاء مخالف ان قیدیوں کو جنہیں لاہور کے شاہی قلعہ یا دوسرے تفتیشی مراکز منتقل کیا گیا تھا،کو مسلمان تو کیا انسان بھی سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ بلکہ ان تفتیشی مراکز میں لائے جانے والے سیاسی قیدیوں سے جنگی قیدیوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا۔ ضیاء دور کے ان افسران کا خیال تھا کہ غداروں کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوتی۔مارشل لاء کی مخالفت کرنے کرنے والے اصل میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یقیناََ ان کے پیچھے بھارت وغیرہ کا ہاتھ تھا۔ اللہ کی شان ہے امریکہ کی ایماء پر بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے والے آئین شکن جرنیل اور اس کے حواری جمہوریت کی بحالی پر ایمان رکھنے والوں کو ملک دشمن سمجھتے تھے۔ قانون، انصاف اوررحمدلی نام یا یوں کہہ لیجئے کہ انسانیت نام کی کوئی چیز ضیاء دور کے عقوبت خانوں کے اندر نہیں پھٹک پاتی تھی۔اوئے توئے کر کے تو افسر اور اہلکار سیاسی قیدیوں سے بات کرتے تھے۔ وہ ایک ہی بات پر بضد رہتے تھے کہ قیدی اپنی بات کہنے کی بجائے ان کے سوالوں کو مقدس کلمات کی طرح درست سمجھے اور بس اپنے جرم کا اقرار کر لے۔انکار سنتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ جاتے۔

ایسی فرعونیت سے کم از کم پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔ یہ تجربہ بھی پہلی بار ہوا تھا کہ کسی سوال پر اپنی مرضی کا جواب دینے کا مطلب تشدد کو دعوت دینا ہے۔ اس دن بھی میں کروٹ کے بل لیٹا یہی سوچتا رہا۔ آخر مجھ سے اس طرح کا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ انہی سوچوں کے دوران پہلی بار میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ میں اور کتنا تشدد برداشت کر سکتا ہوں؟ اس کا ایک ہی جواب تھا۔ اب برداشت یا عدم برداشت کا سوال ہی نہیں۔ اس اذیت ناک صورتحال سے نجات کی واحد صورت یہ تھی کہ میں تفتیشی افسران کی مرضی کے بیانات دے دوں۔ پھر اس جواب پر خود سے ہی بحث شروع کر دیتا کہ غلط بیانی کی ضرورت کیا ہے۔ جن کاموں میں شریک ہی نہیں رہا ان کا اعتراف کر کے پھندہ اپنے گلے میں کیوں ڈلواؤں؟ زندگی اور موت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر میری قسمت میں اس عقوبت خانے میں تشدد سے مرنا ہی لکھا ہے تو پھر جھوٹ بول کر چند روزہ زندگی کی بھیک لینے کا فائدہ؟ لیکن فوری طور پر جو دوسری بات ذہن میں آئی کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف جمہوریت پسندوں کی حمایت اپنے ضمیر کی آواز پر کی تھی۔ جو کام یا راستہ ہم نے خود منتخب کیا اس کے جواب میں جو کچھ ہو رہا تھا یا ہونے والا ہے اس کا ملبہ قسمت پر ڈالنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر سب قسمت کا لکھا تھا تو پھر ہماری انفرادی حیثیت کیا ہے؟ ذہن میں ایک سوال ابھرتا اور پھر بحث شروع ہو جاتی۔ اس بحث و تکرار کے دوران ہی مجھے نیند آگئی۔
جاری ہے۔۔۔

پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
987
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ - تیسری قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: