زندان کی چیخ ۔انتیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhجھوٹ فقط مارشل لاء کے تحت گرفتار ہونے والے سیاسی قیدیوں سے شاہی قلعہ، کورنگی کریک کیمپ اور دیگر تفتیشی مقامات پر تفتیش کرنے والے ہی نہیں بولتے تھے بلکہ ایک طرح سے پاکستان قومی اتحاد کی قیادت اور ان کے حامی صحافی جو مارشل لاء لگتے ہی جنرل ضیاء کے چرن چھو کر درباری مسخروں میں شامل ہو گئے تھے روزانہ شان سے بولتے اور لکھتے تھے۔ مثلاََ پی ٹی وی پر چلنے والے ’’ظلم کی داستان‘‘ نامی قسط وار ڈراموں میں ایک دن الطاف قریشی اور چند دوسرے ’’سبزے‘‘ یہ دہائی دے رہے تھے کہ قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کے دوران سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ ان کے اس الزام کے جواب میں میں نے بڑی محنت کرکے تفصیلات جمع کیں۔ ظاہر ہے زیادہ معاونت اس دور کے اخبارات سے حاصل ہوئی۔ کچھ شہروں میں مقیم دوستوں کے ذریعے ہی معلومات اکٹھی کی گئیں۔ جنوری یا فروری 1978ء میں ہفت روزہ ’’جدوجہد‘‘کراچی میں میری یہ تحریر شائع ہوئی جس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پی این اے کی قیادت جو یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کی تحریک کے دوران 86 افراد جاں بحق ہوئے ہیں تو وہ دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے مرحومین کی فہرست ولدیت اور ایڈریس کے ساتھ جاری کیوں نہیں کرتی؟ میں نے اس تحریر میں پروفیسر غفوراحمد کے ایک انٹرویو کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی این اے کی تحریک میں مرنے والے 86 کارکنوں میں صرف جماعتِ اسلامی کے 50 کارکن شامل تھے۔ یہ بھی عرض کیا کہ پی این اے کے جو رہنما اب یہ کہہ رہے ہیں کہ 86 افراد ہلاک ہوئے تھے وہ تحریک کے زمانے میں تو دعوے کرتے تھے کہ ریاستی فورسز نے سینکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ سچ کیا ہے؟ جلسوں میں کیا گیا دعویٰ یا اب کا اعتراف کہ 86 افراد ہلاک ہوئے تھے؟ مجھے یاد ہے کہ اس مضمون کی اشاعت کے بعد کراچی کے مارشل لاء حکام نے ’’جدوجہد‘‘ کے پرنٹر و پبلشر اور مضمون نگار یعنی مجھے نوٹس بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ’’جدوجہد میں ایسے مضمون شائع ہو رہے ہیں جن سے تحریک نظامِ مصطفیٰ کے شہدا کے لواحقین کی دل آزادری ہوتی ہے۔ کیوں نا جریدے اور مضمون نگار کے خلاف کاروائی کی جائے‘‘ سندھ اسمبلی کے اراکین کے لئے بنے ہاسٹل میں جلوہ افروز ایک کرنل صاحب کے دربار میں حاضری کے لئے بھی نوٹس میں تاکید کی گئی۔ وہاں پیش ہوئے تو کرنل صاحب پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہے تھے۔ طیب رفیق نے (طیب رفیق صاحب مجھ سے پہلے جدوجہد کے ایڈیٹر تھے میں اس وقت سب ایڈیٹر کے طور پر فرائض ادا کرتا تھا)نوٹس ملنے پر مجھ سے کہا تھا کہ ’’برخوردار! اب ان کا جواب بھی لکھو اور بھگتو بھی‘‘۔ اب لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں البتہ یہ یاد ہے کہ میں نے اپنے تحریری جواب میں لکھا تھا کہ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ریکارڈ کی درستگی ہے۔یہ کہ بھٹو مخالف تحریک میں کل 63 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پی این اے کا سینکڑوں ہلاکتوں یا 86افراد کی ہلاکت کا دعویٰ غلط ہے‘‘ سندھ اسمبلی کے ہاسٹل میں جب ہم کرنل کے دربار میں حاضر ہوئے تو انہوں نے میرے تحریری جواب کوایک نظر دیکھا اور کہنے لگے،’’لڑکے! تو تمہارا خیال ہے کہ ملک کے نامور سیاستدان، عالم دین اور دیگر شخصیات جھوٹ بول رہی ہیں اور تم سچے ہو‘‘؟ عرض کیا’’کسی کو جھوٹا نہیں کہا البتہ غلط اعداد و شمار پر گرفت کی ہے‘‘۔ وہ بلند آواز سے بولے’’کل کے لڑکے اب بزرگوں کے منہ کو آئیں گے۔ یہی تمہاری تربیت ہے‘‘؟ میں نے جواب دیا’’ کرنل صاحب جو لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ان کی تربیت بارے آپ کا کیا خیال ہے‘‘؟ صاحب بھڑک اٹھے اور کہنے لگے دو ماہ کے لئے تمہارے پرچے کی اشاعت معطل اور لکھ کر دو کہ آئندہ ایسا کوئی مضمون نہیں لکھو گے جو قومی اتحاد کے خلاف ہو‘‘۔ میں نے کہا’’ آپ بادشاہ ہیں جو بھی حکم کریں۔ البتہ لکھنے کے معاملے میں پابندی نہیں۔ ان کے حامی اخبارات و جرائد جھوٹ بولیں گے تو ہم بھی جواب دیں گے۔ یہ تاریخ کا معاملہ ہے ہمارا ذاتی جھگڑا نہیں‘‘۔ کرنل کا غصہ عروج پر پہنچ گیا۔ کہنے لگے’’تم تاریخ کے ماموں ہو یا خالو کہ بڑا خیال ہے تمہیں۔ دفع ہو جاؤ میرے دفتر سے۔ پھر ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک ماتحت کو کہا کہ 20ہزار کا ضمانتی مچلکہ طلب کرو جریدے کے مالک سے اور پرچے کی دوماہ کے لئے اشاعت معطل کرنے کا حکم جاری کرو۔ اگلے دن ہمیں دونوں احکامات مل گئے۔ ہم نے اگلے ہفتے’’ تبصرہ‘‘ کا پرچہ ’’جدوجہد‘‘ پر پابندی کے اشتہار کے ساتھ شائع کر دیا۔ اور اس پرچے میں اخبارات اور دوستوں کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کی بنا پر قومی اتحاد کی تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی فہرست شائع کر دی۔ مارشل لاء حکام نے ’’جدوجہد‘‘ کے پچھلے شمارے کے ساتھ تبصرہ کا یہ شمارہ بھی ضبط کر لیا۔ دوماہ کے دوران ہم نے ’’تبصرہ‘‘ اور ’’کردار‘‘ کے شمارے نکالے اور پھر تیسرے مہینے ’’جدوجہد‘‘ دوبارہ شروع کیا۔ لیکن ان دو ماہ کے دوران ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ہمارے دفتر کے اتنے چکر کاٹے کہ اتنی مرتبہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر حملے نہیں کئے ہوں گے۔
ہر بار وہ ہم سے ایک ہی سوال کرتے۔ ’’کی چھاپ رئے او جی؟‘‘ ہمارا جواب سن کر وہ کہتے،’’یار تم لوگ بندے کیوں نہیں بنتے؟ قومی اتحاد کی تحریک نے پاکستان اور اسلام کو بچا لیا ہے۔ ورنہ بھٹو تو پورے ملک کو تباہ کرنے پر تلا بیٹھا تھا‘‘۔ ایجنسیوں کے ان نابغے اہلکاروں کی باتوں پر ہنسی آتی تھی۔ (ویسے ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ 35 سال بعد بھی اس ملک میں کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ حکومت وقت کی مخالفت اور عسکری دانش کے نوری نتوں کے اعمال پر گرفت کو غداری ہی سمجھا جاتا ہے) صورتحال میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ اب بھی اگر آپ عسکری پالیسیوں، حکمت عملی اور اقدامات کے نتائج پر سوال اٹھائیں تو بھائیں بھائیں کرتا ایک پورا ریوڑ آپ پر ٹوٹ پڑے گا۔ جنرل ضیاء کا تاریک عہد ستم اس لئے خوفناک تھا کہ حکومتی کارندے اور مارشل لاء کے حامی بونے کھٹ سے اسلام اور پاکستان کا دشمن قرار دے دیتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ان رویوں پر ایک مضمون میں سوال کیا تھا کہ کیا پاکستان اس لئے بنا تھا کہ بٹوارے میں ملنے والے ’’تحفے ‘‘ہم زمین زادوں کو غدار کہتے پھریں اور قیامِ پاکستان کے مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھما دی جائے کہ وہ جس کا جب جی چاہے کافر قرار دے کر اس کی گردن مار دیں؟انہی دنوں میرے والد صاحب کے دوست اور ’’جسارت‘‘ کے ایڈیٹر جناب محمد صلاح الدین (مرحوم) نے ایک دن مجھے یاد کیا۔ بابا جان کے چند عزیز دوستوں میں شامل تھے صلاح الدین صاحب۔ ان کا حکم ٹالنے کا مجھ میں یارا نہیں تھا۔ سو ان کے پاس ’’جسارت‘‘ کے دفتر میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ بہت محبت سے پیش آئے۔ حال احوال دریافت کر چکنے کے بعد کہنے لگے’’صاحب زادے! یہ تم کیا کرتے پھر رہے ہو‘‘؟’’چچا حضور میں سمجھا نہیں‘‘کہنے لگے’’یہ جدوجہد والے طیب رفیق وغیرہ پکے دہرئیے ہیں۔ اسلام اور پاکستان کی دشمنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ میمن (جدوجہد کا مالک) سوویت یونین کا تنخواہ دار ہے۔ تمہارا ایک اچھے اور اعلیٰ نسب خاندان سے تعلق ہے۔ کیوں ان لوگوں کے ساتھ کام کر کے اپنے والد اور خاندان کو بدنام کر رہے ہو؟صحافت ہی کرنی ہے تو یہاں میرے پاس ’’جسارت‘‘ میں آجاؤ‘‘ صلاح الدین صاحب اپنی بات کہہ چکے تو ان کی خدمت میں عرض کیا’’میں ایسا کوئی کام نہیں کر رہا جس سے والد صاحب یا خاندان کی عزت پر حرف آئے۔ کیا آپ کو میرے بابا جان نے کچھ کہا میرے بارے میں‘‘؟ بولے’’نہیں بخاری صاحب نے تو کچھ نہیں کہا مگر میں بھی تو تمہارا بزرگ ہوں میرا فرض ہے کہ تمہیں سمجھاؤں‘‘۔ عرض کیا ’’چچا جان! آپ کا بہت شکریہ۔ میرے نزدیک طیب رفیق اور میمن صاحب بہت اچھے انسان اور مسلمان ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں وہاں نوکری کرتا ہوں۔ خوشی اس بات پر ہے کہ لکھنے اور سوچنے کی آزادی ہے‘‘۔ میری بات کاٹ کر بولے ’’صاحبزادے! تم جو فوج کے خلاف لکھتے ہو اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تم گھر سے بہت دور ہو۔ کوئی اونچ نیچ ہوئی تو بخاری صاحب مجھ سے شکوہ کریں گے‘‘ عرض کیا’’بالکل نہیں کریں گے۔ میں اپنے بابا جان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں‘‘۔صلاح الدین صاحب کہنے لگے’’اچھا یہ بتاؤ تم جماعت اسلامی کی مخالفت کیوں کرتے ہو‘‘؟جواب دیا’’یہ تو خالص نظریاتی معاملہ ہے۔ جماعتِ اسلامی فوج کے ساتھ ہے۔ مارشل لاء کی حمایت کر رہی ہے۔ ہم مارشل لاء کے مخالف ہیں‘‘۔ کہنے لگے’’بھٹو کے دور میں جو تم پر تشدد ہوا اور جیلیں کاٹیں وہ سب بھول گئے‘‘؟میں نے کہا’’اس وقت ان کی حکومت تھی۔ ممکن ہے انہیں ہماری باتیں غلط لگتی ہوں جیسے آج کی حکومت کو لگتی ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو صاحب کی حکومت سیاسی حکومت تھی۔ ان کی حکومت سے اختلاف بعض امور پر تھا۔ فوج نے تو جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ اس وقت ہر جمہوریت پسند کو مارشل لاء کی مخالفت کرنی چاہیے‘‘۔ صلاح الدین صاحب کہنے لگے’’جنرل ضیاء الحق صاحب سے اللہ تعالیٰ کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے‘‘۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا’’چچا جان! آپ ولی بھی ہوگئے؟ اور آسمانی خبریں بھی ملنے لگیں۔ مبارک ہو‘‘ کمال محبت سے کہنے لگے’’مطلب یہ ہوا کہ تم نہیں سدھرو گے۔ چلو ٹھیک ہے میں بخاری صاحب (میرے والد) سے بات کروں گا۔ تم چند دن بعد مجھے ملنا‘‘ ۔میں نے اس ملاقات کا ذکر میمن صاحب اور طیب رفیق سے کیا تو انہوں نے کہا’’وہ (صلاح الدین) تمہیں سرکار کا کارندہ بنوانا چاہتے ہیں‘‘ تڑخ کر میں نے جواب دیا’’بھڑوا بننے کے لئے صحافت شروع نہیں کی‘‘ دونوں نے میری بات پر قہقہہ لگایا اور پھر دیر تک ہنستے رہے۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1303
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔تینتیسویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: